<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو ٹیکس کریڈٹ کی صورت میں قابل ایڈجسٹ قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290115/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ انکم ٹیکس بالعموم اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4C کے تحت ادا کیا جانے والا سپر ٹیکس بالخصوص اس صورت میں قابل ایڈجسٹ ہے جب انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ دستیاب ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو رکنی بینچ نے جسٹس عامر فاروق کی تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا کہ سپر ٹیکس کو اس صورت میں ایڈجسٹ نہ کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں جب ٹیکس دہندہ کو دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ قانون کی متعلقہ دفعات کی ایسی تشریح کی حمایت قانونی ڈھانچے سے نہیں ہوتی۔ فیصلے کے مطابق دفعہ 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نظام پر چیپٹر ایکس کا اطلاق محدود انداز میں کرنا غیر ضروری ہے اور اس طرح کی پابندی عائد کرنے کی کوئی اصولی بنیاد بھی پیش نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 25 مارچ 2026 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کے سامنے دستیاب ٹیکس کریڈٹ کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مجاز ٹیکس اتھارٹی انکم ٹیکس آرڈیننس کے مطابق اس دعوے کا فیصلہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت برقرار رہنے کے بعد 2 فروری 2026 کو درخواست گزار کمپنی سی ایم پاک لمیٹڈ کو سپر ٹیکس کی واجب الادا رقم ادا کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایف بی آر کو بتایا کہ ٹیکس سال 2022 سے متعلق اس کے پاس ذرائع آمدن پر منہا کیے گئے 2 ارب 21 کروڑ 24 لاکھ 33 ہزار 254 روپے کے اضافی ٹیکس کی رقم موجود ہے، جسے سپر ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایف بی آر نے یہ مؤقف مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں کمپنی نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے درخواستیں مسترد کردی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں کہا کہ دفعہ 4C(3) واضح طور پر قرار دیتی ہے کہ سپر ٹیکس کی ادائیگی، وصولی اور جمع کرانے کے لیے دفعہ 137(1) میں مقرر طریقہ کار لاگو ہوگا اور چیپٹر ایکس کی تمام دفعات بھی نافذ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ چیپٹر ایکس میں دفعہ 168 بھی شامل ہے، اس لیے ٹیکس کریڈٹ کے مکمل قانونی نظام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق قانون ساز کا مقصد چیپٹر ایکس کے مکمل قانونی نظام کو نافذ کرنا تھا، جس میں ٹیکس کریڈٹ کا نظام بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں واضح کیا گیا کہ دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ اور دفعہ 170 کے تحت ریفنڈ الگ قانونی تصورات ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ مالیاتی قوانین کی تشریح عمومی طور پر ٹیکس دہندہ کے حق میں کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ انکم ٹیکس بالعموم اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 4C کے تحت ادا کیا جانے والا سپر ٹیکس بالخصوص اس صورت میں قابل ایڈجسٹ ہے جب انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ دستیاب ہو۔</strong></p>
<p>دو رکنی بینچ نے جسٹس عامر فاروق کی تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا کہ سپر ٹیکس کو اس صورت میں ایڈجسٹ نہ کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں جب ٹیکس دہندہ کو دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ حاصل ہو۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ قانون کی متعلقہ دفعات کی ایسی تشریح کی حمایت قانونی ڈھانچے سے نہیں ہوتی۔ فیصلے کے مطابق دفعہ 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نظام پر چیپٹر ایکس کا اطلاق محدود انداز میں کرنا غیر ضروری ہے اور اس طرح کی پابندی عائد کرنے کی کوئی اصولی بنیاد بھی پیش نہیں کی گئی۔</p>
<p>عدالت نے 25 مارچ 2026 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کے سامنے دستیاب ٹیکس کریڈٹ کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مجاز ٹیکس اتھارٹی انکم ٹیکس آرڈیننس کے مطابق اس دعوے کا فیصلہ کرے گی۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت برقرار رہنے کے بعد 2 فروری 2026 کو درخواست گزار کمپنی سی ایم پاک لمیٹڈ کو سپر ٹیکس کی واجب الادا رقم ادا کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔</p>
<p>کمپنی نے ایف بی آر کو بتایا کہ ٹیکس سال 2022 سے متعلق اس کے پاس ذرائع آمدن پر منہا کیے گئے 2 ارب 21 کروڑ 24 لاکھ 33 ہزار 254 روپے کے اضافی ٹیکس کی رقم موجود ہے، جسے سپر ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایف بی آر نے یہ مؤقف مسترد کردیا۔</p>
<p>بعد ازاں کمپنی نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے درخواستیں مسترد کردی تھیں۔</p>
<p>جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں کہا کہ دفعہ 4C(3) واضح طور پر قرار دیتی ہے کہ سپر ٹیکس کی ادائیگی، وصولی اور جمع کرانے کے لیے دفعہ 137(1) میں مقرر طریقہ کار لاگو ہوگا اور چیپٹر ایکس کی تمام دفعات بھی نافذ ہوں گی۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ چیپٹر ایکس میں دفعہ 168 بھی شامل ہے، اس لیے ٹیکس کریڈٹ کے مکمل قانونی نظام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق قانون ساز کا مقصد چیپٹر ایکس کے مکمل قانونی نظام کو نافذ کرنا تھا، جس میں ٹیکس کریڈٹ کا نظام بھی شامل ہے۔</p>
<p>فیصلے میں واضح کیا گیا کہ دفعہ 168 کے تحت ٹیکس کریڈٹ اور دفعہ 170 کے تحت ریفنڈ الگ قانونی تصورات ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ مالیاتی قوانین کی تشریح عمومی طور پر ٹیکس دہندہ کے حق میں کی جانی چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290115</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Aug 2026 09:37:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/180935378734dc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/180935378734dc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
