<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 01:43:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 01:43:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو طویل عرصے سے اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ مشقوں پر آنے والی لاگت اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں جنوبی کوریا کے شریک ہونے سے انکار کو قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ اولچی فریڈم شیلڈ مشترکہ فوجی مشقیں پیر سے شروع ہوئیں اور 27 اگست تک جاری رہیں گی، جن میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے تصدیق کی کہ مشقیں طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہوگئی ہیں، تاہم ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ وہ اس بات سے خوش نہیں کہ امریکا نے ان مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے بہت اچھے تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ طویل عرصے سے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کو ختم یا محدود کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ واشنگٹن اور سیول کے درمیان جنوبی کوریا میں تعینات 28,500 امریکی فوجیوں کے اخراجات اور خطے میں ان کے کردار کے حوالے سے بھی اختلافات رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مشقوں میں کمی شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطے کا موقع پیدا کرنے کی ٹرمپ کی کوشش کا حصہ ہوسکتی ہے۔ تاہم اسٹمسن سینٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا غیر واضح انداز پیانگ یانگ پر زیادہ اثر ڈالنے کا امکان کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ماضی میں 3 سربراہی ملاقاتیں ہوچکی ہیں، تاہم ان مذاکرات سے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں یا بیلسٹک میزائل پروگرام میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی معاملات کے علاوہ اقتصادی اختلافات بھی موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے گزشتہ سال ایک تجارتی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت جنوبی کوریا نے امریکا میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، تاہم سیول نے تاحال سرمایہ کاری کے منصوبے کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو طویل عرصے سے اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ مشقوں پر آنے والی لاگت اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں جنوبی کوریا کے شریک ہونے سے انکار کو قرار دیا۔</strong></p>
<p>سالانہ اولچی فریڈم شیلڈ مشترکہ فوجی مشقیں پیر سے شروع ہوئیں اور 27 اگست تک جاری رہیں گی، جن میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے تصدیق کی کہ مشقیں طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہوگئی ہیں، تاہم ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ وہ اس بات سے خوش نہیں کہ امریکا نے ان مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے بہت اچھے تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔</p>
<p>ٹرمپ طویل عرصے سے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کو ختم یا محدود کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ واشنگٹن اور سیول کے درمیان جنوبی کوریا میں تعینات 28,500 امریکی فوجیوں کے اخراجات اور خطے میں ان کے کردار کے حوالے سے بھی اختلافات رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مشقوں میں کمی شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطے کا موقع پیدا کرنے کی ٹرمپ کی کوشش کا حصہ ہوسکتی ہے۔ تاہم اسٹمسن سینٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا غیر واضح انداز پیانگ یانگ پر زیادہ اثر ڈالنے کا امکان کم ہے۔</p>
<p>ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ماضی میں 3 سربراہی ملاقاتیں ہوچکی ہیں، تاہم ان مذاکرات سے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں یا بیلسٹک میزائل پروگرام میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<p>ادھر امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی معاملات کے علاوہ اقتصادی اختلافات بھی موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے گزشتہ سال ایک تجارتی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت جنوبی کوریا نے امریکا میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، تاہم سیول نے تاحال سرمایہ کاری کے منصوبے کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290072</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Aug 2026 12:21:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1712202506dc8a1.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1712202506dc8a1.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
