<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا میں مقامی ممالیہ جانور میں ایچ فائیو این ون برڈ فلو کے پہلے کیس کی تصدیق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290344/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا نے اتوار کو ممالیہ جانور میں ایچ فائیو این ون برڈ فلو کے پہلے کیس کی تصدیق کردی۔ خطرناک وائرس جنوبی آسٹریلیا میں پائے جانے والے ایک لمبی ناک والے فر سیل میں موجود پایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ سیل ساحلی قصبے بیچ پورٹ میں مردہ حالت میں ملا، جو ریاست کے دارالحکومت ایڈیلیڈ سے تقریباً 310 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ حکام نے بتایا کہ سیل کے جسم پر کسی چوٹ کے آثار نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کے پانیوں میں ایسے سیلز کی اندازاً ایک لاکھ کی آبادی موجود ہے۔ وفاقی وزیر زراعت جولی کولنز نے ٹیلی ویژن پر بیان میں کہا کہ اس سیل کی موت دیگر بیمار یا مردہ سمندری ممالیہ جانوروں سے بظاہر منسلک نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ایچ فائیو برڈ فلو قدرتی ماحول میں پھیل جائے تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا میں جون میں انتہائی مہلک ایویئن انفلوئنزا وائرس کی آمد کے بعد کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔ رواں ماہ ملک میں سمندری پرندوں کی بڑے پیمانے پر اموات کا بھی پہلی بار انکشاف ہوا، جس سے وبا میں شدت ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے مطابق وائرس ابھی تک آسٹریلیا کے پولٹری یا زرعی شعبے تک نہیں پہنچا، تاہم جمعہ تک ملک بھر میں 297 کیسز کی تصدیق ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا دنیا کا آخری براعظم تھا جہاں برڈ فلو کی اطلاع ملی، اگرچہ 2025 کے آخر میں ذیلی انٹارکٹک علاقے ہرڈ آئی لینڈ میں وائرس کی موجودگی سامنے آئی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہاں وائرس سے 13,000 سے زائد سیل کے بچے ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا نے اتوار کو ممالیہ جانور میں ایچ فائیو این ون برڈ فلو کے پہلے کیس کی تصدیق کردی۔ خطرناک وائرس جنوبی آسٹریلیا میں پائے جانے والے ایک لمبی ناک والے فر سیل میں موجود پایا گیا۔</strong></p>
<p>جنوبی آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ سیل ساحلی قصبے بیچ پورٹ میں مردہ حالت میں ملا، جو ریاست کے دارالحکومت ایڈیلیڈ سے تقریباً 310 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ حکام نے بتایا کہ سیل کے جسم پر کسی چوٹ کے آثار نہیں تھے۔</p>
<p>ریاست کے پانیوں میں ایسے سیلز کی اندازاً ایک لاکھ کی آبادی موجود ہے۔ وفاقی وزیر زراعت جولی کولنز نے ٹیلی ویژن پر بیان میں کہا کہ اس سیل کی موت دیگر بیمار یا مردہ سمندری ممالیہ جانوروں سے بظاہر منسلک نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ایچ فائیو برڈ فلو قدرتی ماحول میں پھیل جائے تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔</p>
<p>آسٹریلیا میں جون میں انتہائی مہلک ایویئن انفلوئنزا وائرس کی آمد کے بعد کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔ رواں ماہ ملک میں سمندری پرندوں کی بڑے پیمانے پر اموات کا بھی پہلی بار انکشاف ہوا، جس سے وبا میں شدت ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے مطابق وائرس ابھی تک آسٹریلیا کے پولٹری یا زرعی شعبے تک نہیں پہنچا، تاہم جمعہ تک ملک بھر میں 297 کیسز کی تصدیق ہوچکی تھی۔</p>
<p>آسٹریلیا دنیا کا آخری براعظم تھا جہاں برڈ فلو کی اطلاع ملی، اگرچہ 2025 کے آخر میں ذیلی انٹارکٹک علاقے ہرڈ آئی لینڈ میں وائرس کی موجودگی سامنے آئی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہاں وائرس سے 13,000 سے زائد سیل کے بچے ہلاک ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290344</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Aug 2026 12:53:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/23125206bd0e9ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/23125206bd0e9ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
