<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیبل کوائنز سے ترسیلاتِ زر میں 40 کروڑ ڈالر سالانہ بچت متوقع، بلال بن ثاقب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290312/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان ترسیلاتِ زر کے لیے ریگولیٹڈ اسٹیبل کوائنز کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، اگر اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک میں سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کی منتقلی کے اخراجات میں ایک فیصد کمی لائی جاسکے تو سالانہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز ورچوئل اثاثوں کے استعمال کے مختلف امکانات پیدا کرنے کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن میں سرحد پار ادائیگیاں، ڈیجیٹل برآمدات، تجارتی فنانس اور ٹوکنائزڈ مالی اثاثے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے ہفتے کو کہا کہ میں اس ٹیکنالوجی کو پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی سمجھتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر جو ہمیں موصول ہوتی ہیں وہ اب بھی پرانے نظام یعنی سوئفٹ کے ذریعے آرہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبل کوائن پر مبنی ترسیلاتِ زر کے ذریعے لین دین کے اخراجات میں ایک فیصد کمی سے تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے عالمی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 200 ڈالر کی رقم بھیجنے کی عالمی اوسط لاگت تقریباً 6 فیصد ہے، ریگولیٹڈ اسٹیبل کوائنز کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی منتقلی کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے باضابطہ طور پر لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا ہے جو ایک منظم ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت ملک کو عالمی ڈیجیٹل اثاثہ معیشت سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کی دفعہ 70 کے تحت موجودہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے 5 ستمبر 2026 تک این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر انہیں اپنی سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستان کے کرپٹو چیف نے کہا کہ یہ موقع روایتی ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک سے ادائیگیاں وصول کرنے والے پاکستان کے بڑھتے ہوئے فری لانسرز، سافٹ ویئر ڈیولپرز، ڈیزائنرز، تخلیق کاروں اور دیگر ڈیجیٹل ورکرز تک بھی پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے سوال اٹھایا کہ ہماری آئی ٹی برآمدات اربوں ڈالر مالیت کی ہیں لیکن آج ہمیں یہ سوال کرنا ہوگا کہ 2030 میں یہ لوگ عالمی معیشت سے اپنی ادائیگیاں کس طرح وصول کریں گے؟ ادائیگیوں کی تصفیہ کاری کتنی تیزی سے ہوگی؟ اس کی لاگت کیا ہوگی؟ اور پاکستان اس قدر کو رسمی معیشت میں کیسے شامل کرے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ادائیگیوں کے نئے مالی ذرائع جائز برآمدی آمدنی کی وصولی کو آسان اور زیادہ شفاف بناسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ٹوکنائزیشن پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، برآمد کنندگان، زراعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو درپیش مالی وسائل کی کمی دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ملک کے 90 فیصد کاروبار پر مشتمل ہیں اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ 40 فیصد ہے لیکن مارچ میں ایس ایم ای فنانسنگ صرف 850 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹوکنائزڈ تجارتی وصولیاں اور نجی قرضوں کی سہولت ممکنہ طور پر پاکستانی قرض لینے والوں کو عالمی سرمایہ کے ذرائع سے جوڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آیا ٹوکنائزڈ ادائیگیوں اور تصفیے کے نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، اس کی رسائی کو وسیع کیا جاسکتا ہے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ملکی سرمایہ کاری مصنوعات تک زیادہ بہتر رسائی فراہم کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوشش ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب پاکستان ورچوئل اثاثوں کو غیر رسمی مارکیٹ سے نکال کر ایک باقاعدہ ضابطہ جاتی مالی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اہم اصطلاحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ملکیت اور لین دین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھتی اور منتقل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسٹیبل کوائنز عموماً ایک کرنسی ہوتی ہیں جو اکثر ڈالر کی ڈیجیٹل نمائندگی پر مشتمل ہوتی ہے اور بلاک چین کے ذریعے منتقل ہوتی ہے جبکہ ٹوکنائزیشن سے مراد کسی روایتی اثاثے کو قابلِ پروگرام ڈیجیٹل شکل میں پیش کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ صرف اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے اثاثے جو عام افراد کی رسائی سے باہر ہیں، محفوظ اور شفاف انداز میں عوام کے لیے قابلِ رسائی بنائے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے بتایا کہ اس وقت اسٹیبل کوائنز کی عالمی مارکیٹ ویلیو 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور حقیقی دنیا کے مالیاتی اثاثوں کے اربوں امریکی ڈالر بلاک چین انفرااسٹرکچر پر پہلے ہی ٹوکنائز کیے جاچکے ہیں۔ یہاں تک کہ اسٹیبل کوائنز کو نکال کر بھی حقیقی دنیا کے 35 ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثے آن چین اکانومی کا حصہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیک راک اور گولڈمین سیکس جیسے عالمی اداروں اور ہانگ کانگ اور سنگاپور سمیت ترقی یافتہ معیشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ٹیکنالوجی حقیقی ہے۔ سرمایہ حقیقی ہے۔ ادارے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تبدیلی کو صرف قبول کرے گا یا اپنے قومی مفاد کے لیے اسے سمجھے گا اور اس کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام کے سفر کو تین مراحل میں تقسیم کیا۔ پہلے مرحلے میں قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنا، دوسرے مرحلے میں قابلِ اعتماد آپریٹرز کو لائسنس جاری کرکے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی تعمیل کو مضبوط بنا کر مارکیٹ کو ذمہ دارانہ انداز میں فروغ دینا جبکہ تیسرے مرحلے میں قومی سطح پر ورچوئل اثاثوں کے استعمال کے مختلف امکانات اور طریقہ کار کو فروغ دینا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ موجودہ سرگرمیوں کو بھی ضابطہ جاتی دائرہ کار میں لایا جارہا ہے۔ آج ہم اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تیسرے مرحلے میں ترسیلاتِ زر، سرحد پار ادائیگیوں اور تصفیے، ڈیجیٹل برآمدات، تجارتی فنانس، نجی قرضوں اور ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے زور دیا کہ ورچوئل اثاثوں کے ہر مجوزہ استعمال کا جائزہ ایک عملی پیمانے پر لیا جانا چاہیے کہ اس سے پاکستان کو قابلِ پیمائش معاشی فائدہ کتنا حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کئی مرتبہ ٹیکنالوجی کے انقلابات سے دیر سے ہم آہنگ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو محض اس وقت اپنانے کے بجائے جب دیگر مارکیٹس اس حوالے سے آگے بڑھ چکی ہوں، انہیں سمجھنے اور ان کے لیے مؤثر ضابطہ کار وضع کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج ہم نے ورچوئل ایسٹ سروس ریگولیشنز کا اجرا کردیا ہے اور یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ہم اس موقع کو صرف کرپٹو کرنسی کے ضوابط متعارف کرانے کے طور پر یاد نہیں رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان ترسیلاتِ زر کے لیے ریگولیٹڈ اسٹیبل کوائنز کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، اگر اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک میں سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کی منتقلی کے اخراجات میں ایک فیصد کمی لائی جاسکے تو سالانہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہے۔</strong></p>
<p>یہ تجویز ورچوئل اثاثوں کے استعمال کے مختلف امکانات پیدا کرنے کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن میں سرحد پار ادائیگیاں، ڈیجیٹل برآمدات، تجارتی فنانس اور ٹوکنائزڈ مالی اثاثے شامل ہیں۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے ہفتے کو کہا کہ میں اس ٹیکنالوجی کو پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک بہت بڑی ٹیکنالوجی سمجھتا ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر جو ہمیں موصول ہوتی ہیں وہ اب بھی پرانے نظام یعنی سوئفٹ کے ذریعے آرہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبل کوائن پر مبنی ترسیلاتِ زر کے ذریعے لین دین کے اخراجات میں ایک فیصد کمی سے تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>عہدیدار نے عالمی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 200 ڈالر کی رقم بھیجنے کی عالمی اوسط لاگت تقریباً 6 فیصد ہے، ریگولیٹڈ اسٹیبل کوائنز کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی منتقلی کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے باضابطہ طور پر لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا ہے جو ایک منظم ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت ملک کو عالمی ڈیجیٹل اثاثہ معیشت سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کی دفعہ 70 کے تحت موجودہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے 5 ستمبر 2026 تک این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر انہیں اپنی سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستان کے کرپٹو چیف نے کہا کہ یہ موقع روایتی ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک سے ادائیگیاں وصول کرنے والے پاکستان کے بڑھتے ہوئے فری لانسرز، سافٹ ویئر ڈیولپرز، ڈیزائنرز، تخلیق کاروں اور دیگر ڈیجیٹل ورکرز تک بھی پھیلا ہوا ہے۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے سوال اٹھایا کہ ہماری آئی ٹی برآمدات اربوں ڈالر مالیت کی ہیں لیکن آج ہمیں یہ سوال کرنا ہوگا کہ 2030 میں یہ لوگ عالمی معیشت سے اپنی ادائیگیاں کس طرح وصول کریں گے؟ ادائیگیوں کی تصفیہ کاری کتنی تیزی سے ہوگی؟ اس کی لاگت کیا ہوگی؟ اور پاکستان اس قدر کو رسمی معیشت میں کیسے شامل کرے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ادائیگیوں کے نئے مالی ذرائع جائز برآمدی آمدنی کی وصولی کو آسان اور زیادہ شفاف بناسکتے ہیں۔</p>
<p>حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ٹوکنائزیشن پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، برآمد کنندگان، زراعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو درپیش مالی وسائل کی کمی دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ملک کے 90 فیصد کاروبار پر مشتمل ہیں اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ 40 فیصد ہے لیکن مارچ میں ایس ایم ای فنانسنگ صرف 850 ارب روپے تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹوکنائزڈ تجارتی وصولیاں اور نجی قرضوں کی سہولت ممکنہ طور پر پاکستانی قرض لینے والوں کو عالمی سرمایہ کے ذرائع سے جوڑ سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آیا ٹوکنائزڈ ادائیگیوں اور تصفیے کے نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، اس کی رسائی کو وسیع کیا جاسکتا ہے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ملکی سرمایہ کاری مصنوعات تک زیادہ بہتر رسائی فراہم کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>یہ کوشش ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب پاکستان ورچوئل اثاثوں کو غیر رسمی مارکیٹ سے نکال کر ایک باقاعدہ ضابطہ جاتی مالی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اہم اصطلاحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ملکیت اور لین دین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھتی اور منتقل کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسٹیبل کوائنز عموماً ایک کرنسی ہوتی ہیں جو اکثر ڈالر کی ڈیجیٹل نمائندگی پر مشتمل ہوتی ہے اور بلاک چین کے ذریعے منتقل ہوتی ہے جبکہ ٹوکنائزیشن سے مراد کسی روایتی اثاثے کو قابلِ پروگرام ڈیجیٹل شکل میں پیش کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ صرف اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے اثاثے جو عام افراد کی رسائی سے باہر ہیں، محفوظ اور شفاف انداز میں عوام کے لیے قابلِ رسائی بنائے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے بتایا کہ اس وقت اسٹیبل کوائنز کی عالمی مارکیٹ ویلیو 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور حقیقی دنیا کے مالیاتی اثاثوں کے اربوں امریکی ڈالر بلاک چین انفرااسٹرکچر پر پہلے ہی ٹوکنائز کیے جاچکے ہیں۔ یہاں تک کہ اسٹیبل کوائنز کو نکال کر بھی حقیقی دنیا کے 35 ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثے آن چین اکانومی کا حصہ بن چکے ہیں۔</p>
<p>بلیک راک اور گولڈمین سیکس جیسے عالمی اداروں اور ہانگ کانگ اور سنگاپور سمیت ترقی یافتہ معیشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ٹیکنالوجی حقیقی ہے۔ سرمایہ حقیقی ہے۔ ادارے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تبدیلی کو صرف قبول کرے گا یا اپنے قومی مفاد کے لیے اسے سمجھے گا اور اس کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام کے سفر کو تین مراحل میں تقسیم کیا۔ پہلے مرحلے میں قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنا، دوسرے مرحلے میں قابلِ اعتماد آپریٹرز کو لائسنس جاری کرکے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی تعمیل کو مضبوط بنا کر مارکیٹ کو ذمہ دارانہ انداز میں فروغ دینا جبکہ تیسرے مرحلے میں قومی سطح پر ورچوئل اثاثوں کے استعمال کے مختلف امکانات اور طریقہ کار کو فروغ دینا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ موجودہ سرگرمیوں کو بھی ضابطہ جاتی دائرہ کار میں لایا جارہا ہے۔ آج ہم اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تیسرے مرحلے میں ترسیلاتِ زر، سرحد پار ادائیگیوں اور تصفیے، ڈیجیٹل برآمدات، تجارتی فنانس، نجی قرضوں اور ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے زور دیا کہ ورچوئل اثاثوں کے ہر مجوزہ استعمال کا جائزہ ایک عملی پیمانے پر لیا جانا چاہیے کہ اس سے پاکستان کو قابلِ پیمائش معاشی فائدہ کتنا حاصل ہوگا۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کئی مرتبہ ٹیکنالوجی کے انقلابات سے دیر سے ہم آہنگ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو محض اس وقت اپنانے کے بجائے جب دیگر مارکیٹس اس حوالے سے آگے بڑھ چکی ہوں، انہیں سمجھنے اور ان کے لیے مؤثر ضابطہ کار وضع کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج ہم نے ورچوئل ایسٹ سروس ریگولیشنز کا اجرا کردیا ہے اور یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ہم اس موقع کو صرف کرپٹو کرنسی کے ضوابط متعارف کرانے کے طور پر یاد نہیں رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290312</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Aug 2026 19:50:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2214120251f6599.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2214120251f6599.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
