<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:43:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:43:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایران کے شراکت داروں پر پابندیوں کی دھمکی، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290243/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد جمعے کو عالمی اور امریکی خام تیل کے فیوچرز کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے آنے والے ہفتوں میں تیل کی رسد مزید محدود ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ خام تیل کے فیوچرز صبح 10:40 بجے سی ڈی ٹی (1540 جی ایم ٹی) تک 8 سینٹ یا 0.09 فیصد اضافے سے 93.86 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 16 سینٹ یا 0.18 فیصد اضافے سے 86.99 ڈالر فی بیرل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کی قیمت رواں ہفتے اب تک 6 فیصد سے زیادہ جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 5 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ گزشتہ سیشن میں دونوں کی قیمتیں 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگین کیپیٹل کے پارٹنر جان کِلڈف نے کہا، ’’ایران کو قابو میں لانے کا واحد مؤثر ذریعہ پابندیاں ہی رہی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے جمعے کو کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئی دھمکی کا اس کا جواب ’’تباہ کن‘‘ ہوگا۔ واشنگٹن نے ایرانی قیادت کا تختہ الٹنے کے مقصد سے تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمپائر ایف ایکس کے ریسرچ اینالسٹ کرسپَس نیگا نے کہا، ’’رسد پر فوری اثر محدود رہ سکتا ہے کیونکہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی برآمدات پہلے ہی شدید محدود ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’تاہم، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت معمول کی سطح سے بدستور بہت کم ہونے کے باعث بحری جہازوں سے متعلق واقعات میں اضافہ اور اقتصادی پابندیوں کے ردعمل میں جوابی کارروائیاں موجودہ صورت حال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے رسد میں مسلسل کمی کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان پہلے طے پانے والا امن معاہدہ اس ہفتے ختم ہوگیا، جبکہ دونوں میں سے کسی فریق نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی ذرائع کے مطابق چینی خریداروں کو ایرانی خام تیل کی پیشکشیں کم ہوگئی ہیں اور رواں ہفتے قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ امریکی ناکہ بندی نے ایران کی تیل کی ترسیلات محدود کر دی ہیں، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے مزید پابندیوں کی دھمکی بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="رسد-میں-خلل-برقرار" href="#رسد-میں-خلل-برقرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رسد میں خلل برقرار&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;شپ ٹریکنگ کمپنی کیلپر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو سات اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو ایک روز قبل گزرنے والے جہازوں کی تعداد کا صرف نصف تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے اواخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی رسد گزرتی تھی۔ جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، تاہم اس آبی گزرگاہ سے توانائی کی ترسیل میں خلل بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوکرین کی فوج نے رات کے وقت روس کے شہر پرم میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جو یوکرین کی سرحد سے 1,600 کلومیٹر (1,000 میل) سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو یہ بات بتائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد جمعے کو عالمی اور امریکی خام تیل کے فیوچرز کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے آنے والے ہفتوں میں تیل کی رسد مزید محدود ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ خام تیل کے فیوچرز صبح 10:40 بجے سی ڈی ٹی (1540 جی ایم ٹی) تک 8 سینٹ یا 0.09 فیصد اضافے سے 93.86 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 16 سینٹ یا 0.18 فیصد اضافے سے 86.99 ڈالر فی بیرل رہا۔</p>
<p>برینٹ کی قیمت رواں ہفتے اب تک 6 فیصد سے زیادہ جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 5 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ گزشتہ سیشن میں دونوں کی قیمتیں 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔</p>
<p>ایگین کیپیٹل کے پارٹنر جان کِلڈف نے کہا، ’’ایران کو قابو میں لانے کا واحد مؤثر ذریعہ پابندیاں ہی رہی ہیں۔‘‘</p>
<p>ایران نے جمعے کو کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئی دھمکی کا اس کا جواب ’’تباہ کن‘‘ ہوگا۔ واشنگٹن نے ایرانی قیادت کا تختہ الٹنے کے مقصد سے تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ایمپائر ایف ایکس کے ریسرچ اینالسٹ کرسپَس نیگا نے کہا، ’’رسد پر فوری اثر محدود رہ سکتا ہے کیونکہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی برآمدات پہلے ہی شدید محدود ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’تاہم، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت معمول کی سطح سے بدستور بہت کم ہونے کے باعث بحری جہازوں سے متعلق واقعات میں اضافہ اور اقتصادی پابندیوں کے ردعمل میں جوابی کارروائیاں موجودہ صورت حال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔‘‘</p>
<p>سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے رسد میں مسلسل کمی کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان پہلے طے پانے والا امن معاہدہ اس ہفتے ختم ہوگیا، جبکہ دونوں میں سے کسی فریق نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش نہیں کی۔</p>
<p>تجارتی ذرائع کے مطابق چینی خریداروں کو ایرانی خام تیل کی پیشکشیں کم ہوگئی ہیں اور رواں ہفتے قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ امریکی ناکہ بندی نے ایران کی تیل کی ترسیلات محدود کر دی ہیں، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے مزید پابندیوں کی دھمکی بھی موجود ہے۔</p>
<h3><a id="رسد-میں-خلل-برقرار" href="#رسد-میں-خلل-برقرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رسد میں خلل برقرار</h3>
<p>شپ ٹریکنگ کمپنی کیلپر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو سات اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو ایک روز قبل گزرنے والے جہازوں کی تعداد کا صرف نصف تھے۔</p>
<p>فروری کے اواخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی رسد گزرتی تھی۔ جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، تاہم اس آبی گزرگاہ سے توانائی کی ترسیل میں خلل بدستور برقرار ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یوکرین کی فوج نے رات کے وقت روس کے شہر پرم میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جو یوکرین کی سرحد سے 1,600 کلومیٹر (1,000 میل) سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو یہ بات بتائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290243</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2026 22:02:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/21083615182f417.webp" type="image/webp" medium="image" height="405" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/21083615182f417.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
