<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا خلیجی ممالک کیلئے بانڈڈ آئل اسٹوریج قائم کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290362/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی پہلی کمرشل بانڈڈ آئل اسٹوریج سہولت قائم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے تحت خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے ادارے اور عالمی کموڈیٹی ٹریڈرز پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرکے انہیں بعد ازاں دوسرے ممالک کو برآمد کرسکیں گے، جبکہ ہنگامی صورتحال میں پاکستان کو بھی ان ذخائر میں سے کچھ مصنوعات استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد پاکستان کو خطے میں تیل ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کا مرکز بنانا اور ملکی ایندھن کی سلامتی مضبوط کرنا ہے۔ یہ معاملہ آج پیر کو منظوری کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وہ ہفتے کو بزنس ریکارڈر فورم کے زیر اہتمام ’’ریاستی کنٹرول سے مسابقت تک: پاکستان کے توانائی شعبے پر نظرثانی‘‘ کے عنوان سے گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی باقاعدہ قومی اسٹریٹجک آئل ریزرو موجود نہیں اور کسی بڑے عالمی سپلائی بحران کی صورت میں ملک مکمل طور پر کمرشل ذخائر پر انحصار کرتا ہے۔ موجودہ قواعد کے تحت ریفائنریوں کو 5 سے 7 دن کی خام تیل کی ضروریات کے برابر ذخائر رکھنا ہوتے ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 20 سے 25 دن کے ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر برقرار رکھنے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت گیس سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے، سوئی کمپنیوں کی تنظیم نو اور انہیں الگ الگ اداروں میں تقسیم کرنے کے ساتھ بتدریج سنگل مارکیٹ کلیئرنگ پرائس کی جانب بڑھنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔ یہ اصلاحات ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت سے تیار کیے جانے والے روڈ میپ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور توانائی سے متعلق کاروبار الگ کرنے کی تجویز پر ورلڈ بینک حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔ اصلاحات کے تحت مسابقتی گیس مارکیٹ کے قیام اور اوگرا کے ریگولیٹری کردار کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل این جی کے حوالے سے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان بلاتعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے قطر کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گا اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی گیس کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر ڈیٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیرف میں اضافہ کیے بغیر اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ مشن کی آمد کے بعد مسئلے کے حل کا طریقہ کار متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایل پی جی کے موجودہ کوٹہ نظام کو شفاف مسابقتی بولی کے نظام سے تبدیل کیا جائے گا، جبکہ 5 ٹن کے لاٹس پہلے ہی پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرائے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایتھنول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پیما) کے چیئرمین چوہدری محمد وحید نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ملکی ایتھنول انڈسٹری اور فیول میں ایتھنول کی بلینڈنگ پالیسی پر غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی طور پر قابل عمل ہونے کی شرط پر رضاکارانہ ایتھنول بلینڈنگ پالیسی کی اجازت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لمز کے پروفیسر ڈاکٹر نوید ارشد نے خبردار کیا کہ واضح اور طویل مدتی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو پاکستان کو بار بار انرجی کرائسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حبکو کے چیف ایگزیکٹو کامران کمال نے سرکلر ڈیٹ، بلند بجلی ٹیرف اور فرسودہ ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کو انرجی سیکٹر کے بڑے مسائل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایٹڈ گروپ کے سی ایف او محمد کاشف نے گیس سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور ایل این جی امپورٹس میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت بڑھانے پر زور دیا، جبکہ زیڈ آئی سی آئل کے کنٹری ہیڈ سلمان سلیم نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش مالی مشکلات اور پالیسی غیر یقینی کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیسکو کے ڈائریکٹر عادل بشیر اور کِکس آئل کے مینجنگ ڈائریکٹر نے بھی فورم میں اپنے مؤقف پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی پہلی کمرشل بانڈڈ آئل اسٹوریج سہولت قائم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے تحت خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے ادارے اور عالمی کموڈیٹی ٹریڈرز پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرکے انہیں بعد ازاں دوسرے ممالک کو برآمد کرسکیں گے، جبکہ ہنگامی صورتحال میں پاکستان کو بھی ان ذخائر میں سے کچھ مصنوعات استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد پاکستان کو خطے میں تیل ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کا مرکز بنانا اور ملکی ایندھن کی سلامتی مضبوط کرنا ہے۔ یہ معاملہ آج پیر کو منظوری کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وہ ہفتے کو بزنس ریکارڈر فورم کے زیر اہتمام ’’ریاستی کنٹرول سے مسابقت تک: پاکستان کے توانائی شعبے پر نظرثانی‘‘ کے عنوان سے گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی باقاعدہ قومی اسٹریٹجک آئل ریزرو موجود نہیں اور کسی بڑے عالمی سپلائی بحران کی صورت میں ملک مکمل طور پر کمرشل ذخائر پر انحصار کرتا ہے۔ موجودہ قواعد کے تحت ریفائنریوں کو 5 سے 7 دن کی خام تیل کی ضروریات کے برابر ذخائر رکھنا ہوتے ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 20 سے 25 دن کے ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر برقرار رکھنے ہوتے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت گیس سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے، سوئی کمپنیوں کی تنظیم نو اور انہیں الگ الگ اداروں میں تقسیم کرنے کے ساتھ بتدریج سنگل مارکیٹ کلیئرنگ پرائس کی جانب بڑھنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔ یہ اصلاحات ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت سے تیار کیے جانے والے روڈ میپ کا حصہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور توانائی سے متعلق کاروبار الگ کرنے کی تجویز پر ورلڈ بینک حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔ اصلاحات کے تحت مسابقتی گیس مارکیٹ کے قیام اور اوگرا کے ریگولیٹری کردار کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>ایل این جی کے حوالے سے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان بلاتعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے قطر کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گا اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی گیس کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>سرکلر ڈیٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیرف میں اضافہ کیے بغیر اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ مشن کی آمد کے بعد مسئلے کے حل کا طریقہ کار متوقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایل پی جی کے موجودہ کوٹہ نظام کو شفاف مسابقتی بولی کے نظام سے تبدیل کیا جائے گا، جبکہ 5 ٹن کے لاٹس پہلے ہی پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرائے جاچکے ہیں۔</p>
<p>پاکستان ایتھنول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پیما) کے چیئرمین چوہدری محمد وحید نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ملکی ایتھنول انڈسٹری اور فیول میں ایتھنول کی بلینڈنگ پالیسی پر غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی طور پر قابل عمل ہونے کی شرط پر رضاکارانہ ایتھنول بلینڈنگ پالیسی کی اجازت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔</p>
<p>لمز کے پروفیسر ڈاکٹر نوید ارشد نے خبردار کیا کہ واضح اور طویل مدتی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو پاکستان کو بار بار انرجی کرائسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>حبکو کے چیف ایگزیکٹو کامران کمال نے سرکلر ڈیٹ، بلند بجلی ٹیرف اور فرسودہ ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کو انرجی سیکٹر کے بڑے مسائل قرار دیا۔</p>
<p>ایسوسی ایٹڈ گروپ کے سی ایف او محمد کاشف نے گیس سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور ایل این جی امپورٹس میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت بڑھانے پر زور دیا، جبکہ زیڈ آئی سی آئل کے کنٹری ہیڈ سلمان سلیم نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش مالی مشکلات اور پالیسی غیر یقینی کی نشاندہی کی۔</p>
<p>فیسکو کے ڈائریکٹر عادل بشیر اور کِکس آئل کے مینجنگ ڈائریکٹر نے بھی فورم میں اپنے مؤقف پیش کیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290362</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Aug 2026 09:22:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/24091827b94eba5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/24091827b94eba5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
