<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:43:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:43:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے، شام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290346/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شام نے توقع ظاہر کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی شامی سرزمین سے واپسی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے دروازے کھلے ہونے کے باعث اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو دمشق میں انٹرویو دیتے ہوئے الشیبانی نے کہا کہ شام کی اولین ترجیح اسرائیلی حملوں کا خاتمہ ہے اور اس مقصد کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سکیورٹی معاہدے سے متعلق مذاکرات معطل ہوگئے تھے، تاہم انہیں توقع ہے کہ یہ سلسلہ جلد بحال ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطہ ضروری ہے، خاص طور پر ایسے فریق کے ساتھ جو مسلسل شام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے، تاہم اگر رابطے سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ الشیبانی نے واضح کیا کہ شام کو فی الحال اسرائیل پر اعتماد نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیل اور شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے لیے کوششیں کررہا ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی شام میں کارروائیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے باعث پیش رفت نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الشیبانی کے مطابق رواں سال کے آغاز میں دونوں فریق سکیورٹی معاہدے کی تقریباً تمام شقوں پر اصولی طور پر تحریری اتفاق کرچکے تھے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت اسرائیل شام پر حملے بند کرے گا اور بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں اسرائیلی سرحد کے قریب شامی علاقے میں متعدد سکیورٹی زونز قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جن میں ایک بفر زون ہوگا جہاں صرف اقوام متحدہ کی موجودگی ہوگی، جبکہ دیگر علاقوں میں شامی فورسز محدود یا مختلف سطح پر تعینات ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الشیبانی نے کہا کہ شام کو محسوس ہوا کہ اسرائیل معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حقیقی طور پر تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح اسرائیلی جارحیت روکنا ہے، اس کے بعد امن اور گولان کے معاملے پر بات ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام اور اسرائیل 1948 سے تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، جبکہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام کے گولان ہائٹس پر قبضہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شام نے توقع ظاہر کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی شامی سرزمین سے واپسی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے دروازے کھلے ہونے کے باعث اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے۔</strong></p>
<p>رائٹرز کو دمشق میں انٹرویو دیتے ہوئے الشیبانی نے کہا کہ شام کی اولین ترجیح اسرائیلی حملوں کا خاتمہ ہے اور اس مقصد کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سکیورٹی معاہدے سے متعلق مذاکرات معطل ہوگئے تھے، تاہم انہیں توقع ہے کہ یہ سلسلہ جلد بحال ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطہ ضروری ہے، خاص طور پر ایسے فریق کے ساتھ جو مسلسل شام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے، تاہم اگر رابطے سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ الشیبانی نے واضح کیا کہ شام کو فی الحال اسرائیل پر اعتماد نہیں ہے۔</p>
<p>امریکا ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیل اور شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے لیے کوششیں کررہا ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی شام میں کارروائیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے باعث پیش رفت نہیں ہوسکی۔</p>
<p>الشیبانی کے مطابق رواں سال کے آغاز میں دونوں فریق سکیورٹی معاہدے کی تقریباً تمام شقوں پر اصولی طور پر تحریری اتفاق کرچکے تھے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت اسرائیل شام پر حملے بند کرے گا اور بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا کرے گا۔</p>
<p>معاہدے میں اسرائیلی سرحد کے قریب شامی علاقے میں متعدد سکیورٹی زونز قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جن میں ایک بفر زون ہوگا جہاں صرف اقوام متحدہ کی موجودگی ہوگی، جبکہ دیگر علاقوں میں شامی فورسز محدود یا مختلف سطح پر تعینات ہوں گی۔</p>
<p>الشیبانی نے کہا کہ شام کو محسوس ہوا کہ اسرائیل معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حقیقی طور پر تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح اسرائیلی جارحیت روکنا ہے، اس کے بعد امن اور گولان کے معاملے پر بات ہوسکتی ہے۔</p>
<p>شام اور اسرائیل 1948 سے تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، جبکہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام کے گولان ہائٹس پر قبضہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290346</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Aug 2026 13:46:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/231343591b62ed7.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/231343591b62ed7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
