<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی ایران سے تعلقات ختم کرنے کی تنبیہ، بصورتِ دیگر ثانوی پابندیوں کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کو ایران کے ساتھ دنیا بھر میں کاروباری تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک پر عائد کی جانے والی ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچنے پر واشنگٹن نے تہران پر اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس اقدام کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد ممالک کو آخری تنبیہ دینا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کردیں، بصورت دیگر انہیں اپنی اہم کمپنیوں اور اداروں کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کے خطرے کا سامنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ نے کہا، ’’ہم دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط کے خلاف اقتصادی یلغار شروع کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ایران کے اس آمرانہ نظام کو سہارا دینے والی ہر اقتصادی شہ رگ کاٹ دینا ہے تاکہ تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ نے ان نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مالیاتی ذرائع کی نشاندہی کی ہے جنہیں ایران تیل کی اسمگلنگ اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ محکمہ نے کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی ’’غیرقانونی آمدنی‘‘ کے ہر ذریعے کو نشانہ بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ خزانہ نے کہا کہ اس نے پانچ شعبوں، یعنی ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور شپنگ کے حوالے سے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے ذریعے ایرانی حکومت اپنی معیشت کو سہارا دے رہی ہے۔ محکمہ خزانہ نے تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کئی برس سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور واشنگٹن نے چینی خریداریوں کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے، تاہم اب تک ان بڑے چینی بینکوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے سے گریز کیا ہے جو تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ساتھ ٹرمپ کی جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ شدید لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور آبنائے ہرمز سے تیل اور خام مال کی ترسیل بدستور رکی ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز/اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت بھی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور صرف 33 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات کی قیمت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کئی دہائیوں سے ایران پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، جن میں زیادہ تر کا مقصد ایرانی تیل کی آمدنی، ہوا بازی کے شعبے، کرپٹو کرنسی، ہتھیاروں کے پرزوں اور دیگر فوجی سازوسامان کے حصول کو محدود کرنا اور ایرانی معیشت میں بااثر کردار رکھنے والی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک کاروباری اداروں کی مالی معاونت روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کے تحت نامزد اداروں کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کردیا جاتا ہے، تاہم ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے نئی فرنٹ کمپنیاں، دیگر ادارے اور بحری جہازوں کی نئی رجسٹریشنز تیزی سے قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کو ایران کے ساتھ دنیا بھر میں کاروباری تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک پر عائد کی جانے والی ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچنے پر واشنگٹن نے تہران پر اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔</strong></p>
<p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس اقدام کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد ممالک کو آخری تنبیہ دینا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کردیں، بصورت دیگر انہیں اپنی اہم کمپنیوں اور اداروں کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کے خطرے کا سامنا ہوگا۔</p>
<p>بیسنٹ نے کہا، ’’ہم دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط کے خلاف اقتصادی یلغار شروع کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ایران کے اس آمرانہ نظام کو سہارا دینے والی ہر اقتصادی شہ رگ کاٹ دینا ہے تاکہ تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے۔‘‘</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ نے ان نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مالیاتی ذرائع کی نشاندہی کی ہے جنہیں ایران تیل کی اسمگلنگ اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ محکمہ نے کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی ’’غیرقانونی آمدنی‘‘ کے ہر ذریعے کو نشانہ بنائے گا۔</p>
<p>محکمہ خزانہ نے کہا کہ اس نے پانچ شعبوں، یعنی ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور شپنگ کے حوالے سے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے ذریعے ایرانی حکومت اپنی معیشت کو سہارا دے رہی ہے۔ محکمہ خزانہ نے تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں۔</p>
<p>چین کئی برس سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور واشنگٹن نے چینی خریداریوں کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے، تاہم اب تک ان بڑے چینی بینکوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے سے گریز کیا ہے جو تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ایران کے ساتھ ٹرمپ کی جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ شدید لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور آبنائے ہرمز سے تیل اور خام مال کی ترسیل بدستور رکی ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔</p>
<p>رائٹرز/اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت بھی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور صرف 33 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات کی قیمت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔</p>
<p>امریکا کئی دہائیوں سے ایران پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، جن میں زیادہ تر کا مقصد ایرانی تیل کی آمدنی، ہوا بازی کے شعبے، کرپٹو کرنسی، ہتھیاروں کے پرزوں اور دیگر فوجی سازوسامان کے حصول کو محدود کرنا اور ایرانی معیشت میں بااثر کردار رکھنے والی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک کاروباری اداروں کی مالی معاونت روکنا ہے۔</p>
<p>پابندیوں کے تحت نامزد اداروں کو ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کردیا جاتا ہے، تاہم ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے نئی فرنٹ کمپنیاں، دیگر ادارے اور بحری جہازوں کی نئی رجسٹریشنز تیزی سے قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290397</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Aug 2026 23:23:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2423182545830e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2423182545830e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
