<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیٹی بندر پورٹ کے پہلے مرحلے کی لاگت کا تخمینہ 522 ملین ڈالر لگایا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیٹی بندر پورٹ کے پہلے مرحلے کی ترقیاتی لاگت کا تخمینہ تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا جب کہ منصوبے میں 500 میٹر طویل برتھ پر مشتمل کثیر المقاصد ٹرمینل بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کی جانب سے مجوزہ کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کے حوالے سے دی گئی پریزنٹیشن کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وفد نے کیٹی بندر پورٹ کا تصوراتی ماسٹر پلان پیش کیا جس میں متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس اور معاون بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک نئے گہرے پانی کے سمندری گیٹ وے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل برتھ  پر مشتمل کثیر المقاصد ٹرمینل شامل ہے جبکہ ابتدائی انجینئرنگ لاگت کا تخمینہ تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وفد میں پاکستان میں سی ایچ ای سی کے چیف نمائندے وو پنگ، مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ وانگ زونگ ڈے اور انجینئر شو تیے لِن کے علاوہ سٹریٹجی اینڈ مارکیٹنگ کے جنرل منیجر علی رضا شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور بحری ترقی میں تعاون کے لیے چین کی مسلسل دلچسپی کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کیلئے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو قابلِ اعتماد سڑکوں کے رابطے، بجلی و پانی کی فراہمی، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری سہولتوں سے منسلک کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت نے کہا کہ کیٹی بندر میں ایک اضافی بحری گیٹ وے کے طور پر نمایاں صلاحیت موجود ہے جو پاکستان کے پورٹ اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے، رابطہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے چینی فریق اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان قریبی تکنیکی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی پائیداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے بالخصوص دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور مقامی ماہی گیر برادریوں کے مفادات اور روزگار کو مدنظر رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت نے ماسٹر پلان کو مزید بہتر بنانے اور اس پر عملدرآمد و مالی معاونت کے مناسب طریقہ کار کی نشاندہی کے لیے مسلسل تکنیکی مشاورت کی حوصلہ افزائی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیٹی بندر پورٹ کے پہلے مرحلے کی ترقیاتی لاگت کا تخمینہ تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا جب کہ منصوبے میں 500 میٹر طویل برتھ پر مشتمل کثیر المقاصد ٹرمینل بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>پیر کو جاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کی جانب سے مجوزہ کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کے حوالے سے دی گئی پریزنٹیشن کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>چینی وفد نے کیٹی بندر پورٹ کا تصوراتی ماسٹر پلان پیش کیا جس میں متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس اور معاون بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک نئے گہرے پانی کے سمندری گیٹ وے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل برتھ  پر مشتمل کثیر المقاصد ٹرمینل شامل ہے جبکہ ابتدائی انجینئرنگ لاگت کا تخمینہ تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔</p>
<p>چینی وفد میں پاکستان میں سی ایچ ای سی کے چیف نمائندے وو پنگ، مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ وانگ زونگ ڈے اور انجینئر شو تیے لِن کے علاوہ سٹریٹجی اینڈ مارکیٹنگ کے جنرل منیجر علی رضا شامل تھے۔</p>
<p>چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور بحری ترقی میں تعاون کے لیے چین کی مسلسل دلچسپی کو سراہا۔</p>
<p>صدر زرداری نے کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کیلئے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو قابلِ اعتماد سڑکوں کے رابطے، بجلی و پانی کی فراہمی، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری سہولتوں سے منسلک کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>صدر مملکت نے کہا کہ کیٹی بندر میں ایک اضافی بحری گیٹ وے کے طور پر نمایاں صلاحیت موجود ہے جو پاکستان کے پورٹ اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے، رابطہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے چینی فریق اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان قریبی تکنیکی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی پائیداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے بالخصوص دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور مقامی ماہی گیر برادریوں کے مفادات اور روزگار کو مدنظر رکھا جائے۔</p>
<p>صدر مملکت نے ماسٹر پلان کو مزید بہتر بنانے اور اس پر عملدرآمد و مالی معاونت کے مناسب طریقہ کار کی نشاندہی کے لیے مسلسل تکنیکی مشاورت کی حوصلہ افزائی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290377</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Aug 2026 13:36:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/24133054e626ac9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/24133054e626ac9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
