<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 04:20:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 04:20:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر نے فیفا صدر انفینٹینو پر تنقید کرنے والے کھلے خط پر اے ایف سی کو چیلنج کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289994/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا کے مستقبل کے معاملے پر ایشیائی فٹبال میں بڑھتی ہوئی خلیج اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ قطر نے ایشیئن فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا ہے جس کے تحت اس نے یوئیفا اور کونکاکاف کے ساتھ مل کر مشکلات میں گھرے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو پر شدید تنقید کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر حمد بن خلیفہ الثانی نے اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کو خط لکھ کر کہا کہ پیر کو تینوں کنفیڈریشنز کی جانب سے اپنے ارکان کی اجتماعی نمائندگی کا تاثر دیتے ہوئے جاری کیے گئے کھلے خط سے قبل نہ تو ان سے اور نہ ہی قطر فٹبال ایسوسی ایشن سے مشاورت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے سال دوبارہ انتخاب لڑنے کے خواہاں انفینٹینو کو اس وقت کھلی مخالفت کا سامنا ہے، جب یوئیفا، اے ایف سی اور کونکاکاف نے ان کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ فیفا کے ورلڈ کپ جیسے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کی ان کی ناکام کوشش کے بعد سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور فیفا کونسل کے رکن حمد بن خلیفہ الثانی نے رائٹرز کے دیکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ ’’اجتماعی موقف پہلے طے کیا جانا چاہیے؛ اسے محض فرض نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی اعلان کے ذریعے وجود میں لایا جاسکتا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف سی سے وضاحت طلب کی کہ اس معاملے پر &lt;strong&gt;کس نوعیت کی مشاورت کی گئی تھی&lt;/strong&gt; اور کن بنیادوں پر اس نے خود کو اپنی 47 رکن فٹبال ایسوسی ایشنز کی جانب سے اجتماعی مؤقف اختیار کرنے کا مجاز سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف سی نے رائٹرز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر تبصرے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گہری-تقسیم" href="#گہری-تقسیم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گہری تقسیم&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ مداخلت انفینٹینو کی قیادت کے حوالے سے جاری کشمکش کے ایک اہم مرحلے پر اے ایف سی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الثانی نے اے ایف سی کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا، ’’بیان جاری کرنے سے قبل نہ قطر فٹبال ایسوسی ایشن سے اور نہ ہی ذاتی طور پر مجھ سے کسی رسمی یا غیر رسمی طریقے سے مشاورت کی گئی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’نہ پیشگی اطلاع دی گئی، نہ مسودہ گردش میں لایا گیا اور نہ ہی عوامی سطح پر اے ایف سی کے نام اور اس کے ارکان کی جانب سے جاری کیے جانے سے قبل اس کے متن پر رائے دینے یا اس میں اپنا حصہ ڈالنے کا کوئی موقع دیا گیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعتراض عرب ممالک کی چھ قومی فٹبال ایسوسی ایشنز کے سربراہان کی جانب سے جمعرات کو انفینٹینو کی حمایت کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں قطر کے علاوہ 2030ء ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرنے والا مراکش بھی شامل ہے۔ یہ حمایت فیفا کے بحران کے دوران سامنے آئی ہے، جو نجی سرمایہ کاری کی ناکام تجویز کے بعد شدت اختیار کرگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ میں سے چار دستخط کنندگان، الثانی، مصری فٹبال فیڈریشن کے سربراہ ہانی ابو ریدہ، مراکش کے فوزی لقجع اور موریطانیہ کے احمد یحییٰ، فیفا کونسل کے ارکان بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا تھا، ’’ہم مسٹر انفینٹینو کی دنیا بھر میں فٹبال کو فروغ دینے، تمام خطوں میں مواقع بڑھانے اور لوگوں اور برادریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کھیل کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفینٹینو نے ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق کو الگ کرکے ان میں سے 20 فیصد نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس سے تقریباً 4.2 ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع تھی، تاہم شدید ردعمل کے بعد انہوں نے یہ تجویز واپس لے لی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا کے مستقبل کے معاملے پر ایشیائی فٹبال میں بڑھتی ہوئی خلیج اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ قطر نے ایشیئن فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا ہے جس کے تحت اس نے یوئیفا اور کونکاکاف کے ساتھ مل کر مشکلات میں گھرے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو پر شدید تنقید کی۔</strong></p>
<p>قطر فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر حمد بن خلیفہ الثانی نے اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کو خط لکھ کر کہا کہ پیر کو تینوں کنفیڈریشنز کی جانب سے اپنے ارکان کی اجتماعی نمائندگی کا تاثر دیتے ہوئے جاری کیے گئے کھلے خط سے قبل نہ تو ان سے اور نہ ہی قطر فٹبال ایسوسی ایشن سے مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p>اگلے سال دوبارہ انتخاب لڑنے کے خواہاں انفینٹینو کو اس وقت کھلی مخالفت کا سامنا ہے، جب یوئیفا، اے ایف سی اور کونکاکاف نے ان کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ فیفا کے ورلڈ کپ جیسے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کی ان کی ناکام کوشش کے بعد سامنے آیا۔</p>
<p>اے ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور فیفا کونسل کے رکن حمد بن خلیفہ الثانی نے رائٹرز کے دیکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ ’’اجتماعی موقف پہلے طے کیا جانا چاہیے؛ اسے محض فرض نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی اعلان کے ذریعے وجود میں لایا جاسکتا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے اے ایف سی سے وضاحت طلب کی کہ اس معاملے پر <strong>کس نوعیت کی مشاورت کی گئی تھی</strong> اور کن بنیادوں پر اس نے خود کو اپنی 47 رکن فٹبال ایسوسی ایشنز کی جانب سے اجتماعی مؤقف اختیار کرنے کا مجاز سمجھا۔</p>
<p>اے ایف سی نے رائٹرز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر تبصرے سے گریز کیا۔</p>
<h3><a id="گہری-تقسیم" href="#گہری-تقسیم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گہری تقسیم</strong></h3>
<p>یہ مداخلت انفینٹینو کی قیادت کے حوالے سے جاری کشمکش کے ایک اہم مرحلے پر اے ایف سی کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کرتی ہے۔</p>
<p>الثانی نے اے ایف سی کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا، ’’بیان جاری کرنے سے قبل نہ قطر فٹبال ایسوسی ایشن سے اور نہ ہی ذاتی طور پر مجھ سے کسی رسمی یا غیر رسمی طریقے سے مشاورت کی گئی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’نہ پیشگی اطلاع دی گئی، نہ مسودہ گردش میں لایا گیا اور نہ ہی عوامی سطح پر اے ایف سی کے نام اور اس کے ارکان کی جانب سے جاری کیے جانے سے قبل اس کے متن پر رائے دینے یا اس میں اپنا حصہ ڈالنے کا کوئی موقع دیا گیا۔‘‘</p>
<p>یہ اعتراض عرب ممالک کی چھ قومی فٹبال ایسوسی ایشنز کے سربراہان کی جانب سے جمعرات کو انفینٹینو کی حمایت کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں قطر کے علاوہ 2030ء ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرنے والا مراکش بھی شامل ہے۔ یہ حمایت فیفا کے بحران کے دوران سامنے آئی ہے، جو نجی سرمایہ کاری کی ناکام تجویز کے بعد شدت اختیار کرگیا ہے۔</p>
<p>چھ میں سے چار دستخط کنندگان، الثانی، مصری فٹبال فیڈریشن کے سربراہ ہانی ابو ریدہ، مراکش کے فوزی لقجع اور موریطانیہ کے احمد یحییٰ، فیفا کونسل کے ارکان بھی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا تھا، ’’ہم مسٹر انفینٹینو کی دنیا بھر میں فٹبال کو فروغ دینے، تمام خطوں میں مواقع بڑھانے اور لوگوں اور برادریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کھیل کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘</p>
<p>انفینٹینو نے ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق کو الگ کرکے ان میں سے 20 فیصد نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس سے تقریباً 4.2 ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع تھی، تاہم شدید ردعمل کے بعد انہوں نے یہ تجویز واپس لے لی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289994</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 00:03:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/142353473c8420c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/142353473c8420c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
