<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Startup Recorder</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی اسٹارٹ اپ ابھی کا سعودی عرب کے این او ایکس گروپ سے اشتراک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290509/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے پہلے مالیاتی فلاحی پلیٹ فارم اور ایمبیڈڈ فن ٹیک ادارے ’’ابھی‘‘ نے سعودی عرب کے کاروباری گروپ این او ایکس گروپ کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ملازمین کو اے بی ایچ آئی کی ارنڈ ویج ایکسس (ای ڈبلیو اے) سہولت کے ذریعے زیادہ مالی لچک فراہم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شراکت داری کے تحت این او ایکس گروپ کے ملازمین اپنی مقررہ تنخواہ ملنے کی تاریخ سے قبل اپنی حاصل شدہ تنخواہ کا ایک حصہ حقیقی وقت میں حاصل کرسکیں گے، جس سے انہیں نقدی کے بہاؤ پر زیادہ کنٹرول اور اپنی مالی ضروریات پوری کرنے میں سہولت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شراکت داری کے حوالے سے ابھی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمیر انصاری نے کہا کہ مالی بہبود کا آغاز پہلے سے کمائی گئی آمدنی پر زیادہ اختیار رکھنے سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ابھی کا ماننا ہے کہ ملازمین کو مقررہ تنخواہ کی تاریخ کا پابند ہونے کے بجائے ضرورت کے وقت اپنی حاصل شدہ اجرت تک رسائی کی سہولت ملنی چاہیے۔ این او ایکس گروپ کے ساتھ شراکت داری ایک ایسے معاون ماحول کے قیام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے جہاں مالی لچک ملازمت کا اہم حصہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق سعودی عرب وژن 2030 کے مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کے باعث آجر روایتی معاوضے سے آگے بڑھ کر ملازمین کے لیے زیادہ جامع سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی میں مالی بہبود اہم حیثیت اختیار کر رہی ہے اور آجر ملازمین کو زیادہ مالی لچک اور معاونت فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی ایک مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں مالی سہولیات تک بہتر رسائی کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر رہی ہے۔ اس کی خدمات میں ارنڈ ویج ایکسس، پے رول پراسیسنگ، پے رول فنانسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے فنانسنگ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمیر انصاری اور علی لادھوبھائی نے 2021 میں ابھی  کی بنیاد رکھی تھی۔ کمپنی نے پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی اور خطے میں 7,000 سے زائد کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے 10 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں ابھی  بینک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ اور ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے تقریباً 2 سے 3 ارب روپے حاصل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ایک ایسے بینک کے حصول اور اس کی بحالی کے تقریباً 18 ماہ بعد کیا گیا جسے کمپنی نے ایک بحالی کے محتاج بینک کے طور پر حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے پہلے مالیاتی فلاحی پلیٹ فارم اور ایمبیڈڈ فن ٹیک ادارے ’’ابھی‘‘ نے سعودی عرب کے کاروباری گروپ این او ایکس گروپ کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ملازمین کو اے بی ایچ آئی کی ارنڈ ویج ایکسس (ای ڈبلیو اے) سہولت کے ذریعے زیادہ مالی لچک فراہم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>شراکت داری کے تحت این او ایکس گروپ کے ملازمین اپنی مقررہ تنخواہ ملنے کی تاریخ سے قبل اپنی حاصل شدہ تنخواہ کا ایک حصہ حقیقی وقت میں حاصل کرسکیں گے، جس سے انہیں نقدی کے بہاؤ پر زیادہ کنٹرول اور اپنی مالی ضروریات پوری کرنے میں سہولت ملے گی۔</p>
<p>شراکت داری کے حوالے سے ابھی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمیر انصاری نے کہا کہ مالی بہبود کا آغاز پہلے سے کمائی گئی آمدنی پر زیادہ اختیار رکھنے سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ابھی کا ماننا ہے کہ ملازمین کو مقررہ تنخواہ کی تاریخ کا پابند ہونے کے بجائے ضرورت کے وقت اپنی حاصل شدہ اجرت تک رسائی کی سہولت ملنی چاہیے۔ این او ایکس گروپ کے ساتھ شراکت داری ایک ایسے معاون ماحول کے قیام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے جہاں مالی لچک ملازمت کا اہم حصہ ہو۔</p>
<p>بیان کے مطابق سعودی عرب وژن 2030 کے مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کے باعث آجر روایتی معاوضے سے آگے بڑھ کر ملازمین کے لیے زیادہ جامع سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی میں مالی بہبود اہم حیثیت اختیار کر رہی ہے اور آجر ملازمین کو زیادہ مالی لچک اور معاونت فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>ابھی ایک مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں مالی سہولیات تک بہتر رسائی کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر رہی ہے۔ اس کی خدمات میں ارنڈ ویج ایکسس، پے رول پراسیسنگ، پے رول فنانسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے فنانسنگ شامل ہیں۔</p>
<p>عمیر انصاری اور علی لادھوبھائی نے 2021 میں ابھی  کی بنیاد رکھی تھی۔ کمپنی نے پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی اور خطے میں 7,000 سے زائد کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے 10 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>اگست میں ابھی  بینک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ اور ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے تقریباً 2 سے 3 ارب روپے حاصل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ایک ایسے بینک کے حصول اور اس کی بحالی کے تقریباً 18 ماہ بعد کیا گیا جسے کمپنی نے ایک بحالی کے محتاج بینک کے طور پر حاصل کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290509</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 16:58:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/27164546e5ab6c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/27164546e5ab6c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
