<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیشی وزیراعظم کے دورۂ بھارت کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا، ڈھاکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290289/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے تاحال وزیراعظم طارق رحمان کے دورۂ بھارت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، یہ بات ان کے پریس سیکریٹری اے اے ایم صالح نے جمعے کے روز رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ طارق رحمان 23 سے 25 اگست تک نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا کے دونوں ہمسایہ ممالک گزشتہ کئی ہفتوں سے طارق رحمان کے فروری میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد پہلے دورۂ نئی دہلی کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کشیدہ ہونے والے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں اپنے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں اور وہیں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ڈھاکا متعدد مرتبہ نئی دہلی سے حسینہ کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق رحمان کے پریس سیکریٹری اے اے ایم صالح نے &lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt; کو بتایا، ’’دورے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ڈھاکا شیخ حسینہ اور ’’دیگر مفرور مجرموں‘‘ کی حوالگی کے معاملے پر بھارت کے جواب کا منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ وزارت کے پاس دورے کے حوالے سے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ ماہ قبل قائم ہونے والی طارق رحمان کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے اس نے اشارہ دیا تھا کہ دورے کے لیے زیادہ سازگار سفارتی ماحول ضروری ہے۔ یہ بیان شیخ حسینہ کی جانب سے صحافیوں سے خطاب کے چند روز بعد سامنے آیا تھا، جس کی ڈھاکا نے مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہونے پر مجبور ہونے والی شیخ حسینہ کو نومبر میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے خلاف ہلاکت خیز کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے جرم میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے اور صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ دسمبر میں اپنے ملک واپس جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے تاحال وزیراعظم طارق رحمان کے دورۂ بھارت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، یہ بات ان کے پریس سیکریٹری اے اے ایم صالح نے جمعے کے روز رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ طارق رحمان 23 سے 25 اگست تک نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔</strong></p>
<p>جنوبی ایشیا کے دونوں ہمسایہ ممالک گزشتہ کئی ہفتوں سے طارق رحمان کے فروری میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد پہلے دورۂ نئی دہلی کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کشیدہ ہونے والے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>شیخ حسینہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں اپنے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں اور وہیں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ڈھاکا متعدد مرتبہ نئی دہلی سے حسینہ کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>طارق رحمان کے پریس سیکریٹری اے اے ایم صالح نے <strong>رائٹرز</strong> کو بتایا، ’’دورے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ڈھاکا شیخ حسینہ اور ’’دیگر مفرور مجرموں‘‘ کی حوالگی کے معاملے پر بھارت کے جواب کا منتظر ہے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ وزارت کے پاس دورے کے حوالے سے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔</p>
<p>چھ ماہ قبل قائم ہونے والی طارق رحمان کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے اس نے اشارہ دیا تھا کہ دورے کے لیے زیادہ سازگار سفارتی ماحول ضروری ہے۔ یہ بیان شیخ حسینہ کی جانب سے صحافیوں سے خطاب کے چند روز بعد سامنے آیا تھا، جس کی ڈھاکا نے مذمت کی تھی۔</p>
<p>حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہونے پر مجبور ہونے والی شیخ حسینہ کو نومبر میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے خلاف ہلاکت خیز کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے جرم میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔</p>
<p>شیخ حسینہ نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے اور صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ دسمبر میں اپنے ملک واپس جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290289</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2026 18:35:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2118243859245cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2118243859245cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
