<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025-26 کا مالیاتی نتیجہ حوصلہ افزا رہا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں 2025-26 کے مالیاتی امور سے متعلق معلومات گزشتہ ہفتے وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کی گئیں، جن میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالیاتی اعداد و شمار شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی مالیاتی خسارے کے حجم کو محدود رکھنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مجموعی مالیاتی خسارہ وفاقی بجٹ خسارے اور صوبوں کے نقد سرپلس کو ملا کر بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 میں بجٹ خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے صرف 2.6 فیصد کی انتہائی کم سطح پر آگیا ہے۔ یہ 2003-04 کے بعد جی ڈی پی کے تناسب سے سب سے کم خسارہ ہے، جب یہ شرح 2.9 فیصد تھی اس کے بعد ایسے کئی سال بھی گزرے جب بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 کے لیے مقرر کردہ بجٹ خسارے کے ہدف کے مقابلے میں بھی یہ کارکردگی غیر معمولی ہے۔ اس سال خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 5.1 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح ہدف کے مقابلے میں جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر خسارے میں نمایاں کمی حاصل کی گئی ہے۔ مزید برآں 2024-25 میں مجموعی بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے مقابلے میں بھی یہ ایک بڑی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ ایک وقتی مثبت نتیجہ ہے یا پائیدار بہتری کی علامت ہے۔ اس کا جواب 2026-27 کے لیے مقرر کردہ بجٹ خسارے کے حجم سے ملتا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3.6 فیصد رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے تناسب سے ایک فیصد اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا 2025-26 میں حاصل کی گئی ریکارڈ کم سطح کے بجٹ خسارے کو 2026-27 میں برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ جی ڈی پی کے 5.1 فیصد کے مقررہ خسارے کے ہدف کے مقابلے میں جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر خسارے میں کمی کیسے حاصل کی گئی؟ اس سوال کا جواب بجٹ کی صورتحال میں ہونے والی اس نمایاں بہتری کے پائیدار ہونے کی حد بھی واضح کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024-25 کی سطح کے مقابلے میں 2025-26 میں بجٹ خسارے میں مجموعی کمی 2,855 ارب روپے رہی۔ کئی عوامل نے اس کمی میں کردار ادا کیا۔ سب سے اہم عنصر این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومتوں کو منتقلی کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدنی میں 573 ارب روپے کا اضافہ ہے۔ اس اضافے نے بجٹ خسارے میں مجموعی کمی کا تقریباً 20 فیصد پورا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم عنصر وفاقی اخراجات کی مجموعی سطح میں نمایاں کمی ہے۔ 2025-26 میں یہی حقیقی کامیابی کا اہم شعبہ رہا، جب وفاقی اخراجات میں 1,754 ارب روپے کی بڑی کمی ہوئی۔ اس کمی نے مجموعی بجٹ خسارے میں کمی میں 61 فیصد حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخراجات میں ہونے والی اس بچت میں سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں 1,217 ارب روپے کی کمی کا ہے۔ 2025-26 کے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8,207 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم اصل اخراجات 6,947 ارب روپے رہے، جو تقریباً 1,260 ارب روپے کم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سال کے دوران اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ بھی ہوا تو قرضوں کی لاگت میں اتنی بڑی کمی کیسے حاصل ہوئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024-25 میں ہونے والے حقیقی ترقیاتی اخراجات کے مقابلے میں بھی 281 ارب روپے کی کمی ہوئی، جبکہ بجٹ میں مختص رقم کے مقابلے میں یہ کمی 154 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ خسارے میں کمی کا تیسرا ذریعہ 853 ارب روپے کی منفی شماریاتی تفریق ہے، جبکہ 2024-25 میں یہ رقم 328 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی بجٹ خسارے میں کمی کا چوتھا اہم ذریعہ صوبائی حکومتوں کا 528 ارب روپے زیادہ نقد سرپلس ہے، جو 2024-25 کی سطح کے مقابلے میں حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے اصل مسئلہ 2026-27 میں ان بہتریوں کے پائیدار ہونے کا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ 2026-27 میں بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1,217 ارب روپے کی جو بڑی کمی ہوئی تھی، اسے برقرار نہیں رکھا جا رہا۔ اس کے برعکس 2026-27 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1,107 ارب روپے تک اضافے کی توقع ہے۔ شرح سود میں کسی حد تک اضافے کا امکان ہے مگر یہ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں متوقع بڑے اضافے کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزارتِ خزانہ کو وضاحت کرنی چاہیے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کو 6,947 ارب روپے تک کیسے محدود رکھا گیا، جو بجٹ میں مختص رقم کے مقابلے میں 1,260 ارب روپے کی کمی ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ 2026-27 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 16 فیصد تک اتنا بڑا اضافہ کیوں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تشویش کا معاملہ یہ ہے کہ 2025-26 میں ترقیاتی اخراجات میں تقریباً 20 فیصد کمی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ بجٹ کی صورتحال اس قدر سازگار تھی۔ بالخصوص آبی وسائل کے شعبے میں منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں نمایاں اضافہ ناگزیر تھا، تاکہ سندھ طاس معاہدے سے بھارت کی دستبرداری کے بعد ممکنہ اقدامات کا مقابلہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ 2026-27 میں صوبائی حکومتوں کے ہدف شدہ نقد سرپلس میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام میں توقع کی گئی تھی کہ صوبائی ٹیکس آمدنی، خصوصاً زرعی آمدنی ٹیکس، جائیداد سے متعلق ٹیکسوں اور خدمات پر سیلز ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 2025-26 میں زیادہ نقد سرپلس کی بنیادی وجہ ترقیاتی اخراجات میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 2025-26 میں بجٹ خسارے کو کم کرکے جی ڈی پی کے صرف 2.6 فیصد تک لانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم یہ کامیابی ایف بی آر کی آمدنی میں تیز رفتار اضافے کے بجائے اخراجات میں کمی کے ذریعے حاصل ہوئی، جبکہ ایف بی آر کی آمدنی میں اضافہ صرف 10 فیصد رہا۔ مزید یہ کہ اخراجات میں ہونے والی بچت بظاہر عارضی نوعیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر 2025-26 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں ہونے والی بچت بظاہر عارضی نوعیت کی ہے، کیونکہ 2026-27 میں ان اخراجات میں 16 فیصد تک نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ بدقسمتی سے 2025-26 میں جاری اخراجات کو محدود رکھنے کی وجہ سول حکومت اور دفاعی خدمات کے انتظامی اخراجات، سبسڈیز اور گرانٹس میں مستقل نوعیت کی بچت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا امکان ہے کہ 2026-27 میں مجموعی بجٹ خسارہ دوبارہ جی ڈی پی کے 3.5 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ اس دوران قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ، دیگر جاری اخراجات میں بڑا اضافہ اور محصولات میں صرف معتدل بڑھوتری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود 2025-26 میں بجٹ کے غیر معمولی طور پر بہتر انتظام کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں عوامی قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں بھی 3.4 فیصد کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں 2025-26 کے مالیاتی امور سے متعلق معلومات گزشتہ ہفتے وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کی گئیں، جن میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالیاتی اعداد و شمار شامل ہیں۔</strong></p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی مالیاتی خسارے کے حجم کو محدود رکھنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مجموعی مالیاتی خسارہ وفاقی بجٹ خسارے اور صوبوں کے نقد سرپلس کو ملا کر بنتا ہے۔</p>
<p>2025-26 میں بجٹ خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے صرف 2.6 فیصد کی انتہائی کم سطح پر آگیا ہے۔ یہ 2003-04 کے بعد جی ڈی پی کے تناسب سے سب سے کم خسارہ ہے، جب یہ شرح 2.9 فیصد تھی اس کے بعد ایسے کئی سال بھی گزرے جب بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔</p>
<p>2025-26 کے لیے مقرر کردہ بجٹ خسارے کے ہدف کے مقابلے میں بھی یہ کارکردگی غیر معمولی ہے۔ اس سال خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 5.1 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح ہدف کے مقابلے میں جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر خسارے میں نمایاں کمی حاصل کی گئی ہے۔ مزید برآں 2024-25 میں مجموعی بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے مقابلے میں بھی یہ ایک بڑی کمی ہے۔</p>
<p>اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ ایک وقتی مثبت نتیجہ ہے یا پائیدار بہتری کی علامت ہے۔ اس کا جواب 2026-27 کے لیے مقرر کردہ بجٹ خسارے کے حجم سے ملتا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3.6 فیصد رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے تناسب سے ایک فیصد اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>لہٰذا 2025-26 میں حاصل کی گئی ریکارڈ کم سطح کے بجٹ خسارے کو 2026-27 میں برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ جی ڈی پی کے 5.1 فیصد کے مقررہ خسارے کے ہدف کے مقابلے میں جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے برابر خسارے میں کمی کیسے حاصل کی گئی؟ اس سوال کا جواب بجٹ کی صورتحال میں ہونے والی اس نمایاں بہتری کے پائیدار ہونے کی حد بھی واضح کرے گا۔</p>
<p>2024-25 کی سطح کے مقابلے میں 2025-26 میں بجٹ خسارے میں مجموعی کمی 2,855 ارب روپے رہی۔ کئی عوامل نے اس کمی میں کردار ادا کیا۔ سب سے اہم عنصر این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومتوں کو منتقلی کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدنی میں 573 ارب روپے کا اضافہ ہے۔ اس اضافے نے بجٹ خسارے میں مجموعی کمی کا تقریباً 20 فیصد پورا کیا۔</p>
<p>دوسرا اہم عنصر وفاقی اخراجات کی مجموعی سطح میں نمایاں کمی ہے۔ 2025-26 میں یہی حقیقی کامیابی کا اہم شعبہ رہا، جب وفاقی اخراجات میں 1,754 ارب روپے کی بڑی کمی ہوئی۔ اس کمی نے مجموعی بجٹ خسارے میں کمی میں 61 فیصد حصہ ڈالا۔</p>
<p>اخراجات میں ہونے والی اس بچت میں سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں 1,217 ارب روپے کی کمی کا ہے۔ 2025-26 کے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8,207 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم اصل اخراجات 6,947 ارب روپے رہے، جو تقریباً 1,260 ارب روپے کم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سال کے دوران اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ بھی ہوا تو قرضوں کی لاگت میں اتنی بڑی کمی کیسے حاصل ہوئی؟</p>
<p>2024-25 میں ہونے والے حقیقی ترقیاتی اخراجات کے مقابلے میں بھی 281 ارب روپے کی کمی ہوئی، جبکہ بجٹ میں مختص رقم کے مقابلے میں یہ کمی 154 ارب روپے رہی۔</p>
<p>بجٹ خسارے میں کمی کا تیسرا ذریعہ 853 ارب روپے کی منفی شماریاتی تفریق ہے، جبکہ 2024-25 میں یہ رقم 328 ارب روپے تھی۔</p>
<p>مجموعی بجٹ خسارے میں کمی کا چوتھا اہم ذریعہ صوبائی حکومتوں کا 528 ارب روپے زیادہ نقد سرپلس ہے، جو 2024-25 کی سطح کے مقابلے میں حاصل ہوا۔</p>
<p>جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے اصل مسئلہ 2026-27 میں ان بہتریوں کے پائیدار ہونے کا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ 2026-27 میں بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>2025-26 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1,217 ارب روپے کی جو بڑی کمی ہوئی تھی، اسے برقرار نہیں رکھا جا رہا۔ اس کے برعکس 2026-27 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1,107 ارب روپے تک اضافے کی توقع ہے۔ شرح سود میں کسی حد تک اضافے کا امکان ہے مگر یہ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں متوقع بڑے اضافے کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔</p>
<p>وفاقی وزارتِ خزانہ کو وضاحت کرنی چاہیے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کو 6,947 ارب روپے تک کیسے محدود رکھا گیا، جو بجٹ میں مختص رقم کے مقابلے میں 1,260 ارب روپے کی کمی ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ 2026-27 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 16 فیصد تک اتنا بڑا اضافہ کیوں متوقع ہے۔</p>
<p>ایک اور تشویش کا معاملہ یہ ہے کہ 2025-26 میں ترقیاتی اخراجات میں تقریباً 20 فیصد کمی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ بجٹ کی صورتحال اس قدر سازگار تھی۔ بالخصوص آبی وسائل کے شعبے میں منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں نمایاں اضافہ ناگزیر تھا، تاکہ سندھ طاس معاہدے سے بھارت کی دستبرداری کے بعد ممکنہ اقدامات کا مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p>ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ 2026-27 میں صوبائی حکومتوں کے ہدف شدہ نقد سرپلس میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام میں توقع کی گئی تھی کہ صوبائی ٹیکس آمدنی، خصوصاً زرعی آمدنی ٹیکس، جائیداد سے متعلق ٹیکسوں اور خدمات پر سیلز ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 2025-26 میں زیادہ نقد سرپلس کی بنیادی وجہ ترقیاتی اخراجات میں کمی تھی۔</p>
<p>مجموعی طور پر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 2025-26 میں بجٹ خسارے کو کم کرکے جی ڈی پی کے صرف 2.6 فیصد تک لانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم یہ کامیابی ایف بی آر کی آمدنی میں تیز رفتار اضافے کے بجائے اخراجات میں کمی کے ذریعے حاصل ہوئی، جبکہ ایف بی آر کی آمدنی میں اضافہ صرف 10 فیصد رہا۔ مزید یہ کہ اخراجات میں ہونے والی بچت بظاہر عارضی نوعیت کی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر 2025-26 میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں ہونے والی بچت بظاہر عارضی نوعیت کی ہے، کیونکہ 2026-27 میں ان اخراجات میں 16 فیصد تک نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ بدقسمتی سے 2025-26 میں جاری اخراجات کو محدود رکھنے کی وجہ سول حکومت اور دفاعی خدمات کے انتظامی اخراجات، سبسڈیز اور گرانٹس میں مستقل نوعیت کی بچت نہیں تھی۔</p>
<p>لہٰذا امکان ہے کہ 2026-27 میں مجموعی بجٹ خسارہ دوبارہ جی ڈی پی کے 3.5 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ اس دوران قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ، دیگر جاری اخراجات میں بڑا اضافہ اور محصولات میں صرف معتدل بڑھوتری متوقع ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود 2025-26 میں بجٹ کے غیر معمولی طور پر بہتر انتظام کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں عوامی قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں بھی 3.4 فیصد کمی آئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290129</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Aug 2026 13:40:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/18132242ff415e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/18132242ff415e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
