<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:26:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:26:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا غزہ منصوبہ، جیرڈ کشنر کے حماس اور اسرائیل سے مذاکرات بے نتیجہ ختم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290110/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل اور حماس کے رہنماؤں سے دو روزہ مذاکرات کے بعد پیر کو مقبوضہ بیت المقدس چھوڑ دیا، تاہم اہم معاملات پر فریقین کے سخت مؤقف کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیرڈ کشنر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی، جبکہ اس سے ایک روز قبل مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے بھی بات چیت کی تھی۔ مذاکرات کا مقصد ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانا تھا، جو اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں اور غزہ میں مزید علاقوں پر قبضے جبکہ حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے باعث تعطل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ حماس 15 نکاتی منصوبے کے تحت مرحلہ وار اپنے ہتھیار چھوڑنے پر رضامند ہوگئی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کرے گی۔ حماس کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے حملے روکنے اور فوجی انخلا سمیت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نیتن یاہو نے رواں ماہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار کے مطابق جیرڈ کشنر اور نیتن یاہو نے اتفاق کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے تک اسرائیلی فوج کی کوئی نئی تعیناتی یا انخلا نہیں ہوگا۔ اسرائیل نے حماس کی جانب سے دوبارہ مسلح ہونے یا تشدد کی صورت میں کارروائی کا حق بھی برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حماس اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہی ہے۔ فریقین کے درمیان ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کی ترتیب بھی متنازع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں غزہ کی تعمیر نو کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق حماس کے غیر مسلح ہونے تک تعمیر نو شروع نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں غزہ میں اسلحہ ختم کرنے اور صاف پانی، صفائی اور صحت عامہ کے مسائل سے متعلق دو ورکنگ گروپس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیرڈ کشنر اور ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے ایلچی نکولے ملاڈینوف نے اتوار کو مصر میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی تھی۔ یہ جیرڈ کشنر کی حماس نمائندوں سے دوسری معلوم ملاقات ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل اور حماس کے رہنماؤں سے دو روزہ مذاکرات کے بعد پیر کو مقبوضہ بیت المقدس چھوڑ دیا، تاہم اہم معاملات پر فریقین کے سخت مؤقف کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔</strong></p>
<p>جیرڈ کشنر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی، جبکہ اس سے ایک روز قبل مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے بھی بات چیت کی تھی۔ مذاکرات کا مقصد ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانا تھا، جو اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں اور غزہ میں مزید علاقوں پر قبضے جبکہ حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے باعث تعطل کا شکار ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ حماس 15 نکاتی منصوبے کے تحت مرحلہ وار اپنے ہتھیار چھوڑنے پر رضامند ہوگئی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کرے گی۔ حماس کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے حملے روکنے اور فوجی انخلا سمیت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مشروط ہے۔</p>
<p>تاہم نیتن یاہو نے رواں ماہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔</p>
<p>ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار کے مطابق جیرڈ کشنر اور نیتن یاہو نے اتفاق کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے اور غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے تک اسرائیلی فوج کی کوئی نئی تعیناتی یا انخلا نہیں ہوگا۔ اسرائیل نے حماس کی جانب سے دوبارہ مسلح ہونے یا تشدد کی صورت میں کارروائی کا حق بھی برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حماس اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہی ہے۔ فریقین کے درمیان ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کی ترتیب بھی متنازع ہے۔</p>
<p>مذاکرات میں غزہ کی تعمیر نو کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق حماس کے غیر مسلح ہونے تک تعمیر نو شروع نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>ملاقات میں غزہ میں اسلحہ ختم کرنے اور صاف پانی، صفائی اور صحت عامہ کے مسائل سے متعلق دو ورکنگ گروپس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>جیرڈ کشنر اور ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے ایلچی نکولے ملاڈینوف نے اتوار کو مصر میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی تھی۔ یہ جیرڈ کشنر کی حماس نمائندوں سے دوسری معلوم ملاقات ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290110</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Aug 2026 08:53:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1808504167444f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1808504167444f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
