<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 19:25:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 16 Aug 2026 19:25:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی پائلٹس کی گرفتاری کا دعویٰ، قطر سے تحقیقاتی ٹیم کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290053/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی فوجی عہدیدار نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی تحقیقاتی ٹیم کو ملک میں داخلے کی اجازت دے، تاکہ ان پائلٹس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں جن کے بارے میں تہران کا دعویٰ ہے کہ انہیں قطری فورسز نے گرفتار کیا ہے۔ قطر نے ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کی تردید کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے بتایا تھا کہ اس کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے ایک پائلٹ کی لاش تلاش کرلی ہے۔ قطری حکام کے مطابق مارچ میں ایرانی طیاروں نے قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور رابطے کی کوششوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کا کہنا ہے کہ اس نے لاش ایران کے حوالے کرنے کے لیے تہران سے رابطہ کیا اور سرچ اینڈ ریسکیو کارروائی کی تفصیلات کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی، تاہم ایران نے کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی لاپتا افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے کمانڈر محمد باقرزاده نے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ماہرین اور تحقیقاتی ٹیم کئی ماہ سے قطر جانے کی منتظر ہے۔ انہوں نے قطری حکام پر تحقیقات میں تاخیر اور پائلٹس کی واپسی روکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقرزاده نے کویت پر بھی چار ایرانی شہریوں کے بارے میں معلومات روکنے کا الزام لگایا۔ ایران کے مطابق یہ افراد پاسداران انقلاب سے وابستہ تھے اور نیوی گیشن میں خرابی کے باعث کویتی حدود میں داخل ہوئے، جبکہ کویت کا کہنا ہے کہ انہیں ملک کے خلاف مبینہ کارروائی کی منصوبہ بندی کا شبہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی فوجی عہدیدار نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی تحقیقاتی ٹیم کو ملک میں داخلے کی اجازت دے، تاکہ ان پائلٹس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں جن کے بارے میں تہران کا دعویٰ ہے کہ انہیں قطری فورسز نے گرفتار کیا ہے۔ قطر نے ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کی تردید کی ہے۔</strong></p>
<p>قطر نے بتایا تھا کہ اس کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے ایک پائلٹ کی لاش تلاش کرلی ہے۔ قطری حکام کے مطابق مارچ میں ایرانی طیاروں نے قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور رابطے کی کوششوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>قطر کا کہنا ہے کہ اس نے لاش ایران کے حوالے کرنے کے لیے تہران سے رابطہ کیا اور سرچ اینڈ ریسکیو کارروائی کی تفصیلات کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی، تاہم ایران نے کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی لاپتا افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے کمانڈر محمد باقرزاده نے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ماہرین اور تحقیقاتی ٹیم کئی ماہ سے قطر جانے کی منتظر ہے۔ انہوں نے قطری حکام پر تحقیقات میں تاخیر اور پائلٹس کی واپسی روکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>باقرزاده نے کویت پر بھی چار ایرانی شہریوں کے بارے میں معلومات روکنے کا الزام لگایا۔ ایران کے مطابق یہ افراد پاسداران انقلاب سے وابستہ تھے اور نیوی گیشن میں خرابی کے باعث کویتی حدود میں داخل ہوئے، جبکہ کویت کا کہنا ہے کہ انہیں ملک کے خلاف مبینہ کارروائی کی منصوبہ بندی کا شبہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290053</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 16:22:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/161617354f54cb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/161617354f54cb4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
