<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 01:36:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 01:36:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈسکوز کو سرکاری دفاتر میں اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290200/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن کے سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ مدت کے اندر سرکاری دفاتر میں نصب بجلی کے میٹروں کو ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) میٹروں سے تبدیل کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ ہدایات ایک اجلاس کے دوران جاری کیں جس میں تمام صوبائی اور وفاقی حکومت کی ملکیت والے بجلی کے کنکشنز پر ڈسکوز کی جانب سے اے ایم آئی میٹروں کی تنصیب پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام ڈسکوز نے سرکاری عمارتوں میں موجود بجلی کے میٹروں کی تبدیلی کا عمل شروع کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد بجلی کے بلوں میں شفافیت یقینی بنانا اور سرکاری بجلی کے واجبات سے متعلق طویل عرصے سے جاری حسابات کے تصفیے کے مسائل حل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک سرکاری بجلی کے 90 فیصد کنکشنز کو اے ایم آئی میٹروں پر منتقل کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری پاور ڈویژن نے تمام ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت کے اندر سرکاری بجلی کے 100 فیصد میٹروں کو اے ایم آئی میٹروں سے تبدیل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈسکوز کو ہدایت کی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں میٹروں کی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن کے سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ مدت کے اندر سرکاری دفاتر میں نصب بجلی کے میٹروں کو ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) میٹروں سے تبدیل کیا جائے۔</strong></p>
<p>انہوں نے یہ ہدایات ایک اجلاس کے دوران جاری کیں جس میں تمام صوبائی اور وفاقی حکومت کی ملکیت والے بجلی کے کنکشنز پر ڈسکوز کی جانب سے اے ایم آئی میٹروں کی تنصیب پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام ڈسکوز نے سرکاری عمارتوں میں موجود بجلی کے میٹروں کی تبدیلی کا عمل شروع کردیا ہے۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد بجلی کے بلوں میں شفافیت یقینی بنانا اور سرکاری بجلی کے واجبات سے متعلق طویل عرصے سے جاری حسابات کے تصفیے کے مسائل حل کرنا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک سرکاری بجلی کے 90 فیصد کنکشنز کو اے ایم آئی میٹروں پر منتقل کردیا جائے گا۔</p>
<p>سیکریٹری پاور ڈویژن نے تمام ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت کے اندر سرکاری بجلی کے 100 فیصد میٹروں کو اے ایم آئی میٹروں سے تبدیل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>انہوں نے مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈسکوز کو ہدایت کی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں میٹروں کی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290200</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Aug 2026 09:32:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2009295558aa91a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2009295558aa91a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
