<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر) انڈیکس جولائی 2026 میں بڑھ کر 107.92 ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290151/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر)، جو مختلف غیر ملکی کرنسیوں کے وزنی اوسط کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے، جولائی 2026 میں بڑھ کر 107.92 ہوگیا، جبکہ جون 2026 میں یہ 106.33 ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن ریسرچ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ سطح آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے اور 10 سال کی اوسط 102.44 سے بھی زیادہ ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;100 سے زیادہ &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; کا مطلب ہے کہ ملک کی برآمدات مسابقتی لحاظ سے کمزور جبکہ درآمدات نسبتاً سستی ہیں۔ اس کے برعکس، جب &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; انڈیکس 100 سے کم ہو تو صورتحال الٹ ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; میں ماہانہ بنیادوں پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ &lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; انڈیکس کی 100 کی سطح کو کرنسی کی متوازن قدر قرار دینا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے اس حوالے سے ایک وضاحتی نوٹ میں کہا کہ ’’&lt;strong&gt;آرای ای آر&lt;/strong&gt; کا 100 سے اوپر یا نیچے جانا محض 2010 کی اوسط قدر کے مقابلے میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا کرنسی کی متوازن قدر سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر)، جو مختلف غیر ملکی کرنسیوں کے وزنی اوسط کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے، جولائی 2026 میں بڑھ کر 107.92 ہوگیا، جبکہ جون 2026 میں یہ 106.33 ریکارڈ کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن ریسرچ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ سطح آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے اور 10 سال کی اوسط 102.44 سے بھی زیادہ ہے۔‘‘</p>
<p>100 سے زیادہ <strong>آرای ای آر</strong> کا مطلب ہے کہ ملک کی برآمدات مسابقتی لحاظ سے کمزور جبکہ درآمدات نسبتاً سستی ہیں۔ اس کے برعکس، جب <strong>آرای ای آر</strong> انڈیکس 100 سے کم ہو تو صورتحال الٹ ہوجاتی ہے۔</p>
<p>ایس بی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں <strong>آرای ای آر</strong> میں ماہانہ بنیادوں پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>تاہم اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ <strong>آرای ای آر</strong> انڈیکس کی 100 کی سطح کو کرنسی کی متوازن قدر قرار دینا درست نہیں۔</p>
<p>مرکزی بینک نے اس حوالے سے ایک وضاحتی نوٹ میں کہا کہ ’’<strong>آرای ای آر</strong> کا 100 سے اوپر یا نیچے جانا محض 2010 کی اوسط قدر کے مقابلے میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا کرنسی کی متوازن قدر سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290151</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Aug 2026 22:41:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1822242636ab3c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="677" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1822242636ab3c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
