<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 22:58:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 22:58:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طالبان حکومت کے افغانستان پر حکمرانی کے 5 سال مکمل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;طالبان حکومت نے ہفتے کے روز افغانستان پر حکمرانی کے پانچ سال مکمل ہونے کا جشن منایا، جس پر حامیوں نے سڑکوں کا رخ کیا، جبکہ ناقدین نے روزمرہ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل میں افغان شہری پرچموں سے سجی گاڑیوں میں سوار ہوکر شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہے۔ حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس دن کو ’’افغانستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے والا دن‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق امریکی سفارتخانے کے قریب ایک چوک میں سیکڑوں افراد جمع ہوئے، جبکہ فوجی ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں ایتھلیٹس کی ایک پریڈ پر نچھاور کی گئیں۔ پریڈ میں صرف مرد ایتھلیٹس شامل تھے کیونکہ افغانستان میں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان جنگجوؤں نے افغانستان بھر میں برق رفتاری سے پیش قدمی کے بعد 15 اگست 2021 کو بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی فورسز کا خاتمہ ہوگیا اور یہ سب امریکا کی قیادت میں غیرملکی افواج کے افراتفری میں ہونے والے انخلا کے بعد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز دارالحکومت میں سکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی، جبکہ غیرملکی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے بعض فوجی دستے، جن میں ہَم وی گاڑیاں بھی شامل تھیں، قافلوں کی صورت میں سڑکوں پر لائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق جنوبی شہر قندھار، جہاں طالبان کے سپریم لیڈر مقیم ہیں، اور مغربی شہر ہرات سمیت دیگر اہم شہروں میں بھی شہریوں نے ریلیاں نکالیں۔ ہرات میں سڑکوں پر کرتب دکھانے والے فنکاروں نے مختلف مظاہرے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے ترجمان ضیا احمد تکل نے دیگر ممالک کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں آئیں، سرمایہ کاری کریں اور دستیاب معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین برس کے دوران پڑوسی ممالک ایران اور پاکستان سے 60 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی واپسی کے باعث فی کس مجموعی ملکی پیداوار میں کمی آئی ہے، تاہم عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی حقیقی معاشی شرح نمو 4.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="انتہائی-شدید-غم" href="#انتہائی-شدید-غم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’’انتہائی شدید غم‘‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ طالبان حکام نے یورپ سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں، تاہم ان کی حکومت کو اب تک صرف روس نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی انتہائی خراب ہوچکے ہیں اور دونوں ممالک رواں سال جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ممالک نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور افغانستان میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق عوام کو ’’حقیقی اور سنگین نقصان‘‘ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی انسانی حقوق ڈائریکٹر فیونا فریزر نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان عوام نے ’’دم گھونٹ دینے والی پابندیوں کے مسلسل پھیلاؤ‘‘ کو برداشت کیا ہے، جنہوں نے ان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو اور انسانی حقوق کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے حکام کی جانب سے ’’صحافت پر وحشیانہ کریک ڈاؤن‘‘ کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں میڈیا کارکنوں کو نگرانی، گرفتاری، تشدد اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا یا انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت کے اقدامات سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ انہیں پارکس سمیت متعدد عوامی مقامات اور بیشتر ملازمتوں سے دور کردیا گیا ہے، جبکہ 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل میں رہنے والی ایک خاتون، جن کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل ان کے شوہر کو طالبان جنگجوؤں نے قتل کردیا تھا، نے ہفتے کے روز بتایا کہ انہیں شدید سردرد کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;35 سالہ خاتون نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہر سال یہ ماہ اور تاریخ آتے ہی مجھ پر ایک گہرا غم طاری ہوجاتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ اقتدار میں ہیں، میں سوگ مناتی رہوں گی۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>طالبان حکومت نے ہفتے کے روز افغانستان پر حکمرانی کے پانچ سال مکمل ہونے کا جشن منایا، جس پر حامیوں نے سڑکوں کا رخ کیا، جبکہ ناقدین نے روزمرہ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔</strong></p>
<p>کابل میں افغان شہری پرچموں سے سجی گاڑیوں میں سوار ہوکر شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہے۔ حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس دن کو ’’افغانستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے والا دن‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>سابق امریکی سفارتخانے کے قریب ایک چوک میں سیکڑوں افراد جمع ہوئے، جبکہ فوجی ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں ایتھلیٹس کی ایک پریڈ پر نچھاور کی گئیں۔ پریڈ میں صرف مرد ایتھلیٹس شامل تھے کیونکہ افغانستان میں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔</p>
<p>طالبان جنگجوؤں نے افغانستان بھر میں برق رفتاری سے پیش قدمی کے بعد 15 اگست 2021 کو بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی فورسز کا خاتمہ ہوگیا اور یہ سب امریکا کی قیادت میں غیرملکی افواج کے افراتفری میں ہونے والے انخلا کے بعد ہوا۔</p>
<p>ہفتے کے روز دارالحکومت میں سکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی، جبکہ غیرملکی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے بعض فوجی دستے، جن میں ہَم وی گاڑیاں بھی شامل تھیں، قافلوں کی صورت میں سڑکوں پر لائے گئے۔</p>
<p>اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق جنوبی شہر قندھار، جہاں طالبان کے سپریم لیڈر مقیم ہیں، اور مغربی شہر ہرات سمیت دیگر اہم شہروں میں بھی شہریوں نے ریلیاں نکالیں۔ ہرات میں سڑکوں پر کرتب دکھانے والے فنکاروں نے مختلف مظاہرے کیے۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ کے ترجمان ضیا احمد تکل نے دیگر ممالک کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں آئیں، سرمایہ کاری کریں اور دستیاب معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔‘‘</p>
<p>گزشتہ تین برس کے دوران پڑوسی ممالک ایران اور پاکستان سے 60 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی واپسی کے باعث فی کس مجموعی ملکی پیداوار میں کمی آئی ہے، تاہم عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی حقیقی معاشی شرح نمو 4.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<h3><a id="انتہائی-شدید-غم" href="#انتہائی-شدید-غم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’’انتہائی شدید غم‘‘</h3>
<p>اگرچہ طالبان حکام نے یورپ سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں، تاہم ان کی حکومت کو اب تک صرف روس نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔</p>
<p>پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی انتہائی خراب ہوچکے ہیں اور دونوں ممالک رواں سال جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔</p>
<p>کچھ ممالک نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور افغانستان میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق عوام کو ’’حقیقی اور سنگین نقصان‘‘ کا سامنا ہے۔</p>
<p>افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی انسانی حقوق ڈائریکٹر فیونا فریزر نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان عوام نے ’’دم گھونٹ دینے والی پابندیوں کے مسلسل پھیلاؤ‘‘ کو برداشت کیا ہے، جنہوں نے ان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو اور انسانی حقوق کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے حکام کی جانب سے ’’صحافت پر وحشیانہ کریک ڈاؤن‘‘ کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں میڈیا کارکنوں کو نگرانی، گرفتاری، تشدد اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا یا انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔</p>
<p>طالبان حکومت کے اقدامات سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ انہیں پارکس سمیت متعدد عوامی مقامات اور بیشتر ملازمتوں سے دور کردیا گیا ہے، جبکہ 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔</p>
<p>کابل میں رہنے والی ایک خاتون، جن کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل ان کے شوہر کو طالبان جنگجوؤں نے قتل کردیا تھا، نے ہفتے کے روز بتایا کہ انہیں شدید سردرد کا سامنا تھا۔</p>
<p>35 سالہ خاتون نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہر سال یہ ماہ اور تاریخ آتے ہی مجھ پر ایک گہرا غم طاری ہوجاتا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ اقتدار میں ہیں، میں سوگ مناتی رہوں گی۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290023</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 21:02:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1520521939af7b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1520521939af7b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
