<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 22:58:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 22:58:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیلم جہلم: تکمیل کے بعد قومی اثاثے سے بوجھ تک (حصہ دوم)</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290022/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب نیلم جہلم منصوبے نے 2018 میں اپنی مکمل پیداواری صلاحیت حاصل کی تو پاکستان میں اسے ایک بڑی پن بجلی کی کامیابی کے طور پر سراہا گیا۔ کئی دہائیوں کی تاخیر کے بعد 969 میگاواٹ کا پاور پلانٹ قومی گرڈ میں شامل ہوا تھا۔ اس سے مقامی اور قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار، ایندھن پر انحصار میں کمی اور نیلم/کشن گنگا طاس میں تزویراتی اہمیت کی توقعات وابستہ تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن منصوبے کی تکمیل کامیابی نہیں ہوتی، مسلسل اور قابلِ اعتماد آپریشن اصل کامیابی ہے۔ اس معیار پر نیلم جہلم منصوبہ ایک مثالی منصوبے سے ایک انتباہی مثال میں تبدیل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے نے بجلی ضرور پیدا کی اور اس کی پیداوار اہم بھی تھی، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ اس نے کبھی بجلی پیدا کی یا نہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا منصوبہ وعدے کے مطابق قابلِ اعتماد طریقے سے، قابلِ جواز لاگت پر اور بار بار قومی خزانے سے مالی مدد لیے بغیر بجلی فراہم کرسکا۔ جواب نفی میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا بڑا آپریشنل دھچکا 2022 میں لگا، جب ٹیل ریس ٹنل میں خرابی پیدا ہونے کے باعث پاور پلانٹ بند کرنا پڑا۔ یہ کوئی معمولی تکنیکی نقص نہیں تھا۔ رپورٹس میں لیکیج، دباؤ کے مسائل، کمزور چٹان، ناکافی سپورٹ اور حساس حصوں میں نامکمل لائننگ کی نشاندہی کی گئی۔ ٹنل پر انحصار کرنے والے پن بجلی منصوبے میں ایسی خرابی منصوبے کے بنیادی ڈھانچے ہی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی شاہراہ کے پل میں کششِ ثقل کا مسئلہ سامنے آجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے فوراً بعد مالی نقصان کا سلسلہ شروع ہوگیا: بجلی کی پیداوار میں کمی، مرمت کے اخراجات، ٹیرف پر دباؤ اور متبادل بجلی کی لاگت۔ صارفین نیلم جہلم سرچارج کے ذریعے پہلے ہی اس منصوبے کی قیمت اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کرچکے تھے؛ لیکن پلانٹ کی بندش کے بعد انہیں کم پیداوار، مرمت کے اخراجات اور متبادل بجلی کی صورت میں دوبارہ ادائیگی کرنا پڑی۔ جو منصوبہ بجلی کے نظام پر بوجھ کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہی اس نظام پر ایک اور بوجھ بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرمت کے بعد پلانٹ دوبارہ فعال ہوا اور مختصر مدت کے لیے مکمل صلاحیت پر بھی بجلی پیدا کرنے لگا۔ لیکن پھر دوسرا دھچکا آگیا۔ 2024 میں ہیڈ ریس ٹنل میں دباؤ کے مسائل سامنے آئے، جس کے باعث بجلی کی پیداوار محدود کردی گئی اور بعد ازاں معائنے کے لیے پلانٹ ایک بار پھر بند کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسے منصوبے کو، جو ابھی ایک ٹنل کی خرابی سے سنبھلا ہی تھا، دوسری ٹنل سے متعلق مسئلے نے دوبارہ مفلوج کردیا۔ یہ معمول کی ابتدائی تکنیکی مشکلات نہیں کہی جاسکتیں۔ یہ ڈیزائن، تعمیر، ارضیاتی عوامل سے نمٹنے، آپریشنل نگرانی یا ان سب میں موجود گہری خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق دوسری بار پلانٹ بند ہونے سے قبل ماہرین کی جانب سے خطرات سے متعلق انتباہات موجود تھے۔ اگر خدشات کی نشاندہی کے باوجود بروقت احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے تو اس ناکامی کو محض ارضیاتی عوامل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پھر یہ انتظامی ناکامی بھی بنتی ہے۔ پہاڑ مشکل ضرور ہوتے ہیں، لیکن نظرانداز کیے گئے انتباہات ناقابلِ معافی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلم جہلم کی پوری کہانی کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’پہلے انتباہ، پھر ناکامی اور آخر میں احتساب — اگر کبھی ہوا بھی تو۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی پہلو بھی اس سے مختلف نہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی ٹیرف اور لاگت کی توثیق سے متعلق معاملات حل طلب رہے۔ اتنے بڑے منصوبے کو محض اس بنیاد پر مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کی ٹربائنیں چل رہی ہیں۔ اس کی لاگت، ٹیرف کا تعین، انشورنس سے وصولی، مرمت کی ذمہ داری اور کارکردگی سے متعلق ذمہ داریاں شفاف انداز میں طے ہونا ضروری ہیں۔ پاکستان نے اثاثہ تو تعمیر کرلیا، لیکن اس سے وابستہ بہت سے مالی سوالات کو آئندہ کے لیے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے وسیع تر نظامی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔ جب نیلم جہلم بند ہوتا ہے تو پاکستان تقریباً ایک ہزار میگاواٹ پن بجلی کی پیداواری صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس کمی کو زیادہ مہنگی بجلی پیدا کرکے، لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے یا مزید مالی دباؤ برداشت کرکے پورا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ملک میں جو پہلے ہی گردشی قرضے، بلند ٹیرف اور درآمدی ایندھن پر انحصار کے شکنجے میں ہے، اتنی بڑی پن بجلی کی صلاحیت سے محرومی محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی دھچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تزویراتی نقصان بھی کم تکلیف دہ نہیں۔ منصوبے کے مقاصد میں سے ایک نیلم/کشن گنگا کے پانی پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط بنانا تھا۔ لیکن منصوبے کی تکمیل میں تاخیر، طویل بندش اور بار بار ٹنل کی خرابیوں نے اس مقصد کی عملی اہمیت کو کمزور کردیا۔ پاکستان نے منصوبہ ایسے بنایا جیسے وہ ایک تزویراتی دوڑ میں شامل ہو، لیکن اسے ایسے چلایا جیسے قابلِ اعتماد کارکردگی کوئی اختیاری معاملہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ماحولیات کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ نیلم کا پانی موڑنے سے مظفرآباد میں دریا کے بہاؤ، ماحولیات اور شہری پانی کی صورتحال سے متعلق خدشات پیدا ہوئے۔ ان معاملات کو منصوبے کے آغاز ہی سے اس کا حصہ بنایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ انہیں محض عوامی ردعمل سے نمٹنے کا مسئلہ سمجھا جاتا۔ دریاؤں کے رخ اور بہاؤ میں تبدیلی مقامی معیشت اور ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ اس حقیقت سے آنکھیں چرانے سے پانی کا بہاؤ تبدیل نہیں ہوجاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کی تکمیل کے بعد سامنے آنے والا سبق انتہائی واضح ہے: نیلم جہلم صرف تاخیر کا شکار اور مقررہ لاگت سے تجاوز کرنے والا منصوبہ نہیں تھا، بلکہ اس کی حکمرانی بھی ناقص رہی۔ ریاست نے افتتاح کا جشن منایا، لیکن طویل مدتی تکنیکی استحکام ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے تکمیل کو اہلیت سمجھ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سنجیدہ ردعمل کا آغاز مکمل معلومات منظرِ عام پر لانے سے ہونا چاہیے۔ پاکستان کو منصوبے کی مکمل عوامی تکنیکی تاریخ جاری کرنی چاہیے، جس میں فزیبلٹی میں تبدیلیاں، ڈیزائن کی منظوری، ارضیاتی جائزے، ٹنل سپورٹ سے متعلق فیصلے، تعمیراتی طریقہ کار، معائنہ رپورٹس، ماہرین کے انتباہات، انشورنس کلیمز اور مرمت کے منصوبے شامل ہوں۔ صارفین اور ٹیکس دہندگان اس منصوبے کی قیمت کئی بار ادا کرچکے ہیں۔ وہ محض پریس بیانات کے مستحق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، ذمہ داری کا تعین پورے سلسلے میں ہونا چاہیے: ڈیزائن، نگرانی، تعمیر، آپریشن، مانیٹرنگ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے تک۔ معمول کا یہ جملہ کہ ’’اس سے سبق سیکھ لیا گیا ہے‘‘ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کے ساتھ ذمہ دار افراد، ان کے فیصلے اور ان کے نتائج بھی سامنے نہ لائے جائیں۔ احتساب کے بغیر سبق سرکاری کاغذ پر چھپی تعزیتی عبارت کے سوا کچھ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، منصوبے کی حقیقی معاشی لاگت کا دیانت داری سے تعین کیا جانا چاہیے۔ اس میں تعمیراتی لاگت، تعمیر کے دوران سود، بجلی کی پیداوار میں نقصان، مرمت کے اخراجات، انشورنس سے وصولی، ٹیرف میں کمی اور متبادل بجلی کی لاگت سب شامل ہونی چاہیے۔ تب ہی پاکستان کو معلوم ہوگا کہ نیلم جہلم پر حقیقی طور پر کتنی لاگت آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، مستقبل کے پن بجلی منصوبوں کو ناقابلِ واپسی سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے سے پہلے آزادانہ ارضیاتی اور ڈیزائن آڈٹ کے مرحلے سے گزارنا ہوگا۔ پاکستان کو پن بجلی کی ضرورت ہے، لیکن اسے کمزور چٹان اور اس سے بھی کمزور حکمرانی میں امیدوں کی ایک اور سرنگ کھودنے کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلم جہلم ایک قومی اثاثہ بن سکتا تھا۔ تکنیکی اعتبار سے اسے اب بھی بچایا جاسکتا ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب ریاست انجینئرنگ کی ناکامی کو عوامی تعلقات کا مسئلہ سمجھنا چھوڑ دے۔ نعروں سے ٹنل کی مرمت نہیں ہوگی، اور نہ ہی صارفین کا اعتماد بحال ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے نے تکمیل سے پہلے ہی پاکستان کو خبردار کردیا تھا—ڈیزائن میں توسیع، لاگت میں اضافے اور ارضیاتی خطرات کے ذریعے۔ تکمیل کے بعد بھی اس نے ٹنل کے انہدام، بندش اور مرمت کے بھاری بلوں کے ذریعے خبردار کیا۔ المیہ یہ نہیں کہ خطرہ کسی کو نظر نہیں آیا؛ المیہ یہ ہے کہ خطرہ دیکھا گیا، اس کی شدت کم کرکے پیش کی گئی، فیصلے مؤخر کیے گئے اور پھر اسے عوام کے سامنے ایک غیر متوقع بدقسمتی کے طور پر پیش کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب نیلم جہلم منصوبے نے 2018 میں اپنی مکمل پیداواری صلاحیت حاصل کی تو پاکستان میں اسے ایک بڑی پن بجلی کی کامیابی کے طور پر سراہا گیا۔ کئی دہائیوں کی تاخیر کے بعد 969 میگاواٹ کا پاور پلانٹ قومی گرڈ میں شامل ہوا تھا۔ اس سے مقامی اور قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار، ایندھن پر انحصار میں کمی اور نیلم/کشن گنگا طاس میں تزویراتی اہمیت کی توقعات وابستہ تھیں۔</strong></p>
<p>لیکن منصوبے کی تکمیل کامیابی نہیں ہوتی، مسلسل اور قابلِ اعتماد آپریشن اصل کامیابی ہے۔ اس معیار پر نیلم جہلم منصوبہ ایک مثالی منصوبے سے ایک انتباہی مثال میں تبدیل ہوگیا ہے۔</p>
<p>منصوبے نے بجلی ضرور پیدا کی اور اس کی پیداوار اہم بھی تھی، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ اس نے کبھی بجلی پیدا کی یا نہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا منصوبہ وعدے کے مطابق قابلِ اعتماد طریقے سے، قابلِ جواز لاگت پر اور بار بار قومی خزانے سے مالی مدد لیے بغیر بجلی فراہم کرسکا۔ جواب نفی میں ہے۔</p>
<p>پہلا بڑا آپریشنل دھچکا 2022 میں لگا، جب ٹیل ریس ٹنل میں خرابی پیدا ہونے کے باعث پاور پلانٹ بند کرنا پڑا۔ یہ کوئی معمولی تکنیکی نقص نہیں تھا۔ رپورٹس میں لیکیج، دباؤ کے مسائل، کمزور چٹان، ناکافی سپورٹ اور حساس حصوں میں نامکمل لائننگ کی نشاندہی کی گئی۔ ٹنل پر انحصار کرنے والے پن بجلی منصوبے میں ایسی خرابی منصوبے کے بنیادی ڈھانچے ہی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی شاہراہ کے پل میں کششِ ثقل کا مسئلہ سامنے آجائے۔</p>
<p>اس کے فوراً بعد مالی نقصان کا سلسلہ شروع ہوگیا: بجلی کی پیداوار میں کمی، مرمت کے اخراجات، ٹیرف پر دباؤ اور متبادل بجلی کی لاگت۔ صارفین نیلم جہلم سرچارج کے ذریعے پہلے ہی اس منصوبے کی قیمت اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کرچکے تھے؛ لیکن پلانٹ کی بندش کے بعد انہیں کم پیداوار، مرمت کے اخراجات اور متبادل بجلی کی صورت میں دوبارہ ادائیگی کرنا پڑی۔ جو منصوبہ بجلی کے نظام پر بوجھ کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہی اس نظام پر ایک اور بوجھ بن گیا۔</p>
<p>مرمت کے بعد پلانٹ دوبارہ فعال ہوا اور مختصر مدت کے لیے مکمل صلاحیت پر بھی بجلی پیدا کرنے لگا۔ لیکن پھر دوسرا دھچکا آگیا۔ 2024 میں ہیڈ ریس ٹنل میں دباؤ کے مسائل سامنے آئے، جس کے باعث بجلی کی پیداوار محدود کردی گئی اور بعد ازاں معائنے کے لیے پلانٹ ایک بار پھر بند کردیا گیا۔</p>
<p>ایک ایسے منصوبے کو، جو ابھی ایک ٹنل کی خرابی سے سنبھلا ہی تھا، دوسری ٹنل سے متعلق مسئلے نے دوبارہ مفلوج کردیا۔ یہ معمول کی ابتدائی تکنیکی مشکلات نہیں کہی جاسکتیں۔ یہ ڈیزائن، تعمیر، ارضیاتی عوامل سے نمٹنے، آپریشنل نگرانی یا ان سب میں موجود گہری خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔</p>
<p>سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق دوسری بار پلانٹ بند ہونے سے قبل ماہرین کی جانب سے خطرات سے متعلق انتباہات موجود تھے۔ اگر خدشات کی نشاندہی کے باوجود بروقت احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے تو اس ناکامی کو محض ارضیاتی عوامل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پھر یہ انتظامی ناکامی بھی بنتی ہے۔ پہاڑ مشکل ضرور ہوتے ہیں، لیکن نظرانداز کیے گئے انتباہات ناقابلِ معافی ہوتے ہیں۔</p>
<p>نیلم جہلم کی پوری کہانی کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے:</p>
<p>’’پہلے انتباہ، پھر ناکامی اور آخر میں احتساب — اگر کبھی ہوا بھی تو۔‘‘</p>
<p>تجارتی پہلو بھی اس سے مختلف نہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی ٹیرف اور لاگت کی توثیق سے متعلق معاملات حل طلب رہے۔ اتنے بڑے منصوبے کو محض اس بنیاد پر مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کی ٹربائنیں چل رہی ہیں۔ اس کی لاگت، ٹیرف کا تعین، انشورنس سے وصولی، مرمت کی ذمہ داری اور کارکردگی سے متعلق ذمہ داریاں شفاف انداز میں طے ہونا ضروری ہیں۔ پاکستان نے اثاثہ تو تعمیر کرلیا، لیکن اس سے وابستہ بہت سے مالی سوالات کو آئندہ کے لیے چھوڑ دیا۔</p>
<p>اس کے وسیع تر نظامی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔ جب نیلم جہلم بند ہوتا ہے تو پاکستان تقریباً ایک ہزار میگاواٹ پن بجلی کی پیداواری صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس کمی کو زیادہ مہنگی بجلی پیدا کرکے، لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے یا مزید مالی دباؤ برداشت کرکے پورا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ملک میں جو پہلے ہی گردشی قرضے، بلند ٹیرف اور درآمدی ایندھن پر انحصار کے شکنجے میں ہے، اتنی بڑی پن بجلی کی صلاحیت سے محرومی محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی دھچکا ہے۔</p>
<p>تزویراتی نقصان بھی کم تکلیف دہ نہیں۔ منصوبے کے مقاصد میں سے ایک نیلم/کشن گنگا کے پانی پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط بنانا تھا۔ لیکن منصوبے کی تکمیل میں تاخیر، طویل بندش اور بار بار ٹنل کی خرابیوں نے اس مقصد کی عملی اہمیت کو کمزور کردیا۔ پاکستان نے منصوبہ ایسے بنایا جیسے وہ ایک تزویراتی دوڑ میں شامل ہو، لیکن اسے ایسے چلایا جیسے قابلِ اعتماد کارکردگی کوئی اختیاری معاملہ ہو۔</p>
<p>مقامی ماحولیات کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ نیلم کا پانی موڑنے سے مظفرآباد میں دریا کے بہاؤ، ماحولیات اور شہری پانی کی صورتحال سے متعلق خدشات پیدا ہوئے۔ ان معاملات کو منصوبے کے آغاز ہی سے اس کا حصہ بنایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ انہیں محض عوامی ردعمل سے نمٹنے کا مسئلہ سمجھا جاتا۔ دریاؤں کے رخ اور بہاؤ میں تبدیلی مقامی معیشت اور ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ اس حقیقت سے آنکھیں چرانے سے پانی کا بہاؤ تبدیل نہیں ہوجاتا۔</p>
<p>منصوبے کی تکمیل کے بعد سامنے آنے والا سبق انتہائی واضح ہے: نیلم جہلم صرف تاخیر کا شکار اور مقررہ لاگت سے تجاوز کرنے والا منصوبہ نہیں تھا، بلکہ اس کی حکمرانی بھی ناقص رہی۔ ریاست نے افتتاح کا جشن منایا، لیکن طویل مدتی تکنیکی استحکام ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے تکمیل کو اہلیت سمجھ لیا۔</p>
<p>ایک سنجیدہ ردعمل کا آغاز مکمل معلومات منظرِ عام پر لانے سے ہونا چاہیے۔ پاکستان کو منصوبے کی مکمل عوامی تکنیکی تاریخ جاری کرنی چاہیے، جس میں فزیبلٹی میں تبدیلیاں، ڈیزائن کی منظوری، ارضیاتی جائزے، ٹنل سپورٹ سے متعلق فیصلے، تعمیراتی طریقہ کار، معائنہ رپورٹس، ماہرین کے انتباہات، انشورنس کلیمز اور مرمت کے منصوبے شامل ہوں۔ صارفین اور ٹیکس دہندگان اس منصوبے کی قیمت کئی بار ادا کرچکے ہیں۔ وہ محض پریس بیانات کے مستحق نہیں۔</p>
<p>دوسرا، ذمہ داری کا تعین پورے سلسلے میں ہونا چاہیے: ڈیزائن، نگرانی، تعمیر، آپریشن، مانیٹرنگ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے تک۔ معمول کا یہ جملہ کہ ’’اس سے سبق سیکھ لیا گیا ہے‘‘ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کے ساتھ ذمہ دار افراد، ان کے فیصلے اور ان کے نتائج بھی سامنے نہ لائے جائیں۔ احتساب کے بغیر سبق سرکاری کاغذ پر چھپی تعزیتی عبارت کے سوا کچھ نہیں۔</p>
<p>تیسرا، منصوبے کی حقیقی معاشی لاگت کا دیانت داری سے تعین کیا جانا چاہیے۔ اس میں تعمیراتی لاگت، تعمیر کے دوران سود، بجلی کی پیداوار میں نقصان، مرمت کے اخراجات، انشورنس سے وصولی، ٹیرف میں کمی اور متبادل بجلی کی لاگت سب شامل ہونی چاہیے۔ تب ہی پاکستان کو معلوم ہوگا کہ نیلم جہلم پر حقیقی طور پر کتنی لاگت آئی ہے۔</p>
<p>چوتھا، مستقبل کے پن بجلی منصوبوں کو ناقابلِ واپسی سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے سے پہلے آزادانہ ارضیاتی اور ڈیزائن آڈٹ کے مرحلے سے گزارنا ہوگا۔ پاکستان کو پن بجلی کی ضرورت ہے، لیکن اسے کمزور چٹان اور اس سے بھی کمزور حکمرانی میں امیدوں کی ایک اور سرنگ کھودنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>نیلم جہلم ایک قومی اثاثہ بن سکتا تھا۔ تکنیکی اعتبار سے اسے اب بھی بچایا جاسکتا ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب ریاست انجینئرنگ کی ناکامی کو عوامی تعلقات کا مسئلہ سمجھنا چھوڑ دے۔ نعروں سے ٹنل کی مرمت نہیں ہوگی، اور نہ ہی صارفین کا اعتماد بحال ہوگا۔</p>
<p>منصوبے نے تکمیل سے پہلے ہی پاکستان کو خبردار کردیا تھا—ڈیزائن میں توسیع، لاگت میں اضافے اور ارضیاتی خطرات کے ذریعے۔ تکمیل کے بعد بھی اس نے ٹنل کے انہدام، بندش اور مرمت کے بھاری بلوں کے ذریعے خبردار کیا۔ المیہ یہ نہیں کہ خطرہ کسی کو نظر نہیں آیا؛ المیہ یہ ہے کہ خطرہ دیکھا گیا، اس کی شدت کم کرکے پیش کی گئی، فیصلے مؤخر کیے گئے اور پھر اسے عوام کے سامنے ایک غیر متوقع بدقسمتی کے طور پر پیش کردیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290022</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 20:49:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد ستار)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1520420945db28a.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1520420945db28a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
