<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 19:57:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 19:57:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈارون : بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ رقم کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290032/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے ڈارون میں سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے چوتھے روز آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 57 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرکے 9 وکٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کرلی، جسے ٹیسٹ کرکٹ کے بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مومن الحق نے بیو ویبسٹر کی گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچا کر فاتحانہ رنز بنائے اور بنگلہ دیش کو آسٹریلیا کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ فتح دلائی۔ فتح چار روز میں شدید گرمی کے باوجود میرا اوول میں حاصل کی گئی، جبکہ میزبان آل راؤنڈر کیمرون گرین کی شاندار سنچری بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ بچاسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاتحانہ باؤنڈری لگتے ہی بنگلہ دیشی کھلاڑیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ گراؤنڈ کے کنارے اچھلتے اور نعرے لگاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم آسٹریلیا کو اس کی اپنی سرزمین پر شکست دینا بنگلہ دیش کی 26 سالہ ٹیسٹ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کو بنگلہ دیش کی میزبانی میں دوسری ٹیسٹ سیریز کے لیے 23 سال انتظار کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2003 میں آسٹریلیا نے سیریز 2-0 سے جیتی تھی، تاہم نجم الحسین شانتو کی قیادت میں بنگلہ دیش نے اس بار اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا عزم کیا تھا۔بنگلہ دیش نے بلے بازی، بولنگ اور فیلڈنگ سمیت تقریباً ہر شعبے میں عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی سرفہرست ٹیم پر غلبہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھے روز اسپن آل راؤنڈر مہدی حسن میراز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں 65 رنز بنانے والے میراز نے تیسرے روز اسٹیو اسمتھ کو کیچ اینڈ بولڈ کرنے کے بعد آخری روز مزید 4 وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا نے دن کا آغاز 4 وکٹوں کے نقصان پر 161 رنز سے کیا تھا اور اسے اب بھی 67 رنز کے خسارے کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میراز نے کہا کہ یہ ان کے لیے بہترین اور یادگار لمحہ ہے۔ ان کے مطابق ٹیم جس انداز میں کھیل رہی ہے، اس سے اس کے کردار کا اظہار ہوتا ہے اور سب کچھ بہترین رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میراز نے ایلکس کیری کو 30 رنز پر وکٹ کے پیچھے کیچ کرایا جبکہ بیو ویبسٹر کو صرف 5 رنز پر شاندار گیند پر بولڈ کرکے آسٹریلیا کی آخری وکٹوں کو دباؤ میں ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان پیٹ کمنز 8 رنز پر کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ مچل اسٹارک نے کیمرون گرین کے ساتھ آٹھویں وکٹ کے لیے 43 رنز کی مزاحمت کی، لیکن وہ ٹاسکن احمد کی گیند پر 18 رنز بناکر وکٹ کے پیچھے کیچ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین نے لنچ کے بعد ٹاسکن کی گیند پر 2 رنز لے کر اپنی تیسری ٹیسٹ سنچری اور ہوم گراؤنڈ پر پہلی سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 104 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، تاہم حسن محمود نے انہیں بولڈ کرکے میچ میں اپنی نویں وکٹ حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی برتری صرف 50 رنز تھی اور آخری وکٹ پر ناتھن لائن اور جوش ہیزل ووڈ موجود تھے، اس لیے گرین کے آؤٹ ہوتے ہی میزبان ٹیم کی شکست تقریباً یقینی ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میراز نے ناتھن لائن کو 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے آسٹریلیا کی اننگز 284 رنز پر سمیٹ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی شائقین ہر گیند کے درمیان جوش و خروش سے نعرے لگاتے رہے جبکہ شادمان اسلام اور مومن الحق نے مطلوبہ رنز تیزی سے مکمل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپنر تنزید حسن دوسری اننگز میں جوش ہیزل ووڈ کی گیند پر صفر پر بولڈ ہوئے، تاہم انہیں اس کا زیادہ افسوس نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے پہلی اننگز میں شاندار 101 رنز بناکر بنگلہ دیش کو آسٹریلیا کے 198 رنز کے جواب میں 426 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے ڈارون میں سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے چوتھے روز آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 57 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرکے 9 وکٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کرلی، جسے ٹیسٹ کرکٹ کے بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>مومن الحق نے بیو ویبسٹر کی گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچا کر فاتحانہ رنز بنائے اور بنگلہ دیش کو آسٹریلیا کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ فتح دلائی۔ فتح چار روز میں شدید گرمی کے باوجود میرا اوول میں حاصل کی گئی، جبکہ میزبان آل راؤنڈر کیمرون گرین کی شاندار سنچری بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ بچاسکی۔</p>
<p>فاتحانہ باؤنڈری لگتے ہی بنگلہ دیشی کھلاڑیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ گراؤنڈ کے کنارے اچھلتے اور نعرے لگاتے رہے۔</p>
<p>دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم آسٹریلیا کو اس کی اپنی سرزمین پر شکست دینا بنگلہ دیش کی 26 سالہ ٹیسٹ تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جارہی ہے۔</p>
<p>آسٹریلیا کو بنگلہ دیش کی میزبانی میں دوسری ٹیسٹ سیریز کے لیے 23 سال انتظار کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2003 میں آسٹریلیا نے سیریز 2-0 سے جیتی تھی، تاہم نجم الحسین شانتو کی قیادت میں بنگلہ دیش نے اس بار اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا عزم کیا تھا۔بنگلہ دیش نے بلے بازی، بولنگ اور فیلڈنگ سمیت تقریباً ہر شعبے میں عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی سرفہرست ٹیم پر غلبہ حاصل کیا۔</p>
<p>چوتھے روز اسپن آل راؤنڈر مہدی حسن میراز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں 65 رنز بنانے والے میراز نے تیسرے روز اسٹیو اسمتھ کو کیچ اینڈ بولڈ کرنے کے بعد آخری روز مزید 4 وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا نے دن کا آغاز 4 وکٹوں کے نقصان پر 161 رنز سے کیا تھا اور اسے اب بھی 67 رنز کے خسارے کا سامنا تھا۔</p>
<p>میراز نے کہا کہ یہ ان کے لیے بہترین اور یادگار لمحہ ہے۔ ان کے مطابق ٹیم جس انداز میں کھیل رہی ہے، اس سے اس کے کردار کا اظہار ہوتا ہے اور سب کچھ بہترین رہا۔</p>
<p>میراز نے ایلکس کیری کو 30 رنز پر وکٹ کے پیچھے کیچ کرایا جبکہ بیو ویبسٹر کو صرف 5 رنز پر شاندار گیند پر بولڈ کرکے آسٹریلیا کی آخری وکٹوں کو دباؤ میں ڈال دیا۔</p>
<p>کپتان پیٹ کمنز 8 رنز پر کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ مچل اسٹارک نے کیمرون گرین کے ساتھ آٹھویں وکٹ کے لیے 43 رنز کی مزاحمت کی، لیکن وہ ٹاسکن احمد کی گیند پر 18 رنز بناکر وکٹ کے پیچھے کیچ ہوگئے۔</p>
<p>گرین نے لنچ کے بعد ٹاسکن کی گیند پر 2 رنز لے کر اپنی تیسری ٹیسٹ سنچری اور ہوم گراؤنڈ پر پہلی سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 104 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، تاہم حسن محمود نے انہیں بولڈ کرکے میچ میں اپنی نویں وکٹ حاصل کرلی۔</p>
<p>آسٹریلیا کی برتری صرف 50 رنز تھی اور آخری وکٹ پر ناتھن لائن اور جوش ہیزل ووڈ موجود تھے، اس لیے گرین کے آؤٹ ہوتے ہی میزبان ٹیم کی شکست تقریباً یقینی ہوگئی۔</p>
<p>میراز نے ناتھن لائن کو 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے آسٹریلیا کی اننگز 284 رنز پر سمیٹ دی۔</p>
<p>بنگلہ دیشی شائقین ہر گیند کے درمیان جوش و خروش سے نعرے لگاتے رہے جبکہ شادمان اسلام اور مومن الحق نے مطلوبہ رنز تیزی سے مکمل کیے۔</p>
<p>اوپنر تنزید حسن دوسری اننگز میں جوش ہیزل ووڈ کی گیند پر صفر پر بولڈ ہوئے، تاہم انہیں اس کا زیادہ افسوس نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے پہلی اننگز میں شاندار 101 رنز بناکر بنگلہ دیش کو آسٹریلیا کے 198 رنز کے جواب میں 426 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290032</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 13:28:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/160117200a60198.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/160117200a60198.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
