<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹینکروں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت سست پڑ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیر کو سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ٹینکروں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ہفتے کے آخر میں سست پڑ گئی، جبکہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو پانچ کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ اتوار کو کسی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں ہوئی، اس کے برعکس گزشتہ ہفتے کے آخر میں 31 جہازوں نے آبنائے عبور کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے مطابق ہفتے کو آبنائے میں داخل ہونے والے جہازوں میں ایک خالی ویری لارج کروڈ کیریئر بھی شامل تھا، جس کا آٹومیٹک آئیڈینٹی فکیشن سسٹم بند تھا، جبکہ بھارتی پرچم بردار ایک ویری لارج گیس کیریئر نے ایرانی راستہ استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ایرانی فیول آئل سے لدا ایک چھوٹا ٹینکر آبنائے سے باہر نکلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ ہفتے دوران سفر ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) کے زیرانتظام تین بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاع کے بعد بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رکتی دکھائی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بعض جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے بغیر کسی ریکارڈ کے آبنائے سے گزر سکتے ہیں، تاہم موجودہ اعداد و شمار فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ گزرنے والے 130 سے زائد جہازوں کی تعداد سے بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو مقامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کے لیے واشنگٹن کو آبنائے کے حوالے سے ایران کی شرائط ماننا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ سے قبل اس آبی گزرگاہ سے دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی ترسیلات کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آبنائے باب المندب میں، جہاں یمنی حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے آخر میں 49 کموڈیٹی بحری جہازوں نے گزرگاہ عبور کی، جو گزشتہ ہفتے کے 55 جہازوں سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی تیل کی کسی بھی کھیپ کی نقل و حرکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیر کو سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ٹینکروں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ہفتے کے آخر میں سست پڑ گئی، جبکہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے۔</strong></p>
<p>جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو پانچ کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ اتوار کو کسی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں ہوئی، اس کے برعکس گزشتہ ہفتے کے آخر میں 31 جہازوں نے آبنائے عبور کی تھی۔</p>
<p>کیپلر کے مطابق ہفتے کو آبنائے میں داخل ہونے والے جہازوں میں ایک خالی ویری لارج کروڈ کیریئر بھی شامل تھا، جس کا آٹومیٹک آئیڈینٹی فکیشن سسٹم بند تھا، جبکہ بھارتی پرچم بردار ایک ویری لارج گیس کیریئر نے ایرانی راستہ استعمال کیا۔</p>
<p>اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ایرانی فیول آئل سے لدا ایک چھوٹا ٹینکر آبنائے سے باہر نکلا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ ہفتے دوران سفر ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) کے زیرانتظام تین بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاع کے بعد بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رکتی دکھائی دی۔</p>
<p>امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ بعض جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے بغیر کسی ریکارڈ کے آبنائے سے گزر سکتے ہیں، تاہم موجودہ اعداد و شمار فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ گزرنے والے 130 سے زائد جہازوں کی تعداد سے بہت کم ہیں۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو مقامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کے لیے واشنگٹن کو آبنائے کے حوالے سے ایران کی شرائط ماننا ہوں گی۔</p>
<p>جنگ سے قبل اس آبی گزرگاہ سے دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی ترسیلات کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب آبنائے باب المندب میں، جہاں یمنی حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے آخر میں 49 کموڈیٹی بحری جہازوں نے گزرگاہ عبور کی، جو گزشتہ ہفتے کے 55 جہازوں سے کم ہے۔</p>
<p>سعودی تیل کی کسی بھی کھیپ کی نقل و حرکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290059</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Aug 2026 08:58:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/17085626c4c8017.webp" type="image/webp" medium="image" height="360" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/17085626c4c8017.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
