<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی نے کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج کے ذریعے پٹرولیم درآمدات کی اجازت دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290402/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو پی آئی اے آئی ایل اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان طے پانے والی ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین ڈالر کی حکومتی گارنٹی کی منظوری دے دی، جبکہ کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت بھی دے دی۔ کمیٹی نے ملک کی انرجی سیکیورٹی اور پٹرولیم سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور عمان کی او کیو ٹریڈنگ کے درمیان نئے سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹ (ایس پی اے) کی بھی منظوری دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ پاسکو کے گندم کے اسٹاکس تمام وصول کنندہ ایجنسیوں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد امپورٹڈ گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی سمری پر غور کرتے ہوئے منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز پاسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش پر مبنی تھی، جس کا مقصد امپورٹڈ گندم کے اسٹاک کو بروقت ڈسپوزل کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر بھی غور کیا اور فارن سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے پٹرولیم پروڈکٹس امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز کا مقصد آئل اینڈ گیس سیکٹر میں ملک کی انرجی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کے اہم ستونوں کو ڈیولپ اور مضبوط بنانا ہے، جن میں انڈیجنائزیشن، اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز کی ڈیولپمنٹ اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کا فروغ شامل ہے، تاکہ ایک ریزیلینٹ اور سسٹین ایبل پٹرولیم سپلائی چین یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان حکومت اور سلطنت عمان کے درمیان پہلے سے طے شدہ انٹر گورنمنٹل ایگریمنٹ (آئی جی اے) کے تحت سیل اینڈ پرچز ایگریمنٹ (ایس پی اے) کی منظوری دے دی۔ اس ایگریمنٹ کا مقصد انرجی کے شعبے میں او کیو ٹریڈنگ اور پی ایس او کے درمیان کوآپریشن کو فروغ اور ڈیولپ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ڈیفنس ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کرتے ہوئے روزویلٹ ہوٹل کی ری ڈیولپمنٹ کے لیے یونین کے ساتھ کوآرڈینیشن کے ذریعے سیٹلمنٹ پر نیگوشی ایٹ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے ڈیفنس ڈویژن کی ایک اور سمری پر غور کرتے ہوئے پی آئی اے ای ایل اور نیشل بینک کے درمیان طے پانے والی ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین ڈالر (پاکستانی روپے کے مساوی) کی حکومت پاکستان کی گارنٹی کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے واٹر ریسورسز ڈویژن کی جانب سے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم ( کے فور) کے لیے 7,797.160 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی تجویز بھی منظور کرلی۔ یہ رقم حکومت سندھ نے پروونشل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے ذریعے منتقل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے انٹیریئر اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ 567.032 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی تجویز بھی منظور کرلی۔ یہ رقم فنانس ڈویژن کی سیونگز سے فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) کو ریکو ڈک پروجیکٹ کی ایکٹیویٹیز کی سیکیورٹی کے مؤثر انتظام کے لیے فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو پی آئی اے آئی ایل اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان طے پانے والی ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین ڈالر کی حکومتی گارنٹی کی منظوری دے دی، جبکہ کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت بھی دے دی۔ کمیٹی نے ملک کی انرجی سیکیورٹی اور پٹرولیم سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور عمان کی او کیو ٹریڈنگ کے درمیان نئے سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹ (ایس پی اے) کی بھی منظوری دی۔</strong></p>
<p>کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔</p>
<p>ای سی سی نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ پاسکو کے گندم کے اسٹاکس تمام وصول کنندہ ایجنسیوں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد امپورٹڈ گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی سمری پر غور کرتے ہوئے منظوری دے دی۔</p>
<p>یہ تجویز پاسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش پر مبنی تھی، جس کا مقصد امپورٹڈ گندم کے اسٹاک کو بروقت ڈسپوزل کرنا تھا۔</p>
<p>ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر بھی غور کیا اور فارن سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے پٹرولیم پروڈکٹس امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>اس تجویز کا مقصد آئل اینڈ گیس سیکٹر میں ملک کی انرجی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کے اہم ستونوں کو ڈیولپ اور مضبوط بنانا ہے، جن میں انڈیجنائزیشن، اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز کی ڈیولپمنٹ اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کا فروغ شامل ہے، تاکہ ایک ریزیلینٹ اور سسٹین ایبل پٹرولیم سپلائی چین یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان حکومت اور سلطنت عمان کے درمیان پہلے سے طے شدہ انٹر گورنمنٹل ایگریمنٹ (آئی جی اے) کے تحت سیل اینڈ پرچز ایگریمنٹ (ایس پی اے) کی منظوری دے دی۔ اس ایگریمنٹ کا مقصد انرجی کے شعبے میں او کیو ٹریڈنگ اور پی ایس او کے درمیان کوآپریشن کو فروغ اور ڈیولپ کرنا ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ڈیفنس ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کرتے ہوئے روزویلٹ ہوٹل کی ری ڈیولپمنٹ کے لیے یونین کے ساتھ کوآرڈینیشن کے ذریعے سیٹلمنٹ پر نیگوشی ایٹ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔</p>
<p>ای سی سی نے ڈیفنس ڈویژن کی ایک اور سمری پر غور کرتے ہوئے پی آئی اے ای ایل اور نیشل بینک کے درمیان طے پانے والی ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین ڈالر (پاکستانی روپے کے مساوی) کی حکومت پاکستان کی گارنٹی کی منظوری دے دی۔</p>
<p>کمیٹی نے واٹر ریسورسز ڈویژن کی جانب سے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم ( کے فور) کے لیے 7,797.160 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی تجویز بھی منظور کرلی۔ یہ رقم حکومت سندھ نے پروونشل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے ذریعے منتقل کی تھی۔</p>
<p>ای سی سی نے انٹیریئر اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ 567.032 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی تجویز بھی منظور کرلی۔ یہ رقم فنانس ڈویژن کی سیونگز سے فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) کو ریکو ڈک پروجیکٹ کی ایکٹیویٹیز کی سیکیورٹی کے مؤثر انتظام کے لیے فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290402</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Aug 2026 09:20:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/25091810b0be5f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/25091810b0be5f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
