<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 18:43:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 18:43:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکہ معاہدہ: سکیورٹی کے ساتھ معاشی ثمرات بھی ملنے چاہئیں، میاں زاہد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290139/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ صرف اس سے ملنے والی سکیورٹی سے نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے بھی لگایا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے کاروباری اداروں اور عوام کے لیے زیادہ بڑا اور پائیدار معاشی فائدہ حاصل کرنا چاہیے جبکہ وفاقی چیمبر تین برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم مسلم ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی، علاقائی استحکام اور گہرے اقتصادی تعاون کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اس فریم ورک کو دیگر علاقائی ممالک تک وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے جس سے مستقبل میں یہ معاہدہ وسیع علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون کے پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت سے پاکستان کی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مجموعی معاشی طاقت تقریباً 3.33 ٹریلین ڈالر جبکہ مجموعی آبادی 38 کروڑ سے زائد ہے، جو ایک بڑی منڈی، وسیع انسانی وسائل اور نمایاں قوتِ خرید کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت بھی اس تعاون کو خطے میں اہم اسٹریٹجک حیثیت فراہم کرتی ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اگر دفاعی تعاون کو منظم تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تو پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے وسیع معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دفاعی انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات، سرجیکل آلات، ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، تعمیرات، لاجسٹکس، کان کنی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرسکتا ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ صرف اس سے ملنے والی سکیورٹی سے نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے بھی لگایا جائے گا۔</strong></p>
<p>پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے کاروباری اداروں اور عوام کے لیے زیادہ بڑا اور پائیدار معاشی فائدہ حاصل کرنا چاہیے جبکہ وفاقی چیمبر تین برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>انہوں نے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم مسلم ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی، علاقائی استحکام اور گہرے اقتصادی تعاون کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ا</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اس فریم ورک کو دیگر علاقائی ممالک تک وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے جس سے مستقبل میں یہ معاہدہ وسیع علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون کے پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔</p>
<p>اس پیش رفت سے پاکستان کی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مجموعی معاشی طاقت تقریباً 3.33 ٹریلین ڈالر جبکہ مجموعی آبادی 38 کروڑ سے زائد ہے، جو ایک بڑی منڈی، وسیع انسانی وسائل اور نمایاں قوتِ خرید کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت بھی اس تعاون کو خطے میں اہم اسٹریٹجک حیثیت فراہم کرتی ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اگر دفاعی تعاون کو منظم تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تو پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے وسیع معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان دفاعی انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات، سرجیکل آلات، ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، تعمیرات، لاجسٹکس، کان کنی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرسکتا ہے۔<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290139</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Aug 2026 15:52:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/181551137aadb8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/181551137aadb8a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
