<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:45:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:45:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا کی پی آئی ٹی سی کو زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290303/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کو ڈسکوز اور کے الیکٹرک میں زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز کی جانچ پڑتال اور اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ان کنکشنز کے صارفین مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے کے باوجود تاحال کنکشن کے اجرا کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی ٹی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے نام خط میں جس کی نقول پاور ڈویژن کے سیکریٹری اور ڈسکوز و کے الیکٹرک کے سی ای اوز کو بھی ارسال کی گئیں، نیپرا کے رجسٹرار وسیم انور بھنڈر نے اتھارٹی کے 31 جولائی 2026 کے سابقہ خط کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خط کے ذریعے تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ریکارڈ کی جامع جانچ پڑتال کریں اور ان نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو اپ ڈیٹ کریں جو ڈیمانڈ نوٹسز کی ادائیگی، میٹرز کی فزیکل تبدیلی یا ری پروگرامنگ اور جہاں قابلِ اطلاق ہو، میٹر چینج آرڈرز (MCOs) کے اجرا کے باوجود زیرِ التوا ہیں۔ یہ ہدایات 9 فروری 2026 سے قبل نیپرا (متبادل و قابلِ تجدید توانائی) ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اینڈ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2015 کے تحت نیٹ میٹرنگ سہولیات کے لیے جاری کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نیپرا کے رجسٹرار نے نشاندہی کی کہ یہ مسئلہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اب پی آئی ٹی سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرے اور 9 فروری 2026 سے قبل زیرِ التوا تمام نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو بلنگ سسٹم/سافٹ ویئر میں اپ ڈیٹ کرے، بشرطیکہ نیپرا کے 2015 کے نیٹ میٹرنگ ضوابط کے تحت تمام قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی مکمل کی جاچکی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی ٹی سی کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ کارروائی مزید تاخیر کے بغیر مکمل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے نفاذ اور اس کے بعد موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے ساتھ برتاؤ سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات کے پیش نظر اہمیت اختیار کرگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2026 میں پاور ڈویژن نے وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایات کی روشنی میں پروزیومر ریگولیشنز 2026 پر نظرثانی کیلئے نیپرا سے رجوع کیا تھا۔ وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ شمسی توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے موجودہ معاہدوں کے تحفظ کیلئے معاملہ نیپرا کے سامنے اٹھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ہدایات میں موجودہ صارفین کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا اور ایسا جامع طریقہ کار وضع کرنا شامل تھا جس کے تحت تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار شمسی توانائی صارفین کے مالی بوجھ کو قومی گرڈ سے منسلک 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد صارفین پر بلاجواز منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایت کی تعمیل میں پاور ڈویژن نے نیپرا سے پروزیومر ریگولیشنز پر فوری نظرثانی کی درخواست کی اور تجویز دی کہ 9 فروری 2026 تک مؤثر نیٹ میٹرنگ لائسنس رکھنے والے صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے، بالخصوص منسوخ شدہ نیٹ میٹرنگ ضوابط کے تحت دستیاب فوائد کے حوالے سے۔ تاہم نئے صارفین پر پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت وضع کردہ فریم ورک اور طریقہ کار کا اطلاق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے یہ بھی درخواست کی کہ حتمی فیصلہ ہونے تک 9 فروری 2026 تک مؤثر لائسنس رکھنے والے صارفین کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو منسوخ شدہ نیٹ میٹرنگ طریقہ کار کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ جن صارفین نے نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب نہیں کیے وہ موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت فی یونٹ تقریباً 3.5 روپے کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کررہے ہیں۔ پاور ڈویژن نے یہ بھی خبردار کیا کہ شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافے سے قومی گرڈ سسٹم کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاور ڈویژن کے کنسلٹنٹ سید فیضان علی نے ٹائم آف یوز نیٹ میٹرنگ/نیٹ بلنگ متعارف کرانے کی تجویز دی ہے جس کے تحت شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک بجلی گرڈ کو فراہم کرنے کی شرح 18 سے 22 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز کا مقصد بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمزکی حوصلہ افزائی کرنا اور سسٹم آپریٹرز کے لیے زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی کی خریداری کی لاگت کم کرنا ہے۔ پاکستان میں شام کے اوقات میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب اب سالانہ 26 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کو ڈسکوز اور کے الیکٹرک میں زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز کی جانچ پڑتال اور اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ان کنکشنز کے صارفین مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے کے باوجود تاحال کنکشن کے اجرا کے منتظر ہیں۔</p>
<p>پی آئی ٹی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے نام خط میں جس کی نقول پاور ڈویژن کے سیکریٹری اور ڈسکوز و کے الیکٹرک کے سی ای اوز کو بھی ارسال کی گئیں، نیپرا کے رجسٹرار وسیم انور بھنڈر نے اتھارٹی کے 31 جولائی 2026 کے سابقہ خط کا حوالہ دیا۔</p>
<p>اس خط کے ذریعے تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ریکارڈ کی جامع جانچ پڑتال کریں اور ان نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو اپ ڈیٹ کریں جو ڈیمانڈ نوٹسز کی ادائیگی، میٹرز کی فزیکل تبدیلی یا ری پروگرامنگ اور جہاں قابلِ اطلاق ہو، میٹر چینج آرڈرز (MCOs) کے اجرا کے باوجود زیرِ التوا ہیں۔ یہ ہدایات 9 فروری 2026 سے قبل نیپرا (متبادل و قابلِ تجدید توانائی) ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اینڈ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2015 کے تحت نیٹ میٹرنگ سہولیات کے لیے جاری کی گئی تھیں۔</p>
<p>تاہم نیپرا کے رجسٹرار نے نشاندہی کی کہ یہ مسئلہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اب پی آئی ٹی سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرے اور 9 فروری 2026 سے قبل زیرِ التوا تمام نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو بلنگ سسٹم/سافٹ ویئر میں اپ ڈیٹ کرے، بشرطیکہ نیپرا کے 2015 کے نیٹ میٹرنگ ضوابط کے تحت تمام قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی مکمل کی جاچکی ہو۔</p>
<p>پی آئی ٹی سی کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ کارروائی مزید تاخیر کے بغیر مکمل کی جائے۔</p>
<p>یہ معاملہ پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے نفاذ اور اس کے بعد موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے ساتھ برتاؤ سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات کے پیش نظر اہمیت اختیار کرگیا ہے۔</p>
<p>فروری 2026 میں پاور ڈویژن نے وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایات کی روشنی میں پروزیومر ریگولیشنز 2026 پر نظرثانی کیلئے نیپرا سے رجوع کیا تھا۔ وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ شمسی توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے موجودہ معاہدوں کے تحفظ کیلئے معاملہ نیپرا کے سامنے اٹھایا جائے۔</p>
<p>ان ہدایات میں موجودہ صارفین کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا اور ایسا جامع طریقہ کار وضع کرنا شامل تھا جس کے تحت تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار شمسی توانائی صارفین کے مالی بوجھ کو قومی گرڈ سے منسلک 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد صارفین پر بلاجواز منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔</p>
<p>ہدایت کی تعمیل میں پاور ڈویژن نے نیپرا سے پروزیومر ریگولیشنز پر فوری نظرثانی کی درخواست کی اور تجویز دی کہ 9 فروری 2026 تک مؤثر نیٹ میٹرنگ لائسنس رکھنے والے صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے، بالخصوص منسوخ شدہ نیٹ میٹرنگ ضوابط کے تحت دستیاب فوائد کے حوالے سے۔ تاہم نئے صارفین پر پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت وضع کردہ فریم ورک اور طریقہ کار کا اطلاق ہوگا۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے یہ بھی درخواست کی کہ حتمی فیصلہ ہونے تک 9 فروری 2026 تک مؤثر لائسنس رکھنے والے صارفین کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو منسوخ شدہ نیٹ میٹرنگ طریقہ کار کے تحت کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ جن صارفین نے نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب نہیں کیے وہ موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت فی یونٹ تقریباً 3.5 روپے کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کررہے ہیں۔ پاور ڈویژن نے یہ بھی خبردار کیا کہ شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافے سے قومی گرڈ سسٹم کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا پاور ڈویژن کے کنسلٹنٹ سید فیضان علی نے ٹائم آف یوز نیٹ میٹرنگ/نیٹ بلنگ متعارف کرانے کی تجویز دی ہے جس کے تحت شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک بجلی گرڈ کو فراہم کرنے کی شرح 18 سے 22 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کی جائے گی۔</p>
<p>اس تجویز کا مقصد بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمزکی حوصلہ افزائی کرنا اور سسٹم آپریٹرز کے لیے زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی کی خریداری کی لاگت کم کرنا ہے۔ پاکستان میں شام کے اوقات میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب اب سالانہ 26 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290303</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Aug 2026 12:14:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/221134539d11f19.webp" type="image/webp" medium="image" height="470" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/221134539d11f19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
