<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 13:28:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 16 Aug 2026 13:28:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے سیلابی منصوبے میں تاخیر، ورلڈ بینک نے پیش رفت غیر تسلی بخش قرار دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290039/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان میں ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے جاری سیلاب سے بحالی کے منصوبے پر عملدرآمد غیر ہموار ہے، جبکہ اہم انفرااسٹرکچر اور موسمیاتی خدمات  میں تاخیر، مالیاتی خلا اور متاثرین کی شکایات کا حل نہ ہونا منصوبے کی پیش رفت کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ تاہم 74,000 سے زائد گھرانوں کو رہائشی معاونت کی پہلی قسط فراہم کی جاچکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروجیکٹ (P180323) کی تازہ ترین عملدرآمد رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی پیش رفت کی درجہ بندی غیر تسلی بخش کردی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی مقاصد کی درجہ بندی غیر تسلی بخش برقرار ہے۔ منصوبے کا مجموعی خطرہ بدستور بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2023 میں منظور کیے گئے منصوبے کا مقصد 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کے روزگار اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا اور سیلاب کے خطرات سے تحفظ مضبوط کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کمیونٹی انفرااسٹرکچر کے شعبے میں پیش رفت بہتر ہوئی ہے، تاہم اس شعبے سے متعلق ترقیاتی اہداف کے تینوں اہم اشاریے تاحال حاصل نہیں کیے جاسکے۔ موسمیاتی خدمات کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن سسٹم انٹیگریٹر کی تعیناتی اور کئی اہم خریداریوں کا عمل ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائشی تعمیر نو منصوبے کا نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے والا شعبہ ہے اور 74,000 سے زائد گھرانوں کو پہلی قسط مل چکی ہے۔ تاہم مستحقین کی تعداد محدود کرنے کے فیصلے، باقی اہل گھرانوں کے لیے مالی وسائل کی کمی، شکایات کے حل نہ ہونے اور رابطہ کاری کے مسائل پر ورلڈ بینک نے تشویش ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2026 تک صرف 30,226 مکانات بحال یا دوبارہ تعمیر کیے جاسکے، جبکہ دسمبر 2028 تک ہدف 97,000 مکانات کا ہے۔ اسی طرح صرف 214,217 افراد کو کم از کم ایک بنیادی سہولت تک دوبارہ رسائی حاصل ہوئی، جبکہ ہدف 15 لاکھ افراد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے لیے مختص 214.03 ملین ڈالر میں سے 113.97 ملین ڈالر جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 68.05 ملین ڈالر تاحال غیر استعمال شدہ ہیں۔ منصوبہ 31 دسمبر 2028 کو مکمل ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان میں ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے جاری سیلاب سے بحالی کے منصوبے پر عملدرآمد غیر ہموار ہے، جبکہ اہم انفرااسٹرکچر اور موسمیاتی خدمات  میں تاخیر، مالیاتی خلا اور متاثرین کی شکایات کا حل نہ ہونا منصوبے کی پیش رفت کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ تاہم 74,000 سے زائد گھرانوں کو رہائشی معاونت کی پہلی قسط فراہم کی جاچکی ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ بینک کی انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروجیکٹ (P180323) کی تازہ ترین عملدرآمد رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی پیش رفت کی درجہ بندی غیر تسلی بخش کردی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی مقاصد کی درجہ بندی غیر تسلی بخش برقرار ہے۔ منصوبے کا مجموعی خطرہ بدستور بلند ہے۔</p>
<p>مئی 2023 میں منظور کیے گئے منصوبے کا مقصد 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کے روزگار اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا اور سیلاب کے خطرات سے تحفظ مضبوط کرنا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کمیونٹی انفرااسٹرکچر کے شعبے میں پیش رفت بہتر ہوئی ہے، تاہم اس شعبے سے متعلق ترقیاتی اہداف کے تینوں اہم اشاریے تاحال حاصل نہیں کیے جاسکے۔ موسمیاتی خدمات کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن سسٹم انٹیگریٹر کی تعیناتی اور کئی اہم خریداریوں کا عمل ابھی باقی ہے۔</p>
<p>رہائشی تعمیر نو منصوبے کا نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے والا شعبہ ہے اور 74,000 سے زائد گھرانوں کو پہلی قسط مل چکی ہے۔ تاہم مستحقین کی تعداد محدود کرنے کے فیصلے، باقی اہل گھرانوں کے لیے مالی وسائل کی کمی، شکایات کے حل نہ ہونے اور رابطہ کاری کے مسائل پر ورلڈ بینک نے تشویش ظاہر کی ہے۔</p>
<p>جولائی 2026 تک صرف 30,226 مکانات بحال یا دوبارہ تعمیر کیے جاسکے، جبکہ دسمبر 2028 تک ہدف 97,000 مکانات کا ہے۔ اسی طرح صرف 214,217 افراد کو کم از کم ایک بنیادی سہولت تک دوبارہ رسائی حاصل ہوئی، جبکہ ہدف 15 لاکھ افراد ہے۔</p>
<p>منصوبے کے لیے مختص 214.03 ملین ڈالر میں سے 113.97 ملین ڈالر جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 68.05 ملین ڈالر تاحال غیر استعمال شدہ ہیں۔ منصوبہ 31 دسمبر 2028 کو مکمل ہونا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290039</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 11:30:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/16112832a836d66.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/16112832a836d66.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
