<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:27:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 08:27:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس بی سی اے نے 16 برس میں صرف 1,039 پبلک سیل ہاؤسنگ پراجیکٹس کی منظوری دی، 7,230 درخواستیں زیرِ التوا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گزشتہ 16 برس کے دوران کراچی میں صرف 1,039 پبلک سیل ہاؤسنگ منصوبوں کی منظوری دی جب کہ 7,230 درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ منظوری کے عمل میں غیر معمولی تاخیر کے باعث خریدار شہر بھر میں پورشن مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں مختلف ٹاؤنز، اسکیموں اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق مجموعی طور پر 8,269 کیسز ایس بی سی اے کے پاس منظوری کے لیے آئے۔ ان میں سے صرف 1,039 کیسز منظور ہوئے یعنی ہر 8 درخواستوں میں سے بمشکل ایک درخواست منظور ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;40 سے زائد علاقوں پر محیط اعداد و شمار ناقدین کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایس بی سی اے منظوری دینے والے ادارے کے بجائے جائز تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق صرف گڈاپ ٹاؤن میں 2,623 میں سے 2,465 کیسز زیرِ التوا ہیں جو 94 فیصد التوا کی شرح بنتی ہے۔ گڈاپ ٹاؤن طویل عرصے سے زمینوں پر قبضے کے مسائل سے دوچار ہے اور شہر بھر میں زیرِ التوا پبلک سیل ہاؤسنگ منصوبوں کی درخواستوں میں اس کا حصہ تقریباً 34 فیصد ہے۔ بن قاسم ٹاؤن میں بھی 725 میں سے 632 کیسز زیرِ التوا ہیں جو 87 فیصد التوا کی شرح ظاہر کرتے ہیں۔ تیزی سے شہری آبادی میں تبدیل ہونے والے دونوں ٹاؤنز گڈاپ اور بن قاسم شہر کے مجموعی زیرِ التوا کیسز میں تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح شہر کے ان اضلاع میں جہاں زیادہ تر تعمیرات مکمل ہوچکی ہیں اور غیر رسمی پورشن مافیا کے سرگرم ہونے کی شکایات ہیں تقریباً 50 فیصد کیسز تاحال زیرِ التوا ہیں۔ منظوری کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو مختلف علاقوں کے درمیان یہ فرق مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلشن کے 1,131 کیسوں میں سے 179 کو منظوری ملی، جمشید ٹاؤن میں 464 کیسوں میں سے 343 کیس زیر التوا ہیں۔ لیاقت آباد میں 96 میں سے 25 کیس منظور ہوئے، کورنگی میں 274 میں سے صرف 22 کیس منظور ہوئے، نارتھ ناظم آباد میں 161 جمع شدہ درخواستوں میں سے 35 منظور ہوئیں، پی ای سی ایچ ایس  میں 25 میں سے 15 کیس منظور ہوئے، صدر میں 419 میں سے 132 کیس منظور ہوئے جبکہ گلشن، گلزارِ ہجری اور جوہر میں 140 میں سے 38 کیس منظور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ منگھوپیر میں 282 درخواستوں میں سے صرف 2 کی منظوری دی گئی۔ لانڈھی میں 372 میں سے 6، شاہ فیصل میں 336 میں سے 16 جب کہ سرجانی ٹاؤن کی اسکیم 41 میں 259 کیسز میں سے صرف 6 کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے کہا کہ یہ صورتحال یکساں طور پر سست کارروائی کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ مخصوص کیسز کو ترجیح دینے کا عندیہ دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے کی منظوری کا انحصار علاقے، تعلقات یا اس بات پر ہوتا ہے کہ فائل کس افسر کی میز پر پہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد)  محمد حسن بخشی نے ان اعداد کو واقعی حیران کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جائز منصوبوں کی منظوری کا عمل آسان بنانے کے بجائے ایس بی سی اے مؤثر طور پر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسن بخشی  نے کہا کہ برسوں تک منظوری کے انتظار میں پڑی ہر جائز درخواست یا تو منصوبے کو تعطل کا شکار بناتی ہے یا اسے غیر قانونی تعمیرات کی جانب دھکیل دیتی ہے جس کے نتیجے میں قانون کی پاسداری کرنے والے ڈویلپرز ان لوگوں کے مقابلے میں سزا بھگتتے ہیں جو ایس بی سی اے کی منظوری کے بغیر رشوت کے ذریعے تیزی سے منصوبے تعمیر کرلیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کا ٹیبل ٹو ٹیبل منظوری کا عمل تاخیر کا باعث بنتا ہے، جس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گزشتہ 16 برس کے دوران کراچی میں صرف 1,039 پبلک سیل ہاؤسنگ منصوبوں کی منظوری دی جب کہ 7,230 درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ منظوری کے عمل میں غیر معمولی تاخیر کے باعث خریدار شہر بھر میں پورشن مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>کراچی میں مختلف ٹاؤنز، اسکیموں اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق مجموعی طور پر 8,269 کیسز ایس بی سی اے کے پاس منظوری کے لیے آئے۔ ان میں سے صرف 1,039 کیسز منظور ہوئے یعنی ہر 8 درخواستوں میں سے بمشکل ایک درخواست منظور ہوسکی۔</p>
<p>40 سے زائد علاقوں پر محیط اعداد و شمار ناقدین کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایس بی سی اے منظوری دینے والے ادارے کے بجائے جائز تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق صرف گڈاپ ٹاؤن میں 2,623 میں سے 2,465 کیسز زیرِ التوا ہیں جو 94 فیصد التوا کی شرح بنتی ہے۔ گڈاپ ٹاؤن طویل عرصے سے زمینوں پر قبضے کے مسائل سے دوچار ہے اور شہر بھر میں زیرِ التوا پبلک سیل ہاؤسنگ منصوبوں کی درخواستوں میں اس کا حصہ تقریباً 34 فیصد ہے۔ بن قاسم ٹاؤن میں بھی 725 میں سے 632 کیسز زیرِ التوا ہیں جو 87 فیصد التوا کی شرح ظاہر کرتے ہیں۔ تیزی سے شہری آبادی میں تبدیل ہونے والے دونوں ٹاؤنز گڈاپ اور بن قاسم شہر کے مجموعی زیرِ التوا کیسز میں تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح شہر کے ان اضلاع میں جہاں زیادہ تر تعمیرات مکمل ہوچکی ہیں اور غیر رسمی پورشن مافیا کے سرگرم ہونے کی شکایات ہیں تقریباً 50 فیصد کیسز تاحال زیرِ التوا ہیں۔ منظوری کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو مختلف علاقوں کے درمیان یہ فرق مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔</p>
<p>گلشن کے 1,131 کیسوں میں سے 179 کو منظوری ملی، جمشید ٹاؤن میں 464 کیسوں میں سے 343 کیس زیر التوا ہیں۔ لیاقت آباد میں 96 میں سے 25 کیس منظور ہوئے، کورنگی میں 274 میں سے صرف 22 کیس منظور ہوئے، نارتھ ناظم آباد میں 161 جمع شدہ درخواستوں میں سے 35 منظور ہوئیں، پی ای سی ایچ ایس  میں 25 میں سے 15 کیس منظور ہوئے، صدر میں 419 میں سے 132 کیس منظور ہوئے جبکہ گلشن، گلزارِ ہجری اور جوہر میں 140 میں سے 38 کیس منظور ہوئے۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ منگھوپیر میں 282 درخواستوں میں سے صرف 2 کی منظوری دی گئی۔ لانڈھی میں 372 میں سے 6، شاہ فیصل میں 336 میں سے 16 جب کہ سرجانی ٹاؤن کی اسکیم 41 میں 259 کیسز میں سے صرف 6 کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>ذرائع نے کہا کہ یہ صورتحال یکساں طور پر سست کارروائی کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ مخصوص کیسز کو ترجیح دینے کا عندیہ دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے کی منظوری کا انحصار علاقے، تعلقات یا اس بات پر ہوتا ہے کہ فائل کس افسر کی میز پر پہنچتی ہے۔</p>
<p>چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد)  محمد حسن بخشی نے ان اعداد کو واقعی حیران کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جائز منصوبوں کی منظوری کا عمل آسان بنانے کے بجائے ایس بی سی اے مؤثر طور پر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔</p>
<p>حسن بخشی  نے کہا کہ برسوں تک منظوری کے انتظار میں پڑی ہر جائز درخواست یا تو منصوبے کو تعطل کا شکار بناتی ہے یا اسے غیر قانونی تعمیرات کی جانب دھکیل دیتی ہے جس کے نتیجے میں قانون کی پاسداری کرنے والے ڈویلپرز ان لوگوں کے مقابلے میں سزا بھگتتے ہیں جو ایس بی سی اے کی منظوری کے بغیر رشوت کے ذریعے تیزی سے منصوبے تعمیر کرلیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کا ٹیبل ٹو ٹیبل منظوری کا عمل تاخیر کا باعث بنتا ہے، جس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290084</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Aug 2026 14:44:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/171440358eab998.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/171440358eab998.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
