<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:44:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:44:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایس پی آر نے بھارتی ڈاکیومنٹری کو پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290127/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے پیر کو آپریشن سندور کو فوجی کامیابی کے طور پر پیش کرنے والی بھارتی ڈاکیومنٹری کو مسترد کرتے ہوئے اسے مئی 2025 کی جنگ کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور نئی تاریخ رقم کرنے کی انتہائی ڈرامائی اور حقائق کے منافی کوشش قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق نام نہاد آپریشن سندور پر بھارتی ڈاکومینٹری حقائق مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ معرکۂ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے کی اسی کوشش کے تحت بھارتی مواد تخلیق کاروں نے نام نہاد آپریشن سندورکے حوالے سے انتہائی ڈرامائی، رنگین اور حقائق کے اعتبار سے غلط بیانی پر مبنی مواد تیار کیا ہے جسے ڈاکیومنٹری کی صورت میں پیش کیا گیا اور اس میں بھارت کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق اس ڈاکیومنٹری میں باریک بینی اور سنجیدگی کے فقدان کے باعث اسے بیک وقت المیہ اور مزاحیہ طرز کی کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ منتخب انٹرویوز کی تدوین، جذباتی بیانیہ اور بالی ووڈ طرز کی سنیمیٹک منظرکشی کے ذریعے مسلمہ حقائق کو تبدیل اور حقیقی آپریشنل نتائج کو ازسرنو لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ڈاکیومنٹری میں پیش کردہ بیانیہ بنیادی نوعیت کے تضادات کا شکار ہے جو واقعات کا ایک ایسا ورژن گھڑنے کی تاخیر سے کی جانے والی کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں جو بھارتی عوام کے لیے قابلِ قبول ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ڈاکومینٹری میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کے 16 اپریل 2025 کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے درمیان دانستہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کی گئی، گویا کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود ایک سازشی نظریہ تخلیق کیا جارہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ پہلگام واقعے کے 3 مبینہ ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے انہیں 28 جولائی 2025 کو ہلاک کر دیا گیا، یعنی نام نہاد آپریشن سندور کے 82 روز بعد۔ اس کے باوجود دستاویزی فلم نام نہاد ’آپریشن سندور کو پہلگام واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر مبینہ ذمہ دار افراد 28 جولائی کو ہلاک کیے گئے تو بھارت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ 7 مئی 2025 کو اس کے بقول سزا کس کو دی گئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق 100 فیصد مشن کامیابی کا دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ مارکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور بھارت کے 8 فوجی طیارے مار گرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پاکستان نے آپریشن بنیانُ مرصوص انجام دیا جس میں فتح پریسیژن گائیڈڈ راکٹس و میزائلز، پاک فضائیہ کے پریسیژن گائیڈڈ ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ میونیشنز اور درست نشانے پر مبنی توپ خانے کے ذریعے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ان اہداف میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جنہیں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دینے میں ملوث عناصر اور ادارے بھی اس کارروائی کی زد میں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم خود بھی بھارت کی واضح بالادستی کے دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کے فعال کیے جانے کا اعتراف کرتی ہے۔ ایسے اعترافات کو پاکستان کی فیصلہ کن شکست کی بار بار کی جانے والی عکاسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے بھی دستاویزی فلم کا بیان کم انکشاف انگیز نہیں۔ اس کا اپنا بیانیہ تصدیق کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے ذریعے دشمنی کا خاتمہ ہوا۔یہ امر بذاتِ خود آپریشن سندور کو یک طرفہ بھارتی عسکری فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی نفی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق امریکہ کی معاونت سے عمل میں آنے والی جنگ بندی کو بعد ازاں غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دستاویزی فلم کشیدگی میں اضافے کی حرکیات کے حوالے سے بھی اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتی ہے۔ ایک طرف اس میں حیرت انگیز حملے، درست نشانہ بندی، گہرائی میں کارروائی اور کشیدگی پر غلبے کو بار بار اُجاگر کیا گیا ہےجبکہ دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر تنازع کو محدود رکھا اور پاکستان کو واپسی کی گنجائش فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق یہ باہم متضاد دعوے اس پروڈکشن کو ایک غیر جانب دار عسکری تجزیے کے بجائے نہایت احتیاط سے تیار کردہ داخلی بیانیہ ثابت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے سچائی کو ڈی کلاسیفائی نہیں کیا بلکہ اس نے ایک ایسا پروپیگنڈا ویڈیو تیار کیا ہے جس کے ذریعے ایک عسکری ناکامی کو کامیاب مہم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق کوئی بھی سنیمیٹک منظرکشی تاریخ وار ترتیب کو تبدیل نہیں کر سکتی، طیاروں کے نقصانات کو مٹا نہیں سکتی، عسکری ہلاکتوں کو چھپا نہیں سکتی، حقیقی طور پر ہونے والی فوجی جھڑپوں کو تبدیل نہیں کر سکتی اور نہ ہی میدانِ جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مارکۂ حق کے حوالے سے کوئی مصنوعی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت نہیں۔ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی روابط اور خود بھارت کے بعد ازاں دیے گئے بیانات اپنی حقیقت خود بیان کرتے ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور باصلاحیت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب انداز میں دیا جائے گا جس کے بعد سنیمیٹک جھوٹ اور من گھڑت منظرکشی بھی بھارت کو چہرہ بچانے کا کوئی موقع فراہم نہیں کر سکے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے پیر کو آپریشن سندور کو فوجی کامیابی کے طور پر پیش کرنے والی بھارتی ڈاکیومنٹری کو مسترد کرتے ہوئے اسے مئی 2025 کی جنگ کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور نئی تاریخ رقم کرنے کی انتہائی ڈرامائی اور حقائق کے منافی کوشش قرار دیا۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق نام نہاد آپریشن سندور پر بھارتی ڈاکومینٹری حقائق مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ معرکۂ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے کی اسی کوشش کے تحت بھارتی مواد تخلیق کاروں نے نام نہاد آپریشن سندورکے حوالے سے انتہائی ڈرامائی، رنگین اور حقائق کے اعتبار سے غلط بیانی پر مبنی مواد تیار کیا ہے جسے ڈاکیومنٹری کی صورت میں پیش کیا گیا اور اس میں بھارت کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق اس ڈاکیومنٹری میں باریک بینی اور سنجیدگی کے فقدان کے باعث اسے بیک وقت المیہ اور مزاحیہ طرز کی کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ منتخب انٹرویوز کی تدوین، جذباتی بیانیہ اور بالی ووڈ طرز کی سنیمیٹک منظرکشی کے ذریعے مسلمہ حقائق کو تبدیل اور حقیقی آپریشنل نتائج کو ازسرنو لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ڈاکیومنٹری میں پیش کردہ بیانیہ بنیادی نوعیت کے تضادات کا شکار ہے جو واقعات کا ایک ایسا ورژن گھڑنے کی تاخیر سے کی جانے والی کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں جو بھارتی عوام کے لیے قابلِ قبول ہو۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ڈاکومینٹری میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کے 16 اپریل 2025 کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے درمیان دانستہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کی گئی، گویا کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود ایک سازشی نظریہ تخلیق کیا جارہا ہو۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ پہلگام واقعے کے 3 مبینہ ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے انہیں 28 جولائی 2025 کو ہلاک کر دیا گیا، یعنی نام نہاد آپریشن سندور کے 82 روز بعد۔ اس کے باوجود دستاویزی فلم نام نہاد ’آپریشن سندور کو پہلگام واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر مبینہ ذمہ دار افراد 28 جولائی کو ہلاک کیے گئے تو بھارت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ 7 مئی 2025 کو اس کے بقول سزا کس کو دی گئی؟</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق 100 فیصد مشن کامیابی کا دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ مارکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور بھارت کے 8 فوجی طیارے مار گرائے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پاکستان نے آپریشن بنیانُ مرصوص انجام دیا جس میں فتح پریسیژن گائیڈڈ راکٹس و میزائلز، پاک فضائیہ کے پریسیژن گائیڈڈ ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ میونیشنز اور درست نشانے پر مبنی توپ خانے کے ذریعے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ان اہداف میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جنہیں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دینے میں ملوث عناصر اور ادارے بھی اس کارروائی کی زد میں آئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم خود بھی بھارت کی واضح بالادستی کے دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کے فعال کیے جانے کا اعتراف کرتی ہے۔ ایسے اعترافات کو پاکستان کی فیصلہ کن شکست کی بار بار کی جانے والی عکاسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے بھی دستاویزی فلم کا بیان کم انکشاف انگیز نہیں۔ اس کا اپنا بیانیہ تصدیق کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے ذریعے دشمنی کا خاتمہ ہوا۔یہ امر بذاتِ خود آپریشن سندور کو یک طرفہ بھارتی عسکری فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی نفی کرتا ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق امریکہ کی معاونت سے عمل میں آنے والی جنگ بندی کو بعد ازاں غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دستاویزی فلم کشیدگی میں اضافے کی حرکیات کے حوالے سے بھی اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتی ہے۔ ایک طرف اس میں حیرت انگیز حملے، درست نشانہ بندی، گہرائی میں کارروائی اور کشیدگی پر غلبے کو بار بار اُجاگر کیا گیا ہےجبکہ دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر تنازع کو محدود رکھا اور پاکستان کو واپسی کی گنجائش فراہم کی۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق یہ باہم متضاد دعوے اس پروڈکشن کو ایک غیر جانب دار عسکری تجزیے کے بجائے نہایت احتیاط سے تیار کردہ داخلی بیانیہ ثابت کرتے ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے سچائی کو ڈی کلاسیفائی نہیں کیا بلکہ اس نے ایک ایسا پروپیگنڈا ویڈیو تیار کیا ہے جس کے ذریعے ایک عسکری ناکامی کو کامیاب مہم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق کوئی بھی سنیمیٹک منظرکشی تاریخ وار ترتیب کو تبدیل نہیں کر سکتی، طیاروں کے نقصانات کو مٹا نہیں سکتی، عسکری ہلاکتوں کو چھپا نہیں سکتی، حقیقی طور پر ہونے والی فوجی جھڑپوں کو تبدیل نہیں کر سکتی اور نہ ہی میدانِ جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل کر سکتی ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مارکۂ حق کے حوالے سے کوئی مصنوعی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت نہیں۔ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی روابط اور خود بھارت کے بعد ازاں دیے گئے بیانات اپنی حقیقت خود بیان کرتے ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور باصلاحیت ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب انداز میں دیا جائے گا جس کے بعد سنیمیٹک جھوٹ اور من گھڑت منظرکشی بھی بھارت کو چہرہ بچانے کا کوئی موقع فراہم نہیں کر سکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290127</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Aug 2026 13:47:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/18125138cccca9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/18125138cccca9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
