<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو نئے اقتصادی انجن کی ضرورت ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290281/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں معاشی بحث اکثر محدود قومی بجٹ کی تقسیم کے گرد گھومتی رہتی ہے کہ دفاع پر زیادہ خرچ کیا جائے یا ترقی پر، سبسڈیز دی جائیں یا ٹیکس بڑھائے جائیں، وفاق کو زیادہ وسائل ملیں یا صوبوں کو، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں یا انفرااسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی جائے۔ یہ سب جائز اور اہم سوالات ہیں، لیکن ان کے باعث ایک بنیادی ناکامی نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ پاکستان تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات اور بڑھتی ہوئی توقعات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ دولت پیدا نہیں کر سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک 25 کروڑ سے زائد آبادی کی ضروریات اور امنگوں کو ایسی معیشت سے پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اب بھی کم پیداواری صلاحیت کی حامل، ناکافی سرمایہ کاری کا شکار، محدود ٹیکس وصولی اور عالمی تجارت سے نہایت کم جڑی ہوئی ہے۔ اخراجات کی ترجیحات میں کوئی بھی ردوبدل اس بنیادی ساختی عدم توازن کو مستقل طور پر دور نہیں کر سکتا۔ لہٰذا پاکستان کی پہلی معاشی ترجیح اقتصادی حجم میں اضافہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی عوامی بحث میں اکثر اس نکتے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ملکی معیشت کا حجم موجودہ تقریباً 400 ارب ڈالر کے بجائے 800 ارب ڈالر ہوتا اور مالیاتی ترجیحات بھی مجموعی طور پر وہی برقرار رہتیں تو دفاع اور ترقی، دونوں کے لیے دستیاب وسائل میں نمایاں اضافہ ہو جاتا، جبکہ قومی آمدن میں ان کا تناسب بڑھانے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد کے مساوی دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہو جاتا، جبکہ جی ڈی پی کے تقریباً 2.4 فیصد کے مساوی ترقیاتی اخراجات 9.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ جاتے۔ تناسب وہی رہتا، لیکن قومی سلامتی، انفرااسٹرکچر، تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے لیے دستیاب وسائل عملاً دوگنا ہو جاتے۔ اس لیے پائیدار خوشحالی کا بنیادی مسئلہ دفاع اور ترقی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے اتنی قومی دولت پیدا کرنے کا ہے کہ دونوں شعبے بیک وقت ترقی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں کہ محض اعداد و شمار میں معاشی ترقی کے حصول کو ہدف بنا لیا جائے۔ اس سے مراد قومی بچت، پیداواری سرمایہ کاری، برآمدات، ٹیکنالوجی کے استعمال، افرادی قوت کی شمولیت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ اس کا مطلب مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں، بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کی صلاحیت رکھنے والی صنعتوں اور زیادہ قدر پیدا کرنے والی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کا مطلب ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہے جس میں خوشحالی کی بنیاد بنیادی طور پر دنیا کو زیادہ پیداوار اور زیادہ اشیا فروخت کرنے پر ہو، نہ کہ وقفے وقفے سے ملنے والی بیرونی امداد، جغرافیائی سیاسی فوائد، ترسیلات زر، قرضوں یا غیر پائیدار درآمدات کے ذریعے ہونے والی کھپت پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی تاریخی معاشی شرح نمو کو بھی درست تناظر میں بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی شرح نمو ہمیشہ صرف 3 یا 4 فیصد نہیں رہی۔ 1980 کی دہائی میں اوسط شرح نمو تقریباً 6.1 فیصد رہی، جو 1990 کی دہائی میں کم ہو کر 4.4 فیصد ہوئی اور 2000 کی دہائی میں معمولی بحالی کے بعد تقریباً 4.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم زیادہ اہم اعداد و شمار یہ ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران فی کس حقیقی پیداوار میں سالانہ اوسط اضافہ صرف تقریباً 2.2 فیصد رہا ہے۔ تیز تر معاشی توسیع کے ادوار اکثر مختصر مدت ہی ثابت ہوئے کیونکہ ان کا انحصار بیرونی رقوم کی آمد، قرضوں میں اضافے یا ملکی طلب میں ایسے عارضی اضافے پر تھا جو بالآخر تجارتی خسارے، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ایک اور آئی ایم ایف پروگرام پر منتج ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی پاکستان کے بار بار دہرائے جانے والے معاشی چکر کی وضاحت کرتا ہے۔ بیرونی فنانسنگ دستیاب ہوتی ہے، درآمدات بڑھتی ہیں، کھپت میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں عارضی طور پر تیز ہو جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ ملکی پیداوار اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا، اس لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں، روپے پر دباؤ بڑھتا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومت دوبارہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد معاشی استحکام کے اقدامات طلب کو محدود کرتے اور عارضی طور پر توازن بحال کرتے ہیں، لیکن معیشت کے پیداواری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔ جیسے ہی بیرونی فنانسنگ کے حالات بہتر ہوتے ہیں، پرانا معاشی چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کے بنیادی محرک میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب صرف 14.4 فیصد رہا، جبکہ قومی بچت جی ڈی پی کے 14.1 فیصد کے برابر رہی۔ اقتصادی سروے خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ حالیہ برسوں میں سرمایہ کاری تقریباً 14 فیصد کے آس پاس رہی ہے، جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ وہ معیشتیں جنہوں نے خود کو تبدیل کیا، خصوصاً مشرقی ایشیا کی معیشتوں نے، طویل عرصے تک اپنی قومی آمدن کا کہیں زیادہ حصہ سرمایہ کاری پر صرف کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 فیصد کی شرح پر پاکستان اپنے شہروں، صنعت، لاجسٹکس، زراعت، توانائی کے نظام، اسکولوں اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کر رہا، جبکہ ہر سال لاکھوں نوجوانوں کو پیداواری روزگار میں شامل کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ نہ ہی ملکی سطح پر اتنی بچت ہو رہی ہے کہ اس محدود سرمایہ کاری کو بھی بیرونی سرمائے پر بار بار انحصار کیے بغیر پورا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات بھی اسی ساختی کمزوری کی عکاسی کرتی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے برآمدی شعبے کا حجم جی ڈی پی کے صرف تقریباً 10 فیصد کے برابر ہے۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات اب بھی ملکی اشیا کی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد ہیں، جس کے باعث پاکستان محدود تعداد میں مصنوعات، منڈیوں اور بیرونی طلب کے حالات پر انحصار کے باعث خاصا غیر محفوظ ہے۔ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ کے دوران مجموعی برآمدات میں 8 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بلاشبہ کامیاب ٹیکسٹائل کمپنیاں، تیزی سے ترقی کرتی آئی ٹی سروسز کی صنعت، باصلاحیت کاروباری افراد اور زراعت کے شعبے میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ لیکن چند شعبوں کی غیر معمولی کارکردگی کو مکمل برآمدی معیشت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک کو کاٹن یارن اور بنیادی نوعیت کے ملبوسات سے آگے بڑھ کر ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ ملبوسات، انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، پراسیس شدہ غذائی اشیا، ڈیجیٹل مصنوعات، پیشہ ورانہ خدمات، مقامی ویلیو ایڈیشن کے ساتھ معدنیات اور علاقائی و عالمی سپلائی چینز میں شمولیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلات زر بدستور زرمبادلہ کا ایک نہایت قیمتی ذریعہ ہیں اور لاکھوں گھرانوں کو سہارا فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ان کا حجم ملکی سطح پر دولت پیدا کرنے کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ 2024 میں ذاتی ترسیلات زر جی ڈی پی کے تقریباً 9.4 فیصد کے برابر تھیں، جو جی ڈی پی کے تناسب سے ملک کے برآمدی شعبے کے تقریباً برابر ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی دراصل وہ زرمبادلہ فراہم کر رہے ہیں جو ملکی پیداواری معیشت اندرون ملک مطلوبہ مقدار میں پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد ترسیلات زر کو کم کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسی معیشت تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں برآمدات، سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور ہائی ویلیو سروسز بالآخر ترسیلات زر سے کہیں زیادہ حجم اختیار کر لیں۔ ایک کامیاب ملک کو اپنے زیادہ سے زیادہ باصلاحیت شہریوں کو اندرون ملک پیداواری روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارت بھی اپنی طرف متوجہ کرنی چاہیے، نہ کہ اپنے انسانی سرمائے کو بیرون ملک بھیجتے رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم سرمایہ کاری، محدود برآمدات اور کمزور پیداواری صلاحیت الگ الگ مسائل نہیں ہیں۔ یہ سب ایسی سیاسی معیشت سے جنم لیتے ہیں جہاں جدت، کارکردگی اور مسابقت کے مقابلے میں رسائی، تحفظ اور اثر و رسوخ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی اکثر تحقیق، ٹیکنالوجی، افرادی قوت کی مہارت اور عالمی مسابقت میں سرمایہ کاری کے بجائے ٹیکس مراعات، محفوظ منڈیوں، سبسڈائزڈ خام مال، سازگار ضوابط یا سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کی جانب ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً معیشت میں ذاتی مفادات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بہت زیادہ اور پیداواری خطرات مول لینے کی ترغیبات بہت کم ہیں۔ سرمایہ زیادہ تر محفوظ شعبوں، حکومتی سیکیورٹیز، قیاس آرائی پر مبنی رئیل اسٹیٹ اور ملکی کھپت کو پورا کرنے والی سرگرمیوں کی جانب جاتا ہے۔ برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور اختراعی کمپنیوں کو غیر مستقل ٹیکس نظام، مہنگی توانائی، ناقابلِ اعتماد انفرااسٹرکچر، پالیسیوں میں بار بار تبدیلی، پیچیدہ ضوابط اور ایسے زرِ مبادلہ کے نظام کا سامنا ہے جس نے وقتاً فوقتاً برآمدات کو نقصان پہنچایا اور درآمدات کو سہارا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خراب اقتصادی انجن کی نشاندہی کرنا صرف آدھا کام ہے۔ پاکستان کے پاس اسے درست کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی نظام بھی موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ معاشیات عاطف میاں کے مطابق پاکستان کو ایک نئے ’’اعصابی نظام‘‘ کی ضرورت ہے، جو حقیقی اعداد و شمار، حقیقی معنوں میں سیکھنے کے عمل اور باصلاحیت افراد کو بااختیار بنانے پر مبنی ہو۔ یہ تشبیہ نہایت موزوں ہے۔ کسی ملک میں وزارتیں، منصوبے، کمیٹیاں اور قابل افراد موجود ہونے کے باوجود نظام ناکام ہو سکتا ہے، اگر معلومات درست انداز میں گردش نہ کریں، فیصلوں کو عملی جامہ نہ پہنایا جائے، کارکردگی کی پیمائش نہ ہو اور ادارے اپنی ناکامیوں سے سبق نہ سیکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو منصوبوں کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ پالیسیوں کے تسلسل کی کمزوری، اختیارات کی تقسیم اور ناقص عمل درآمد اس کے بڑے مسائل ہیں۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں برآمدات کی حکمتِ عملی، ٹیکس اصلاحات، نجکاری پروگرام، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کرتی رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سی تجاویز معقول بھی ہیں، لیکن اہداف کو شاذ و نادر ہی واضح طور پر متعین ذمہ داریوں، قابلِ پیمائش نتائج، جواب دہ افسران، قابلِ اعتماد اعداد و شمار، عمل درآمد کے نظام الاوقات اور شفاف جائزہ لینے کے طریقہ کار میں تبدیل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت تبدیل ہوتے ہی پالیسیاں اکثر ترک کر دی جاتی ہیں۔ وزارتیں اپنے اپنے دائرے تک محدود رہتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی ترجیحات میں اختلاف رہتا ہے۔ اعداد و شمار تاخیر سے دستیاب ہوتے یا متنازع رہتے ہیں۔ ناقص کارکردگی کی قیمت شاذ ہی کوئی ادا کرتا ہے، جبکہ کسی افسر کے تبادلے یا وزیر کی رخصتی کے ساتھ ادارہ جاتی تجربہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ ریاست بار بار نئے سرے سے آغاز کرتی ہے، سیکھنے اور بہتری کی کوشش نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے الگ تھلگ اصلاحات پاکستان کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ کسی ایک ٹیکس میں اضافہ، چند سرکاری اداروں کی نجکاری، سرمایہ کاری کے لیے ایک سہولت مرکز کا قیام یا کسی ایک برآمدی صنعت کو سبسڈی دینے سے عارضی بہتری تو آ سکتی ہے، لیکن ایک مربوط نظامِ کار کے بغیر کی جانے والی اصلاحات بالآخر اردگرد کے ادارہ جاتی ماحول کے دباؤ میں بے اثر ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کو بیک وقت دو بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پہلی، اس کے معاشی انجن کی ازسرِنو تشکیل؛ اور دوسری، ایسا قومی نظامِ کار تشکیل دینا جو اس تبدیلی کو آگے بڑھانے اور برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی انجن کی بنیاد باہم مربوط چند قومی ترجیحات پر ہونی چاہیے: بچت اور سرمایہ کاری میں اضافہ، برآمدات کی قیادت میں معاشی نمو کا حصول، زرعی اور صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری، انسانی سرمائے پر سرمایہ کاری، خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھانا، توانائی اور سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات، معیشت اور ریاست کو ڈیجیٹل بنانا، مسابقتی منڈیوں کا قیام اور پہلے ہی بوجھ تلے دبے رسمی شعبے پر بار بار اضافی بوجھ ڈالے بغیر محصولات میں نمایاں اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظامِ کار کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان ترجیحات پر اتفاقِ رائے کیسے قائم کیا جائے، ان پر عمل درآمد کیسے ہو اور ان کی پیش رفت کی پیمائش کیسے کی جائے۔ اس کا آغاز سیاسی جماعتوں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مسلح افواج، کاروباری برادری، محنت کشوں اور دیگر اہم اداروں کے درمیان ایک قومی معاہدے سے ہونا چاہیے، جس کے تحت چند اہم معاشی اور ساختی اہداف مقرر کیے جائیں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود انہیں برقرار رکھا جائے۔ اتفاقِ رائے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ٹیکس کی شرح یا پالیسی کے ہر طریقۂ کار پر مکمل اتفاق ہو۔ اس کا مطلب منزل، معاشی کھیل کے بنیادی اصولوں اور ایسی اصلاحات پر اتفاق ہے جنہیں ہر چند سال بعد تبدیل یا ختم نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہر ترجیح کو ایک قومی مشن کی شکل دی جائے، جس کے لیے قابلِ پیمائش اہداف، جواب دہ قیادت کی ٹیم، عمل درآمد کا واضح نظام الاوقات اور عوام کے سامنے کارکردگی کا اسکور کارڈ ہو۔ ایک باصلاحیت مرکزی نظامِ عمل درآمد کو حکومتی سطح پر رکاوٹوں کی نشاندہی، مختلف اداروں کے اعداد و شمار کو باہم مربوط کرنے، حل طلب معاملات کو اعلیٰ سطح تک پہنچانے اور قیادت کو حقیقی پیش رفت اور محض رسمی اعلانات میں فرق کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے نظام کو سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھنی ہوگی۔ پالیسیوں کو آزمایا، ان کا جائزہ لیا اور شواہد سے یہ ثابت ہونے پر کہ وہ مؤثر نہیں، ان میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ ممالک اور کمپنیاں اس لیے کامیاب نہیں ہوتیں کہ وہ کبھی غلطی نہیں کرتیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ناکامی کو بروقت تسلیم کرتی، حالات کے مطابق خود کو ڈھالتی اور ادارہ جاتی تجربہ محفوظ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں حکمرانی کا کلچر اکثر پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کو کمزوری تسلیم کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ حقیقت میں سیکھنے کی صلاحیت ریاستی اہلیت کی اعلیٰ ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی نچلی متوسط آمدن والی معیشت کے طور پر درجہ بند ہے۔ قومی سطح پر بامعنی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ایک نسل کے اندر پاکستان اعلیٰ متوسط آمدن والے ممالک کی صف میں شامل ہو۔ یہ ہدف کھپت پر مبنی معاشی سرگرمی کے عارضی ابھار اور اس کے بعد ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر سالانہ 6 سے 8 فیصد کی مسلسل معاشی نمو درکار ہوگی، جس کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ، برآمدات میں مسلسل توسیع، سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ اور فی شہری حقیقی آمدن میں بہتری بھی ضروری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی ایک وزیر خزانہ، وزیر اعظم، ماہرین پر مشتمل ٹیم یا آئی ایم ایف پروگرام تنہا یہ تبدیلی نہیں لا سکتا۔ اس کے لیے سیاسی جواز، ادارہ جاتی تسلسل اور معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان اس بات پر اتفاقِ رائے درکار ہے کہ دولت کو پائیدار انداز میں تقسیم کرنے سے پہلے اسے پیدا کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کئی دہائیوں سے ایسے انجن کی مرمت کرتا آ رہا ہے جو بار بار بند ہو جاتا ہے۔ ایک اور عارضی مرمت اسے اگلے بحران تک تو چلا سکتی ہے، لیکن ملک کو خوشحالی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پورے انجن کو ازسرِنو تعمیر کیا جائے اور اسے چلانے، اس کی نگرانی کرنے اور مسلسل بہتر بنانے کے لیے مطلوبہ قومی نظامِ کار بھی قائم کیا جائے۔ یہی وہ اصلاح ہے جس پر تمام دوسری اصلاحات کی بنیاد ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے پاس صلاحیت، قابلِ عمل تجاویز یا حتیٰ کہ وسائل کی بھی کمی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ابھی تک ایسا معاشی انجن تشکیل نہیں دیا جو اس کے عوام کی ضروریات اور امنگوں کے مطابق بڑے پیمانے پر دولت پیدا کر سکے، اور نہ ہی ایسا نظامِ کار بنایا ہے جو کسی ایک حکومت یا ایک نسل سے آگے اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھ سکے۔ لہٰذا پالیسی سازوں کے سامنے کام محض ایک اور اصلاحاتی پیکیج لانے سے کہیں بڑا ہے۔ انہیں دولت پیدا کرنے کے لیے ایک نیا معاشی انجن اور قومی سطح پر اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے ایک نیا نظامِ کار تشکیل دینا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں پاکستان ایسی وسیع معیشت کا حامل ہو سکے گا جو اپنی ترقیاتی امنگوں اور دفاعی ضروریات، دونوں کو پورا کرنے کے لیے کافی وسائل فراہم کر سکے اور بالآخر اس بے پناہ صلاحیت کو حقیقت میں بدل سکے جو بہت طویل عرصے سے اس کی دسترس سے باہر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں معاشی بحث اکثر محدود قومی بجٹ کی تقسیم کے گرد گھومتی رہتی ہے کہ دفاع پر زیادہ خرچ کیا جائے یا ترقی پر، سبسڈیز دی جائیں یا ٹیکس بڑھائے جائیں، وفاق کو زیادہ وسائل ملیں یا صوبوں کو، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں یا انفرااسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی جائے۔ یہ سب جائز اور اہم سوالات ہیں، لیکن ان کے باعث ایک بنیادی ناکامی نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ پاکستان تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات اور بڑھتی ہوئی توقعات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ دولت پیدا نہیں کر سکا۔</strong></p>
<p>ملک 25 کروڑ سے زائد آبادی کی ضروریات اور امنگوں کو ایسی معیشت سے پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اب بھی کم پیداواری صلاحیت کی حامل، ناکافی سرمایہ کاری کا شکار، محدود ٹیکس وصولی اور عالمی تجارت سے نہایت کم جڑی ہوئی ہے۔ اخراجات کی ترجیحات میں کوئی بھی ردوبدل اس بنیادی ساختی عدم توازن کو مستقل طور پر دور نہیں کر سکتا۔ لہٰذا پاکستان کی پہلی معاشی ترجیح اقتصادی حجم میں اضافہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان کی عوامی بحث میں اکثر اس نکتے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ملکی معیشت کا حجم موجودہ تقریباً 400 ارب ڈالر کے بجائے 800 ارب ڈالر ہوتا اور مالیاتی ترجیحات بھی مجموعی طور پر وہی برقرار رہتیں تو دفاع اور ترقی، دونوں کے لیے دستیاب وسائل میں نمایاں اضافہ ہو جاتا، جبکہ قومی آمدن میں ان کا تناسب بڑھانے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد کے مساوی دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہو جاتا، جبکہ جی ڈی پی کے تقریباً 2.4 فیصد کے مساوی ترقیاتی اخراجات 9.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ جاتے۔ تناسب وہی رہتا، لیکن قومی سلامتی، انفرااسٹرکچر، تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے لیے دستیاب وسائل عملاً دوگنا ہو جاتے۔ اس لیے پائیدار خوشحالی کا بنیادی مسئلہ دفاع اور ترقی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے اتنی قومی دولت پیدا کرنے کا ہے کہ دونوں شعبے بیک وقت ترقی کر سکیں۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں کہ محض اعداد و شمار میں معاشی ترقی کے حصول کو ہدف بنا لیا جائے۔ اس سے مراد قومی بچت، پیداواری سرمایہ کاری، برآمدات، ٹیکنالوجی کے استعمال، افرادی قوت کی شمولیت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ اس کا مطلب مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں، بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کی صلاحیت رکھنے والی صنعتوں اور زیادہ قدر پیدا کرنے والی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کا مطلب ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہے جس میں خوشحالی کی بنیاد بنیادی طور پر دنیا کو زیادہ پیداوار اور زیادہ اشیا فروخت کرنے پر ہو، نہ کہ وقفے وقفے سے ملنے والی بیرونی امداد، جغرافیائی سیاسی فوائد، ترسیلات زر، قرضوں یا غیر پائیدار درآمدات کے ذریعے ہونے والی کھپت پر۔</p>
<p>پاکستان کی تاریخی معاشی شرح نمو کو بھی درست تناظر میں بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی شرح نمو ہمیشہ صرف 3 یا 4 فیصد نہیں رہی۔ 1980 کی دہائی میں اوسط شرح نمو تقریباً 6.1 فیصد رہی، جو 1990 کی دہائی میں کم ہو کر 4.4 فیصد ہوئی اور 2000 کی دہائی میں معمولی بحالی کے بعد تقریباً 4.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم زیادہ اہم اعداد و شمار یہ ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران فی کس حقیقی پیداوار میں سالانہ اوسط اضافہ صرف تقریباً 2.2 فیصد رہا ہے۔ تیز تر معاشی توسیع کے ادوار اکثر مختصر مدت ہی ثابت ہوئے کیونکہ ان کا انحصار بیرونی رقوم کی آمد، قرضوں میں اضافے یا ملکی طلب میں ایسے عارضی اضافے پر تھا جو بالآخر تجارتی خسارے، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ایک اور آئی ایم ایف پروگرام پر منتج ہوا۔</p>
<p>یہی پاکستان کے بار بار دہرائے جانے والے معاشی چکر کی وضاحت کرتا ہے۔ بیرونی فنانسنگ دستیاب ہوتی ہے، درآمدات بڑھتی ہیں، کھپت میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں عارضی طور پر تیز ہو جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ ملکی پیداوار اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا، اس لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں، روپے پر دباؤ بڑھتا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومت دوبارہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرتی ہے۔</p>
<p>اس کے بعد معاشی استحکام کے اقدامات طلب کو محدود کرتے اور عارضی طور پر توازن بحال کرتے ہیں، لیکن معیشت کے پیداواری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔ جیسے ہی بیرونی فنانسنگ کے حالات بہتر ہوتے ہیں، پرانا معاشی چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>تازہ ترین اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کے بنیادی محرک میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب صرف 14.4 فیصد رہا، جبکہ قومی بچت جی ڈی پی کے 14.1 فیصد کے برابر رہی۔ اقتصادی سروے خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ حالیہ برسوں میں سرمایہ کاری تقریباً 14 فیصد کے آس پاس رہی ہے، جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ وہ معیشتیں جنہوں نے خود کو تبدیل کیا، خصوصاً مشرقی ایشیا کی معیشتوں نے، طویل عرصے تک اپنی قومی آمدن کا کہیں زیادہ حصہ سرمایہ کاری پر صرف کیا۔</p>
<p>14 فیصد کی شرح پر پاکستان اپنے شہروں، صنعت، لاجسٹکس، زراعت، توانائی کے نظام، اسکولوں اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کر رہا، جبکہ ہر سال لاکھوں نوجوانوں کو پیداواری روزگار میں شامل کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ نہ ہی ملکی سطح پر اتنی بچت ہو رہی ہے کہ اس محدود سرمایہ کاری کو بھی بیرونی سرمائے پر بار بار انحصار کیے بغیر پورا کیا جا سکے۔</p>
<p>برآمدات بھی اسی ساختی کمزوری کی عکاسی کرتی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے برآمدی شعبے کا حجم جی ڈی پی کے صرف تقریباً 10 فیصد کے برابر ہے۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات اب بھی ملکی اشیا کی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد ہیں، جس کے باعث پاکستان محدود تعداد میں مصنوعات، منڈیوں اور بیرونی طلب کے حالات پر انحصار کے باعث خاصا غیر محفوظ ہے۔ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ کے دوران مجموعی برآمدات میں 8 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں۔</p>
<p>پاکستان میں بلاشبہ کامیاب ٹیکسٹائل کمپنیاں، تیزی سے ترقی کرتی آئی ٹی سروسز کی صنعت، باصلاحیت کاروباری افراد اور زراعت کے شعبے میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ لیکن چند شعبوں کی غیر معمولی کارکردگی کو مکمل برآمدی معیشت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک کو کاٹن یارن اور بنیادی نوعیت کے ملبوسات سے آگے بڑھ کر ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ ملبوسات، انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، پراسیس شدہ غذائی اشیا، ڈیجیٹل مصنوعات، پیشہ ورانہ خدمات، مقامی ویلیو ایڈیشن کے ساتھ معدنیات اور علاقائی و عالمی سپلائی چینز میں شمولیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>ترسیلات زر بدستور زرمبادلہ کا ایک نہایت قیمتی ذریعہ ہیں اور لاکھوں گھرانوں کو سہارا فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ان کا حجم ملکی سطح پر دولت پیدا کرنے کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ 2024 میں ذاتی ترسیلات زر جی ڈی پی کے تقریباً 9.4 فیصد کے برابر تھیں، جو جی ڈی پی کے تناسب سے ملک کے برآمدی شعبے کے تقریباً برابر ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی دراصل وہ زرمبادلہ فراہم کر رہے ہیں جو ملکی پیداواری معیشت اندرون ملک مطلوبہ مقدار میں پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>مقصد ترسیلات زر کو کم کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسی معیشت تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں برآمدات، سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور ہائی ویلیو سروسز بالآخر ترسیلات زر سے کہیں زیادہ حجم اختیار کر لیں۔ ایک کامیاب ملک کو اپنے زیادہ سے زیادہ باصلاحیت شہریوں کو اندرون ملک پیداواری روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارت بھی اپنی طرف متوجہ کرنی چاہیے، نہ کہ اپنے انسانی سرمائے کو بیرون ملک بھیجتے رہنا چاہیے۔</p>
<p>کم سرمایہ کاری، محدود برآمدات اور کمزور پیداواری صلاحیت الگ الگ مسائل نہیں ہیں۔ یہ سب ایسی سیاسی معیشت سے جنم لیتے ہیں جہاں جدت، کارکردگی اور مسابقت کے مقابلے میں رسائی، تحفظ اور اثر و رسوخ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی اکثر تحقیق، ٹیکنالوجی، افرادی قوت کی مہارت اور عالمی مسابقت میں سرمایہ کاری کے بجائے ٹیکس مراعات، محفوظ منڈیوں، سبسڈائزڈ خام مال، سازگار ضوابط یا سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کی جانب ہوتی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً معیشت میں ذاتی مفادات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بہت زیادہ اور پیداواری خطرات مول لینے کی ترغیبات بہت کم ہیں۔ سرمایہ زیادہ تر محفوظ شعبوں، حکومتی سیکیورٹیز، قیاس آرائی پر مبنی رئیل اسٹیٹ اور ملکی کھپت کو پورا کرنے والی سرگرمیوں کی جانب جاتا ہے۔ برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور اختراعی کمپنیوں کو غیر مستقل ٹیکس نظام، مہنگی توانائی، ناقابلِ اعتماد انفرااسٹرکچر، پالیسیوں میں بار بار تبدیلی، پیچیدہ ضوابط اور ایسے زرِ مبادلہ کے نظام کا سامنا ہے جس نے وقتاً فوقتاً برآمدات کو نقصان پہنچایا اور درآمدات کو سہارا دیا ہے۔</p>
<p>تاہم خراب اقتصادی انجن کی نشاندہی کرنا صرف آدھا کام ہے۔ پاکستان کے پاس اسے درست کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی نظام بھی موجود نہیں۔</p>
<p>ماہرِ معاشیات عاطف میاں کے مطابق پاکستان کو ایک نئے ’’اعصابی نظام‘‘ کی ضرورت ہے، جو حقیقی اعداد و شمار، حقیقی معنوں میں سیکھنے کے عمل اور باصلاحیت افراد کو بااختیار بنانے پر مبنی ہو۔ یہ تشبیہ نہایت موزوں ہے۔ کسی ملک میں وزارتیں، منصوبے، کمیٹیاں اور قابل افراد موجود ہونے کے باوجود نظام ناکام ہو سکتا ہے، اگر معلومات درست انداز میں گردش نہ کریں، فیصلوں کو عملی جامہ نہ پہنایا جائے، کارکردگی کی پیمائش نہ ہو اور ادارے اپنی ناکامیوں سے سبق نہ سیکھیں۔</p>
<p>پاکستان کو منصوبوں کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ پالیسیوں کے تسلسل کی کمزوری، اختیارات کی تقسیم اور ناقص عمل درآمد اس کے بڑے مسائل ہیں۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں برآمدات کی حکمتِ عملی، ٹیکس اصلاحات، نجکاری پروگرام، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کرتی رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سی تجاویز معقول بھی ہیں، لیکن اہداف کو شاذ و نادر ہی واضح طور پر متعین ذمہ داریوں، قابلِ پیمائش نتائج، جواب دہ افسران، قابلِ اعتماد اعداد و شمار، عمل درآمد کے نظام الاوقات اور شفاف جائزہ لینے کے طریقہ کار میں تبدیل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>حکومت تبدیل ہوتے ہی پالیسیاں اکثر ترک کر دی جاتی ہیں۔ وزارتیں اپنے اپنے دائرے تک محدود رہتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی ترجیحات میں اختلاف رہتا ہے۔ اعداد و شمار تاخیر سے دستیاب ہوتے یا متنازع رہتے ہیں۔ ناقص کارکردگی کی قیمت شاذ ہی کوئی ادا کرتا ہے، جبکہ کسی افسر کے تبادلے یا وزیر کی رخصتی کے ساتھ ادارہ جاتی تجربہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ ریاست بار بار نئے سرے سے آغاز کرتی ہے، سیکھنے اور بہتری کی کوشش نہیں کرتی۔</p>
<p>اسی لیے الگ تھلگ اصلاحات پاکستان کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ کسی ایک ٹیکس میں اضافہ، چند سرکاری اداروں کی نجکاری، سرمایہ کاری کے لیے ایک سہولت مرکز کا قیام یا کسی ایک برآمدی صنعت کو سبسڈی دینے سے عارضی بہتری تو آ سکتی ہے، لیکن ایک مربوط نظامِ کار کے بغیر کی جانے والی اصلاحات بالآخر اردگرد کے ادارہ جاتی ماحول کے دباؤ میں بے اثر ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کو بیک وقت دو بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ پہلی، اس کے معاشی انجن کی ازسرِنو تشکیل؛ اور دوسری، ایسا قومی نظامِ کار تشکیل دینا جو اس تبدیلی کو آگے بڑھانے اور برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔</p>
<p>معاشی انجن کی بنیاد باہم مربوط چند قومی ترجیحات پر ہونی چاہیے: بچت اور سرمایہ کاری میں اضافہ، برآمدات کی قیادت میں معاشی نمو کا حصول، زرعی اور صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری، انسانی سرمائے پر سرمایہ کاری، خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھانا، توانائی اور سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات، معیشت اور ریاست کو ڈیجیٹل بنانا، مسابقتی منڈیوں کا قیام اور پہلے ہی بوجھ تلے دبے رسمی شعبے پر بار بار اضافی بوجھ ڈالے بغیر محصولات میں نمایاں اضافہ۔</p>
<p>اس نظامِ کار کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان ترجیحات پر اتفاقِ رائے کیسے قائم کیا جائے، ان پر عمل درآمد کیسے ہو اور ان کی پیش رفت کی پیمائش کیسے کی جائے۔ اس کا آغاز سیاسی جماعتوں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مسلح افواج، کاروباری برادری، محنت کشوں اور دیگر اہم اداروں کے درمیان ایک قومی معاہدے سے ہونا چاہیے، جس کے تحت چند اہم معاشی اور ساختی اہداف مقرر کیے جائیں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود انہیں برقرار رکھا جائے۔ اتفاقِ رائے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ٹیکس کی شرح یا پالیسی کے ہر طریقۂ کار پر مکمل اتفاق ہو۔ اس کا مطلب منزل، معاشی کھیل کے بنیادی اصولوں اور ایسی اصلاحات پر اتفاق ہے جنہیں ہر چند سال بعد تبدیل یا ختم نہ کیا جائے۔</p>
<p>اس کے بعد ہر ترجیح کو ایک قومی مشن کی شکل دی جائے، جس کے لیے قابلِ پیمائش اہداف، جواب دہ قیادت کی ٹیم، عمل درآمد کا واضح نظام الاوقات اور عوام کے سامنے کارکردگی کا اسکور کارڈ ہو۔ ایک باصلاحیت مرکزی نظامِ عمل درآمد کو حکومتی سطح پر رکاوٹوں کی نشاندہی، مختلف اداروں کے اعداد و شمار کو باہم مربوط کرنے، حل طلب معاملات کو اعلیٰ سطح تک پہنچانے اور قیادت کو حقیقی پیش رفت اور محض رسمی اعلانات میں فرق کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔</p>
<p>ایسے نظام کو سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھنی ہوگی۔ پالیسیوں کو آزمایا، ان کا جائزہ لیا اور شواہد سے یہ ثابت ہونے پر کہ وہ مؤثر نہیں، ان میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ ممالک اور کمپنیاں اس لیے کامیاب نہیں ہوتیں کہ وہ کبھی غلطی نہیں کرتیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ناکامی کو بروقت تسلیم کرتی، حالات کے مطابق خود کو ڈھالتی اور ادارہ جاتی تجربہ محفوظ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں حکمرانی کا کلچر اکثر پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کو کمزوری تسلیم کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ حقیقت میں سیکھنے کی صلاحیت ریاستی اہلیت کی اعلیٰ ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی نچلی متوسط آمدن والی معیشت کے طور پر درجہ بند ہے۔ قومی سطح پر بامعنی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ایک نسل کے اندر پاکستان اعلیٰ متوسط آمدن والے ممالک کی صف میں شامل ہو۔ یہ ہدف کھپت پر مبنی معاشی سرگرمی کے عارضی ابھار اور اس کے بعد ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر سالانہ 6 سے 8 فیصد کی مسلسل معاشی نمو درکار ہوگی، جس کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ، برآمدات میں مسلسل توسیع، سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ اور فی شہری حقیقی آمدن میں بہتری بھی ضروری ہوگی۔</p>
<p>کوئی ایک وزیر خزانہ، وزیر اعظم، ماہرین پر مشتمل ٹیم یا آئی ایم ایف پروگرام تنہا یہ تبدیلی نہیں لا سکتا۔ اس کے لیے سیاسی جواز، ادارہ جاتی تسلسل اور معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان اس بات پر اتفاقِ رائے درکار ہے کہ دولت کو پائیدار انداز میں تقسیم کرنے سے پہلے اسے پیدا کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کئی دہائیوں سے ایسے انجن کی مرمت کرتا آ رہا ہے جو بار بار بند ہو جاتا ہے۔ ایک اور عارضی مرمت اسے اگلے بحران تک تو چلا سکتی ہے، لیکن ملک کو خوشحالی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پورے انجن کو ازسرِنو تعمیر کیا جائے اور اسے چلانے، اس کی نگرانی کرنے اور مسلسل بہتر بنانے کے لیے مطلوبہ قومی نظامِ کار بھی قائم کیا جائے۔ یہی وہ اصلاح ہے جس پر تمام دوسری اصلاحات کی بنیاد ہونی چاہیے۔</p>
<p>پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے پاس صلاحیت، قابلِ عمل تجاویز یا حتیٰ کہ وسائل کی بھی کمی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ابھی تک ایسا معاشی انجن تشکیل نہیں دیا جو اس کے عوام کی ضروریات اور امنگوں کے مطابق بڑے پیمانے پر دولت پیدا کر سکے، اور نہ ہی ایسا نظامِ کار بنایا ہے جو کسی ایک حکومت یا ایک نسل سے آگے اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھ سکے۔ لہٰذا پالیسی سازوں کے سامنے کام محض ایک اور اصلاحاتی پیکیج لانے سے کہیں بڑا ہے۔ انہیں دولت پیدا کرنے کے لیے ایک نیا معاشی انجن اور قومی سطح پر اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے ایک نیا نظامِ کار تشکیل دینا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں پاکستان ایسی وسیع معیشت کا حامل ہو سکے گا جو اپنی ترقیاتی امنگوں اور دفاعی ضروریات، دونوں کو پورا کرنے کے لیے کافی وسائل فراہم کر سکے اور بالآخر اس بے پناہ صلاحیت کو حقیقت میں بدل سکے جو بہت طویل عرصے سے اس کی دسترس سے باہر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290281</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2026 16:37:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اظہر عزیز ڈوگر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/21162257c010603.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/21162257c010603.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
