<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:44:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کی خلیجی ممالک کو امریکا کی مدد سے باز رہنے کی تنبیہ، متحدہ عرب امارات نے تجارتی تعلقات منقطع کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290190/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی مسلح افواج نے بدھ کو خلیجی ممالک کو امریکی فوج کی مدد سے خبردار کیا، چند گھنٹے قبل متحدہ عرب امارات نے جہازرانی پر نئے حملوں کے بعد ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی خطے میں متعدد امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔ امارات نے منگل کو کہا تھا کہ ایران نے اس کے ساحل کے قریب موجود بحری جہازوں پر دو بیلسٹک میزائل داغے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عرصے میں کشیدگی میں نسبتاً کمی کے باوجود آبنائے ہرمز، جسے تہران نے بند کر رکھا ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے اور تجارتی جہازوں پر حملے بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مجوزہ معاہدے کا خاکہ بھی ناکام ہوگیا۔ اگرچہ دونوں فریقوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا کہ مذاکرات ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آبنائے ہرمز کو ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ قرار دے کر ایران کا تمسخر بھی اڑایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے خبردار کیا کہ ’’جارح امریکی فوج کو فراہم کی جانے والی کسی بھی معاونت یا سہولت کاری کو امریکی فوجی کارروائی میں شرکت تصور کیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع 28 فروری کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا، جس کے جواب میں ایران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کو اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم عبداللہی نے ان یقین دہانیوں پر شکوک کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہی نے کہا، ’’یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی طیارے، خصوصاً ایندھن بھرنے والے طیارے، میزبان ممالک کے علم میں لائے بغیر خطے کے فوجی اڈوں پر موجود ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کو ’’یہ جان لینا چاہیے کہ ہمیں صورتِ حال کا مکمل علم ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے جواب میں ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، تاہم ان ممالک نے زیادہ تر ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’’مزید اطلاع تک معطل‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام اقتصادی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر برائے مواصلات عفرا الحمیلی نے کہا، ’’علاقائی کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالی معاملات مزید اطلاع تک معطل کردیے گئے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ابوظہبی نے ایران پر ملک کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم بعد میں وضاحت کی کہ میزائلوں کا ہدف بحری جہاز تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج کے آرپار واقع دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، جہاں ایرانی کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے، جنگ سے قبل امریکی پابندیوں کا شکار ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے جنگ شروع ہونے کے اوائل میں تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا، جبکہ ایران سے منسلک اسکول اور ایک اسپتال بھی بند کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ’ایڈنوک‘ سے وابستہ ٹینکروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے اعلیٰ سفارت کار مارکو روبیو نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں ’’ایران اور اس کے دہشت گرد پراکسی گروہوں کو جاری حملوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے باہمی تعاون‘‘ اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمدورفت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، تاہم امریکی صدر کے نمائندے اور داماد جیرڈ کشنر نے پیر کو کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’انتہائی مثبت اور فعال بات چیت‘‘ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صدر ٹرمپ نے منگل کو اس کی تردید کرتے ہوئے ایک بار پھر اصرار کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، حالانکہ ایران کی جانب سے عائد ناکہ بندی نے کئی ماہ سے اس آبی گزرگاہ میں جہازرانی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات یا بات چیت ہو رہی ہے اور نہ ہی طے ہے۔ بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ العمل ہے۔‘‘ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکا کی جوابی بحری ناکہ بندی کی جانب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ٹرمپ نے ایک نقشہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا جس میں آبنائے ہرمز کو ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ دکھایا گیا تھا۔ یہ تیل اور گیس کی ترسیل کی اس اہم گزرگاہ کو اپنے قبضے میں لینے کی ان کی سابقہ دھمکی کی بازگشت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے بڑے پیمانے پر اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں، جبکہ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے باعث اہم فوجی گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے، تاہم ٹرمپ اور امریکی محکمہ دفاع نے عوامی طور پر ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوجی کارروائیوں کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود تنازع فیصلہ کن طور پر ختم نہ ہونے پر ایرانی حکام نے واشنگٹن کی جانب سے جاری دھمکیوں کے مقابلے میں کھلے عام سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے عراق کا دورہ کیا اور کہا کہ یہ دورہ ’’خطے میں نئے نظام کو مضبوط بنانے‘‘ اور ’’غیر ملکی مداخلت کے بغیر‘‘ تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’عراق میں مزاحمت بھی اس ملک کی طاقت کے عناصر میں سے ایک ہے،‘‘ بظاہر ان کا اشارہ عراق میں سرگرم ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی مسلح افواج نے بدھ کو خلیجی ممالک کو امریکی فوج کی مدد سے خبردار کیا، چند گھنٹے قبل متحدہ عرب امارات نے جہازرانی پر نئے حملوں کے بعد ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔</strong></p>
<p>خلیجی خطے میں متعدد امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔ امارات نے منگل کو کہا تھا کہ ایران نے اس کے ساحل کے قریب موجود بحری جہازوں پر دو بیلسٹک میزائل داغے۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عرصے میں کشیدگی میں نسبتاً کمی کے باوجود آبنائے ہرمز، جسے تہران نے بند کر رکھا ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے اور تجارتی جہازوں پر حملے بھی جاری ہیں۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مجوزہ معاہدے کا خاکہ بھی ناکام ہوگیا۔ اگرچہ دونوں فریقوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا کہ مذاکرات ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آبنائے ہرمز کو ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ قرار دے کر ایران کا تمسخر بھی اڑایا۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے خبردار کیا کہ ’’جارح امریکی فوج کو فراہم کی جانے والی کسی بھی معاونت یا سہولت کاری کو امریکی فوجی کارروائی میں شرکت تصور کیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>یہ تنازع 28 فروری کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا، جس کے جواب میں ایران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کو اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم عبداللہی نے ان یقین دہانیوں پر شکوک کا اظہار کیا۔</p>
<p>عبداللہی نے کہا، ’’یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی طیارے، خصوصاً ایندھن بھرنے والے طیارے، میزبان ممالک کے علم میں لائے بغیر خطے کے فوجی اڈوں پر موجود ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کو ’’یہ جان لینا چاہیے کہ ہمیں صورتِ حال کا مکمل علم ہے۔‘‘</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے جواب میں ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، تاہم ان ممالک نے زیادہ تر ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔</p>
<p><strong>’’مزید اطلاع تک معطل‘‘</strong></p>
<p>متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام اقتصادی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔</p>
<p>وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر برائے مواصلات عفرا الحمیلی نے کہا، ’’علاقائی کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالی معاملات مزید اطلاع تک معطل کردیے گئے ہیں۔‘‘</p>
<p>اس سے قبل ابوظہبی نے ایران پر ملک کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم بعد میں وضاحت کی کہ میزائلوں کا ہدف بحری جہاز تھے۔</p>
<p>خلیج کے آرپار واقع دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، جہاں ایرانی کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے، جنگ سے قبل امریکی پابندیوں کا شکار ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے جنگ شروع ہونے کے اوائل میں تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا، جبکہ ایران سے منسلک اسکول اور ایک اسپتال بھی بند کر دیے ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ’ایڈنوک‘ سے وابستہ ٹینکروں کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔</p>
<p>امریکا کے اعلیٰ سفارت کار مارکو روبیو نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں ’’ایران اور اس کے دہشت گرد پراکسی گروہوں کو جاری حملوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے باہمی تعاون‘‘ اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمدورفت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p><strong>’’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے‘‘</strong></p>
<p>تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، تاہم امریکی صدر کے نمائندے اور داماد جیرڈ کشنر نے پیر کو کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’انتہائی مثبت اور فعال بات چیت‘‘ جاری ہے۔</p>
<p>تاہم صدر ٹرمپ نے منگل کو اس کی تردید کرتے ہوئے ایک بار پھر اصرار کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، حالانکہ ایران کی جانب سے عائد ناکہ بندی نے کئی ماہ سے اس آبی گزرگاہ میں جہازرانی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات یا بات چیت ہو رہی ہے اور نہ ہی طے ہے۔ بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ العمل ہے۔‘‘ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکا کی جوابی بحری ناکہ بندی کی جانب تھا۔</p>
<p>اس سے قبل ٹرمپ نے ایک نقشہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا جس میں آبنائے ہرمز کو ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ دکھایا گیا تھا۔ یہ تیل اور گیس کی ترسیل کی اس اہم گزرگاہ کو اپنے قبضے میں لینے کی ان کی سابقہ دھمکی کی بازگشت تھی۔</p>
<p>امریکا نے بڑے پیمانے پر اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں، جبکہ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے باعث اہم فوجی گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے، تاہم ٹرمپ اور امریکی محکمہ دفاع نے عوامی طور پر ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔</p>
<p>امریکی فوجی کارروائیوں کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود تنازع فیصلہ کن طور پر ختم نہ ہونے پر ایرانی حکام نے واشنگٹن کی جانب سے جاری دھمکیوں کے مقابلے میں کھلے عام سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے عراق کا دورہ کیا اور کہا کہ یہ دورہ ’’خطے میں نئے نظام کو مضبوط بنانے‘‘ اور ’’غیر ملکی مداخلت کے بغیر‘‘ تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’عراق میں مزاحمت بھی اس ملک کی طاقت کے عناصر میں سے ایک ہے،‘‘ بظاہر ان کا اشارہ عراق میں سرگرم ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290190</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Aug 2026 21:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/19215319374741b.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/19215319374741b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
