<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:03:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:03:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور جاپان کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور جاپان نے جمعرات کو وزرائے دفاع کی نئی دہلی میں ملاقات کے بعد سمندری تعاون سمیت سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیے کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے جاپانی ہم منصب شنجیرو کوئزومی نے مذاکرات کیے اور بحری سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک امریکا اور آسٹریلیا کے ساتھ نام نہاد کواڈ سکیورٹی اتحاد کا حصہ ہیں، جسے بحر ہند اور وسیع تر ایشیا بحرالکاہل خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے توڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’’دونوں وزرا نے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل کے قیام کے لیے دفاعی تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’’ایسا تعاون نہ صرف جاپان اور بھارت بلکہ خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی چاہتا ہے کہ ٹوکیو سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کی مقامی دفاعی سازوسامان کی صنعت کے قیام کی کوششوں میں زیادہ بھرپور کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزرا نے کہا کہ دونوں ممالک کو بحری جہاز سازی اور ڈیزائن کے شعبے میں مشترکہ ترقی کے امکانات تلاش کرنے چاہییں، جس کے تحت ٹوکیو کی تکنیکی مہارت اور نئی دہلی کی پیداواری صلاحیتوں کو بھارت کے ’’میک اِن انڈیا‘‘ اقدام کے تحت یکجا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئزومی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وزیراعظم نریندر مودی نے جولائی میں اپنی جاپانی ہم منصب سانائے تاکائچی کی میزبانی کی تھی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اہم معدنیات کے شعبے میں قریبی تعاون پر اتفاق کیا تھا، جس پر چین کا غلبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ملاقات کے بعد تاکائچی نے خبردار کیا تھا کہ جاپان اور بھارت کو ’’معیشت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور غیرمنڈی پر مبنی پالیسیوں اور طریقۂ کار‘‘ سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی اور تاکائچی کی ملاقات کے بعد چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تعاون ’’تیسرے فریق کے مفادات کو نشانہ بنانے یا انہیں نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، نہ ہی اسے خصوصی گروہ بندی یا محاذ آرائی کو ہوا دینے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور جاپان نے جمعرات کو وزرائے دفاع کی نئی دہلی میں ملاقات کے بعد سمندری تعاون سمیت سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>مشترکہ اعلامیے کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے جاپانی ہم منصب شنجیرو کوئزومی نے مذاکرات کیے اور بحری سکیورٹی تعاون کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔</p>
<p>دونوں ممالک امریکا اور آسٹریلیا کے ساتھ نام نہاد کواڈ سکیورٹی اتحاد کا حصہ ہیں، جسے بحر ہند اور وسیع تر ایشیا بحرالکاہل خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے توڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’’دونوں وزرا نے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل کے قیام کے لیے دفاعی تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘‘</p>
<p>اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’’ایسا تعاون نہ صرف جاپان اور بھارت بلکہ خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔‘‘</p>
<p>نئی دہلی چاہتا ہے کہ ٹوکیو سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کی مقامی دفاعی سازوسامان کی صنعت کے قیام کی کوششوں میں زیادہ بھرپور کردار ادا کرے۔</p>
<p>دونوں وزرا نے کہا کہ دونوں ممالک کو بحری جہاز سازی اور ڈیزائن کے شعبے میں مشترکہ ترقی کے امکانات تلاش کرنے چاہییں، جس کے تحت ٹوکیو کی تکنیکی مہارت اور نئی دہلی کی پیداواری صلاحیتوں کو بھارت کے ’’میک اِن انڈیا‘‘ اقدام کے تحت یکجا کیا جائے۔</p>
<p>کوئزومی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وزیراعظم نریندر مودی نے جولائی میں اپنی جاپانی ہم منصب سانائے تاکائچی کی میزبانی کی تھی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اہم معدنیات کے شعبے میں قریبی تعاون پر اتفاق کیا تھا، جس پر چین کا غلبہ ہے۔</p>
<p>اس ملاقات کے بعد تاکائچی نے خبردار کیا تھا کہ جاپان اور بھارت کو ’’معیشت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور غیرمنڈی پر مبنی پالیسیوں اور طریقۂ کار‘‘ سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔</p>
<p>مودی اور تاکائچی کی ملاقات کے بعد چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تعاون ’’تیسرے فریق کے مفادات کو نشانہ بنانے یا انہیں نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، نہ ہی اسے خصوصی گروہ بندی یا محاذ آرائی کو ہوا دینے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290237</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Aug 2026 22:03:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/20215801b0829df.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/20215801b0829df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
