<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کا بڑھتا انحصار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290407/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے گزشتہ جمعرات کو انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پٹرولیم ڈویژن محض بجٹ کے اہداف پورے کرنے کے لیے حد سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے اور مالی مداخلت کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتا، کیونکہ اس شعبے کی پائیداری بھی اتنی ہی اہم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز بعد جمعہ کو قومی اسمبلی میں تحریری جواب دیتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ رواں سال پٹرولیم لیوی سے 1.676 ٹریلین روپے حاصل ہونے کا بجٹ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکا اسرائیل کے حملے کے ابتدائی ہفتوں میں صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے لیوی کم کی گئی تھی، تاہم منظور شدہ بجٹ کے ہدف کے مطابق اسے مرحلہ وار دوبارہ بحال کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس بحالی کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا دباؤ ہے تاکہ حکام جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کی پابندی کریں۔ بالخصوص اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بجٹ میں مقرر کردہ آمدنی حاصل ہو، بجٹ میں شامل نہ کیے گئے کسی اخراجات کی منظوری نہ دی جائے، جس میں سبسڈی میں اضافہ بھی شامل ہے، اور اضافی اخراجات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پٹرولیم کے تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دونوں مصنوعات پر اب یہ 80 روپے فی لیٹر ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلنگ اسٹیشن پر حالیہ قیمتوں میں اضافے کی ایک اضافی وجہ اس معاہدے سے بھی منسوب کی جاتی ہے جو علی پرویز ملک نے وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کیا تھا، جس نے ملک گیر ہڑتال شروع کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں، ایکسل لوڈ کی حد، جو صوبائی معاملہ ہے، اور ٹول ٹیکس کے حوالے سے کامیاب مذاکرات کے بعد 16 اگست کو اپنی ملک گیر ہڑتال 40 دن کے لیے معطل کردی تھی، تاکہ طے پانے والے مرحلہ وار معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس معاہدے میں وزیر مواصلات علیم خان نے ثالثی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدے واضح طور پر علی پرویز ملک کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں، تاہم یہ امر اہم ہے کہ انہوں نے کانفرنس میں اس بات کے حق میں مؤقف اختیار کرنے کا موقع حاصل کیا کہ پٹرولیم شعبے پر ٹیکسوں کا غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، کیونکہ اس کے افراطِ زر پر اثرات اور اس کے نتیجے میں عام عوام کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت پر پڑنے والے منفی اثرات سے روزگار کی سطح بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی پر بڑھتا ہوا انحصار ہر بعد کے بجٹ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، لیوی کو غلط طور پر دیگر ٹیکسوں کے تحت شمار کیا جاتا ہے، یعنی ایسے ٹیکس جو قابل تقسیم محاصل کے پول کا حصہ نہیں ہوتے اور جنہیں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنا پڑتا ہے، حالانکہ لیوی واضح طور پر عام عوام کی جانب سے ادا کیا جانے والا سیلز ٹیکس ہے اور یہ قابل تقسیم محاصل کے پول کا حصہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، اور اتنا ہی تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ٹیکس ہے جسے وصول کرنا آسان ہے، کیونکہ پٹرول پمپس ودہولڈنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کردار بہت محدود ہے، جو محض خزانے میں لیوی کی ادائیگی کی نگرانی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو یقیناً اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہے، جو ناقابل قبول حد تک بلند سطح ہے۔ لیوی میں کوئی بھی اضافہ نہ صرف ان افراد کے ہر کمائے گئے روپے کی قوت خرید کو کم کرتا ہے جو اپنی گاڑیوں کے لیے پٹرول خریدتے ہیں بلکہ ان افراد کو بھی متاثر کرتا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومت کو ٹیکس کے ڈھانچے میں اصلاحات کرنے کی فوری ضرورت ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس، پر انحصار کا بوجھ براہ راست ٹیکسوں، یعنی آمدنی اور کرائے پر عائد ٹیکسوں کی جانب منتقل کرنا چاہیے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے، جبکہ براہ راست ٹیکس عائد کرنے کا اصول ادائیگی کی استطاعت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے گزشتہ جمعرات کو انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پٹرولیم ڈویژن محض بجٹ کے اہداف پورے کرنے کے لیے حد سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے اور مالی مداخلت کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتا، کیونکہ اس شعبے کی پائیداری بھی اتنی ہی اہم ہے۔</strong></p>
<p>ایک روز بعد جمعہ کو قومی اسمبلی میں تحریری جواب دیتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ رواں سال پٹرولیم لیوی سے 1.676 ٹریلین روپے حاصل ہونے کا بجٹ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکا اسرائیل کے حملے کے ابتدائی ہفتوں میں صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے لیوی کم کی گئی تھی، تاہم منظور شدہ بجٹ کے ہدف کے مطابق اسے مرحلہ وار دوبارہ بحال کردیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس بحالی کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا دباؤ ہے تاکہ حکام جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کی پابندی کریں۔ بالخصوص اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بجٹ میں مقرر کردہ آمدنی حاصل ہو، بجٹ میں شامل نہ کیے گئے کسی اخراجات کی منظوری نہ دی جائے، جس میں سبسڈی میں اضافہ بھی شامل ہے، اور اضافی اخراجات مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیے جائیں۔</p>
<p>وزیر پٹرولیم کے تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دونوں مصنوعات پر اب یہ 80 روپے فی لیٹر ہوچکی ہے۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلنگ اسٹیشن پر حالیہ قیمتوں میں اضافے کی ایک اضافی وجہ اس معاہدے سے بھی منسوب کی جاتی ہے جو علی پرویز ملک نے وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کیا تھا، جس نے ملک گیر ہڑتال شروع کردی تھی۔</p>
<p>تاہم آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں، ایکسل لوڈ کی حد، جو صوبائی معاملہ ہے، اور ٹول ٹیکس کے حوالے سے کامیاب مذاکرات کے بعد 16 اگست کو اپنی ملک گیر ہڑتال 40 دن کے لیے معطل کردی تھی، تاکہ طے پانے والے مرحلہ وار معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس معاہدے میں وزیر مواصلات علیم خان نے ثالثی کی تھی۔</p>
<p>یہ معاہدے واضح طور پر علی پرویز ملک کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں، تاہم یہ امر اہم ہے کہ انہوں نے کانفرنس میں اس بات کے حق میں مؤقف اختیار کرنے کا موقع حاصل کیا کہ پٹرولیم شعبے پر ٹیکسوں کا غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، کیونکہ اس کے افراطِ زر پر اثرات اور اس کے نتیجے میں عام عوام کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت پر پڑنے والے منفی اثرات سے روزگار کی سطح بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی پر بڑھتا ہوا انحصار ہر بعد کے بجٹ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔</p>
<p>اول، لیوی کو غلط طور پر دیگر ٹیکسوں کے تحت شمار کیا جاتا ہے، یعنی ایسے ٹیکس جو قابل تقسیم محاصل کے پول کا حصہ نہیں ہوتے اور جنہیں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنا پڑتا ہے، حالانکہ لیوی واضح طور پر عام عوام کی جانب سے ادا کیا جانے والا سیلز ٹیکس ہے اور یہ قابل تقسیم محاصل کے پول کا حصہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>دوم، اور اتنا ہی تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ٹیکس ہے جسے وصول کرنا آسان ہے، کیونکہ پٹرول پمپس ودہولڈنگ ایجنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کردار بہت محدود ہے، جو محض خزانے میں لیوی کی ادائیگی کی نگرانی کر سکتا ہے۔</p>
<p>حکومت کو یقیناً اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہے، جو ناقابل قبول حد تک بلند سطح ہے۔ لیوی میں کوئی بھی اضافہ نہ صرف ان افراد کے ہر کمائے گئے روپے کی قوت خرید کو کم کرتا ہے جو اپنی گاڑیوں کے لیے پٹرول خریدتے ہیں بلکہ ان افراد کو بھی متاثر کرتا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا حکومت کو ٹیکس کے ڈھانچے میں اصلاحات کرنے کی فوری ضرورت ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس، پر انحصار کا بوجھ براہ راست ٹیکسوں، یعنی آمدنی اور کرائے پر عائد ٹیکسوں کی جانب منتقل کرنا چاہیے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے، جبکہ براہ راست ٹیکس عائد کرنے کا اصول ادائیگی کی استطاعت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290407</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Aug 2026 10:27:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/25102510c281679.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1023">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/25102510c281679.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
