<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 04:20:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 04:20:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیلم جہلم بجلی گھر کی تکمیل سے پہلے ہی: ڈیزائن پہلی وارننگ تھا (حصہ اول)</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289990/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیلم جہلم بجلی گھر کے فعال ہونے کے بعد مسئلہ نہیں بنا، بلکہ یہ بہت پہلے کیے گئے فیصلوں کے نتائج اپنے ساتھ لے کر فعال ہوا: بڑا ڈیزائن، زیادہ گہری سرنگیں، خطرات سے نمٹنے کے کمزور انتظامات، بڑھتی ہوئی لاگت اور ایسا تزویراتی بیانیہ جس نے مشکل سوالات اٹھانا سیاسی طور پر ناموزوں بنا دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کا بنیادی تصور درست تھا۔ پاکستان کو مقامی وسائل سے پن بجلی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ دریائے نیلم میں حقیقی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ بھارت کے ساتھ کشن گنگا تنازع نے بھی منصوبے کو تزویراتی اہمیت دے دی تھی۔ بروقت اور تکنیکی اعتبار سے محتاط منصوبہ بندی کے ذریعے کم لاگت بجلی پیدا کی جاسکتی تھی، ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کیا جاسکتا تھا اور پاکستان کے آبی مفادات کو تقویت دی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن منصوبہ تکنیکی اعتبار سے محتاط نہیں رہا۔ فیصلہ کن تبدیلی نسبتاً چھوٹے، مختصر اور کم خطرناک ڈیزائن سے موجودہ 969 میگاواٹ کے منصوبے کی جانب منتقلی تھی۔ ابتدائی منصوبے میں نسبتاً کم ہیڈ اور سرنگوں کی زیادہ سادہ ترتیب شامل تھی۔ نظرثانی شدہ ڈیزائن میں زیادہ طویل زیرِ زمین آبی گزرگاہ کے ذریعے کہیں زیادہ ہیڈ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے نصب شدہ صلاحیت تو بڑھ گئی، مگر ارضیاتی اور تعمیراتی خطرات کئی گنا بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصل معاملہ تھا۔ پاکستان نے تقریباً 400 میگاواٹ اضافی ظاہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے سرنگوں کا کہیں زیادہ پیچیدہ نظام قبول کرلیا۔ عوام نے صلاحیت کا عدد تو سنا، لیکن اس عدد کی قیمت اتنی وضاحت سے نہیں بتائی گئی: طویل سرنگیں، زیادہ گہری کھدائی، پانی کا زیادہ دباؤ، کمزور چٹانوں سے واسطہ، زلزلے کے اثرات کا بڑھا ہوا خطرہ، تعمیراتی غیر یقینی اور کہیں زیادہ مالی بوجھ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے کاغذ پر ایک میگاواٹ سستا ہوتا ہے، مگر پہاڑ کے اندر ایک میگاواٹ کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے ڈیزائن کی کشش واضح تھی۔ یہ زیادہ شاندار، زیادہ قابلِ تشہیر اور سرکاری تقاریر کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ لیکن انجینئرنگ تشہیری مہم کا نام نہیں۔ صلاحیت اسی وقت اہمیت رکھتی ہے جب بجلی گھر محفوظ طریقے سے تعمیر، معقول مالی بنیاد پر مکمل اور کئی دہائیوں تک قابلِ اعتماد انداز میں چلایا جاسکے۔ اس کسوٹی پر نیلم جہلم کے منصوبہ بندی کے مرحلے کو اس سے کہیں زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہونا چاہیے تھا جتنا حقیقت میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں جلد ہی تین خطرناک خصوصیات پیدا ہوگئیں۔ اول، اسے تزویراتی منصوبہ قرار دیا گیا، جس سے تنقید غیر حب الوطنی کا تاثر دینے لگی۔ دوم، اسے بھارت کے ساتھ دوڑ کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے نظم و ضبط کے بغیر عجلت کو فروغ ملا۔ سوم، اس کی لاگت مسلسل بڑھتی رہی، جس سے ہر گزرتے سال کے ساتھ منصوبے سے پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر مزید مشکل ہوتا گیا۔ جب ایسا منصوبہ رفتار پکڑ لیتا ہے تو بیوروکریسی عوامی مفاد کے مقابلے میں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ زور لگاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے ساتھ مقابلے کی دلیل بے بنیاد نہیں تھی، لیکن اسے غلط انداز میں استعمال کیا گیا۔ بھارت کا کشن گنگا منصوبہ واقعی تشویش کا باعث تھا۔ پاکستان کے پاس تیزی سے آگے بڑھنے کی معقول وجوہ موجود تھیں۔ لیکن عجلت کا مطلب سخت اور بہتر فیصلہ سازی ہونا چاہیے تھا، نگرانی میں کمی نہیں۔ اس کے برعکس ملک نے رفتار کا حوالہ دیتے ہوئے سست روی اختیار کی اور تزویراتی مفاد کا نام لے کر لاگت میں اضافے اور ڈیزائن سے متعلق غیر یقینی کو برداشت کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کی لاگت خود بہت کچھ بتاتی ہے۔ جو منصوبہ ابتدا میں کہیں زیادہ محدود نوعیت کا تھا، حتمی منظوری تک 500 ارب روپے کی حد عبور کرگیا۔ اس اضافے کو محض مہنگائی سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں ڈیزائن کی بلند پروازی، مالی معاونت میں تاخیر، ارضیاتی مسائل، معاہدوں میں تبدیلیاں اور منصوبے پر کمزور کنٹرول کا کردار تھا۔ کسی بھی سنجیدہ نظام میں اس پیمانے پر لاگت بڑھنے کے بعد منصوبے کو روک کر ازسرِنو جائزہ، آزادانہ تحقیقات اور عوام کو وضاحت پیش کی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر میں لاگت کا جائزہ لیا جائے تو بوجھ روپے میں ظاہر ہونے والی رقم سے بھی زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے۔ ای سی این ای سی نے بالآخر 2018ء میں منصوبے کی منظوری 506.8 ارب روپے کی لاگت پر دی۔ یہ محض واپڈا کی بیلنس شیٹ کا معاملہ نہیں تھا؛ منصوبے کے ایک حصے کی مالی اعانت بجلی صارفین سے وصول کیے جانے والے نیلم جہلم سرچارج کے ذریعے بھی ہوئی، جو ان کے بجلی کے بلوں میں شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018ء کی شرحِ مبادلہ سے حتمی روپے کی لاگت کو تقسیم کرنا بھی اصل بوجھ کو کم ظاہر کرتا ہے، کیونکہ زیادہ تر اخراجات اس وقت ہوئے جب روپے کی قدر نسبتاً مضبوط تھی۔ ہر سال کی اوسط سرکاری شرحِ مبادلہ پر تعمیراتی اخراجات کا تخمینہ ڈالر میں تبدیل کیا جائے تو مجموعی لاگت تقریباً 5.1 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 53 لاکھ ڈالر فی میگاواٹ بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی کمیشن کی اپنی تھرڈ پارٹی توثیق کی شرائط میں فی میگاواٹ تعمیراتی لاگت 42.3 لاکھ ڈالر بتائی گئی اور اس کا موازنہ داسو سے 22.5 لاکھ ڈالر، بونجی سے 18.7 لاکھ ڈالر، دیامر بھاشا سے 24.8 لاکھ ڈالر اور لوئر پالاس سے 16.6 لاکھ ڈالر فی میگاواٹ کے ساتھ کیا گیا۔ ایک اخبار نے نیلم جہلم کی لاگت 52.3 کروڑ روپے فی میگاواٹ رپورٹ کی، جو مقامی اور عالمی معیار کے لحاظ سے سب سے زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی منصفانہ معیار پر یہ منصوبہ اسی نوعیت اور تقریباً مساوی حجم کے سرنگوں پر زیادہ انحصار رکھنے والے دریائی بہاؤ کے پن بجلی منصوبوں میں سب سے مہنگے منصوبوں میں شامل ہوگیا۔ اگر اس نوعیت کی اس سے بھی زیادہ مہنگی کوئی مثال موجود ہے تو عوام کو آج تک اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وسیع تر عالمی تقابل بہانے کی آخری گنجائش بھی ختم کردیتا ہے۔ مناسب موازنہ کسی عام ڈیم یا تھرمل بجلی گھر سے نہیں بلکہ پانی کا رخ موڑنے والے، سرنگوں پر زیادہ انحصار رکھنے والے یا دریائی بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے والے دیگر پن بجلی منصوبوں سے ہونا چاہیے۔ تصویر خاصی تشویش ناک ہے:&lt;/p&gt;
&lt;table&gt;
&lt;thead&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;th&gt;منصوبہ&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;نوعیت / موازنہ&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;صلاحیت (میگاواٹ)&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;تخمینی لاگت&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;فی میگاواٹ لاگت (ملین ڈالر)&lt;/th&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/thead&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;نیلم جہلم (پاکستان)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;سرنگوں پر زیادہ انحصار رکھنے والا دریائی بہاؤ/پانی کا رخ موڑنے والا منصوبہ&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;969&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;5.1 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;5.3&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;بوجاگالی (یوگنڈا)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;پن بجلی/پونڈیج کا معیاری منصوبہ&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;250&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;0.80 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;3.2&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;زائیابوری (لاؤس)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;دریائے میکونگ پر دریائی بہاؤ کا منصوبہ&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;1,285&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;3.8 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;3.0&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;کشن گنگا&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;زیادہ ہیڈ والا دریائی بہاؤ/پانی کا رخ موڑنے والا منصوبہ&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;330&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;0.86 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;2.6&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;کروٹ (پاکستان/دریائے جہلم)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;علاقائی سطح پر دریائی بہاؤ کے منصوبے کا معیار&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;720&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;1.70 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;2.4&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;نام تھون 2 (لاؤس)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;ایک دریائی نظام سے دوسرے میں پانی منتقل کرنے والا پن بجلی منصوبہ&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;1,070&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;1.45 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;1.4&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;تالا (بھوٹان)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;زیادہ ہیڈ والا دریائی بہاؤ، طویل سرنگوں پر مشتمل&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;1,020&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;0.90 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;0.9&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;table dir="auto" style="min-width: 125px;"&gt;
&lt;colgroup&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;col style="min-width: 25px;"&gt;&lt;/colgroup&gt;&lt;tbody&gt;&lt;tr dir="auto"&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;جن پنگ-II (چین)&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;بڑے پیمانے پر پانی کا رخ موڑنے والا منصوبہ، 16.6 کلومیٹر کی 4 سرنگیں&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;4,800&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;3.73 ارب ڈالر&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"&gt;&lt;p dir="auto"&gt;—&lt;/p&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;p&gt;مختلف جغرافیائی حالات، منصوبے کے آغاز کا سال، دائرۂ کار، ترسیلی نظام کو لاگت میں شامل کرنے کے طریقے اور شرحِ مبادلہ کے فرق کو مدنظر رکھنے کے باوجود نیلم جہلم ایک غیر معمولی مثال نظر آتا ہے۔ اس کی فی میگاواٹ لاگت کشن گنگا، کروٹ، زائیابوری، نام تھون 2، تالا حتیٰ کہ چین کے بڑے جن پنگ-II ڈائیورژن منصوبے سے بھی زیادہ ہے۔ اصل موازنہ یہی ہے: پاکستان نے ایسے منصوبے کے لیے غیر معمولی قیمت ادا کی جو اس کے باوجود غیر معمولی قابلِ اعتماد کارکردگی نہ دے سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بنیادی سوال کبھی نہیں پوچھا گیا: کیا اضافی صلاحیت، اضافی خطرے کے قابل تھی؟ اگر ایک چھوٹا منصوبہ کم خطرے کے ساتھ زیادہ تر بجلی جلد اور کم لاگت میں فراہم کرسکتا تھا تو بڑے منصوبے کے انتخاب کے لیے ٹھوس معاشی اور انجینئرنگ جواز درکار تھا۔ 2005ء کے زلزلے کے بعد اس جواز کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے تھا، جب خطے کے ارضیاتی اور زلزلہ خیز خطرات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اس کے بجائے منصوبے کے اندرونی نظام میں بڑے ڈیزائن کو ہی نسبتاً آسان راستہ سمجھ کر برقرار رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تعمیر عملی مرحلے میں داخل ہوئی تو بنیادی فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔ عمل درآمد کرنے والی ٹیموں کو پھر اس کے نتائج بھگتنا پڑے: مشکل سرنگ سازی، چٹانوں کا دباؤ، پانی کے دباؤ سے متعلق مسائل، تاخیر اور بڑھتی ہوئی لاگت۔ بعد میں سرنگوں کی تعمیر کے طریقۂ کار پر اٹھنے والے اعتراضات محض انتظامی کوتاہیاں نہیں تھیں، بلکہ اس ڈیزائن کے ان خطرات کی علامات تھیں جنہیں منصوبہ بندی کے مرحلے میں مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹَنل بورنگ مشینوں (ٹی بی ایمز) کی کہانی بھی اسی ناکامی کی عکاس ہے۔ کھدائی کا عمل تیز کرنے کے لیے ٹی بی ایمز منگوائی گئیں، لیکن اطلاعات کے مطابق ان کی تنصیب میں ہی سات ماہ لگ گئے اور انہیں نکالنے اور ختم کرنے میں مزید سات ماہ لگنے کی توقع تھی۔ بعد ازاں مزمل حسین نے کابینہ کمیٹی کو بتایا کہ ان مشینوں کا انتخاب ایک غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے ان کے استعمال کو چٹان پھٹنے کے سیکڑوں واقعات اور انسانی جانوں کے ضیاع سے جوڑا، ایک ٹی بی ایم کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کیا اور اس مشکل صورت حال کی نشاندہی بھی کی کہ ایک مشین سرنگ کے اندر ہی پھنس گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مشینوں کو ٹھکانے لگانا خود ایک مسئلہ تھا، کیونکہ معاہدے میں ان کی اسکریپ یا دوبارہ فروخت کی مالیت 40 لاکھ 65 ہزار ڈالر مقرر تھی، جبکہ یہ مشینیں خصوصی طور پر نیلم جہلم کے لیے تیار کی گئی تھیں اور پاکستان میں کسی دوسرے منصوبے پر استعمال نہیں کی جاسکتی تھیں۔ منصوبہ بندی کمیشن کی تھرڈ پارٹی توثیق کی شرائط میں بھی ٹی بی ایمز کی لاگت 19.5 ارب روپے درج کی گئی اور مبینہ طور پر خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں کی چھان بین کی ہدایت دی گئی۔ وقت بچانے کے لیے خریدی گئی مشینیں خود اس بات کی ایک اور مثال بن گئیں کہ عجلت، کمزور ارضیاتی جائزے، ناقص معاہدہ بندی اور کمزور احتساب مل کر انجینئرنگ کے آلات کو بھی بے کار سرمایہ بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے واپڈا کے چیئرمین مزمل حسین کے بعد کے بیانات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے نیلم جہلم کو ابتدا ہی سے ناقص ڈیزائن اور غلط تصور پر مبنی قرار دیا تھا اور کمزور سروے، غیر واضح تخمینوں، چٹان پھٹنے، پانی کے رساؤ اور دورانِ منصوبہ بندی تبدیلیوں کی نشاندہی کی تھی۔ یہ کوئی معمولی تنقید نہیں تھی بلکہ اس ادارے کی طرف سے اس امر کا اعتراف تھا کہ منصوبہ فعال ہونے سے پہلے ہی ساختی خامیوں کا شکار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود پاکستان نے اس وارننگ کو بھی ریکارڈ کا ایک اور حصہ سمجھ کر نظرانداز کردیا۔ کوئی قومی سطح کا جامع احتساب نہیں ہوا۔ نہ صارفین، ٹیکس دہندگان یا پارلیمنٹ کے سامنے یہ مکمل تفصیل رکھی گئی کہ بڑے ڈیزائن کا انتخاب کیوں کیا گیا، ارضیاتی خطرات کا جائزہ کس نے لیا، کون سے متبادل مسترد کیے گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ منصوبے کے لاگت و فوائد کے جواز میں کیا تبدیلی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی گھر کے فعال ہونے سے پہلے ہی نیلم جہلم پاکستان کے بڑے منصوبوں کی ناکامی کی کلاسیکی علامات ظاہر کرچکا تھا: حد سے بڑھی ہوئی بلندپروازی، کمزور جانچ پڑتال، تزویراتی نعروں کی بھرمار، عمل درآمد میں تاخیر اور غیر واضح احتساب۔ منصوبہ اتنا اہم تھا کہ اس پر سوال اٹھانا مشکل تھا، اتنا مہنگا ہوچکا تھا کہ اسے روکنا مشکل تھا اور سیاسی طور پر اتنا مفید تھا کہ اس کا دیانت دارانہ جائزہ لینا مزید مشکل ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں منصوبے کا فعال ہونا محض ایک تصویر فراہم کرگیا، فیصلہ نہیں۔ اصل فیصلہ تو اس کے ڈیزائن میں پہلے ہی لکھا جاچکا تھا۔ پاکستان نے زیادہ بڑے اور سرنگوں پر بھاری انحصار رکھنے والے منصوبے کا انتخاب کیا، مگر اس کے شایانِ شان انتظامی اور احتسابی نظم و ضبط پیدا نہ کرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ نیلم جہلم کا پہلا المیہ سرنگ کا منہدم ہونا نہیں تھا۔ پہلا المیہ یہ تھا کہ بجلی کی پیداوار شروع ہونے سے پہلے ہی ڈیزائن کے خطرات نمایاں ہوچکے تھے، لیکن ریاست اس طرح آگے بڑھتی رہی جیسے محض بلندپروازی ہی انجینئرنگ کا متبادل ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیلم جہلم بجلی گھر کے فعال ہونے کے بعد مسئلہ نہیں بنا، بلکہ یہ بہت پہلے کیے گئے فیصلوں کے نتائج اپنے ساتھ لے کر فعال ہوا: بڑا ڈیزائن، زیادہ گہری سرنگیں، خطرات سے نمٹنے کے کمزور انتظامات، بڑھتی ہوئی لاگت اور ایسا تزویراتی بیانیہ جس نے مشکل سوالات اٹھانا سیاسی طور پر ناموزوں بنا دیا تھا۔</strong></p>
<p>منصوبے کا بنیادی تصور درست تھا۔ پاکستان کو مقامی وسائل سے پن بجلی پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ دریائے نیلم میں حقیقی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ بھارت کے ساتھ کشن گنگا تنازع نے بھی منصوبے کو تزویراتی اہمیت دے دی تھی۔ بروقت اور تکنیکی اعتبار سے محتاط منصوبہ بندی کے ذریعے کم لاگت بجلی پیدا کی جاسکتی تھی، ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کیا جاسکتا تھا اور پاکستان کے آبی مفادات کو تقویت دی جاسکتی تھی۔</p>
<p>لیکن منصوبہ تکنیکی اعتبار سے محتاط نہیں رہا۔ فیصلہ کن تبدیلی نسبتاً چھوٹے، مختصر اور کم خطرناک ڈیزائن سے موجودہ 969 میگاواٹ کے منصوبے کی جانب منتقلی تھی۔ ابتدائی منصوبے میں نسبتاً کم ہیڈ اور سرنگوں کی زیادہ سادہ ترتیب شامل تھی۔ نظرثانی شدہ ڈیزائن میں زیادہ طویل زیرِ زمین آبی گزرگاہ کے ذریعے کہیں زیادہ ہیڈ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے نصب شدہ صلاحیت تو بڑھ گئی، مگر ارضیاتی اور تعمیراتی خطرات کئی گنا بڑھ گئے۔</p>
<p>یہی اصل معاملہ تھا۔ پاکستان نے تقریباً 400 میگاواٹ اضافی ظاہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے سرنگوں کا کہیں زیادہ پیچیدہ نظام قبول کرلیا۔ عوام نے صلاحیت کا عدد تو سنا، لیکن اس عدد کی قیمت اتنی وضاحت سے نہیں بتائی گئی: طویل سرنگیں، زیادہ گہری کھدائی، پانی کا زیادہ دباؤ، کمزور چٹانوں سے واسطہ، زلزلے کے اثرات کا بڑھا ہوا خطرہ، تعمیراتی غیر یقینی اور کہیں زیادہ مالی بوجھ۔</p>
<p>منصوبے کے کاغذ پر ایک میگاواٹ سستا ہوتا ہے، مگر پہاڑ کے اندر ایک میگاواٹ کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔</p>
<p>بڑے ڈیزائن کی کشش واضح تھی۔ یہ زیادہ شاندار، زیادہ قابلِ تشہیر اور سرکاری تقاریر کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ لیکن انجینئرنگ تشہیری مہم کا نام نہیں۔ صلاحیت اسی وقت اہمیت رکھتی ہے جب بجلی گھر محفوظ طریقے سے تعمیر، معقول مالی بنیاد پر مکمل اور کئی دہائیوں تک قابلِ اعتماد انداز میں چلایا جاسکے۔ اس کسوٹی پر نیلم جہلم کے منصوبہ بندی کے مرحلے کو اس سے کہیں زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہونا چاہیے تھا جتنا حقیقت میں ہوا۔</p>
<p>منصوبے میں جلد ہی تین خطرناک خصوصیات پیدا ہوگئیں۔ اول، اسے تزویراتی منصوبہ قرار دیا گیا، جس سے تنقید غیر حب الوطنی کا تاثر دینے لگی۔ دوم، اسے بھارت کے ساتھ دوڑ کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے نظم و ضبط کے بغیر عجلت کو فروغ ملا۔ سوم، اس کی لاگت مسلسل بڑھتی رہی، جس سے ہر گزرتے سال کے ساتھ منصوبے سے پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر مزید مشکل ہوتا گیا۔ جب ایسا منصوبہ رفتار پکڑ لیتا ہے تو بیوروکریسی عوامی مفاد کے مقابلے میں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ زور لگاتی ہے۔</p>
<p>بھارت کے ساتھ مقابلے کی دلیل بے بنیاد نہیں تھی، لیکن اسے غلط انداز میں استعمال کیا گیا۔ بھارت کا کشن گنگا منصوبہ واقعی تشویش کا باعث تھا۔ پاکستان کے پاس تیزی سے آگے بڑھنے کی معقول وجوہ موجود تھیں۔ لیکن عجلت کا مطلب سخت اور بہتر فیصلہ سازی ہونا چاہیے تھا، نگرانی میں کمی نہیں۔ اس کے برعکس ملک نے رفتار کا حوالہ دیتے ہوئے سست روی اختیار کی اور تزویراتی مفاد کا نام لے کر لاگت میں اضافے اور ڈیزائن سے متعلق غیر یقینی کو برداشت کیا۔</p>
<p>منصوبے کی لاگت خود بہت کچھ بتاتی ہے۔ جو منصوبہ ابتدا میں کہیں زیادہ محدود نوعیت کا تھا، حتمی منظوری تک 500 ارب روپے کی حد عبور کرگیا۔ اس اضافے کو محض مہنگائی سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں ڈیزائن کی بلند پروازی، مالی معاونت میں تاخیر، ارضیاتی مسائل، معاہدوں میں تبدیلیاں اور منصوبے پر کمزور کنٹرول کا کردار تھا۔ کسی بھی سنجیدہ نظام میں اس پیمانے پر لاگت بڑھنے کے بعد منصوبے کو روک کر ازسرِنو جائزہ، آزادانہ تحقیقات اور عوام کو وضاحت پیش کی جاتی۔</p>
<p>ڈالر میں لاگت کا جائزہ لیا جائے تو بوجھ روپے میں ظاہر ہونے والی رقم سے بھی زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے۔ ای سی این ای سی نے بالآخر 2018ء میں منصوبے کی منظوری 506.8 ارب روپے کی لاگت پر دی۔ یہ محض واپڈا کی بیلنس شیٹ کا معاملہ نہیں تھا؛ منصوبے کے ایک حصے کی مالی اعانت بجلی صارفین سے وصول کیے جانے والے نیلم جہلم سرچارج کے ذریعے بھی ہوئی، جو ان کے بجلی کے بلوں میں شامل تھا۔</p>
<p>2018ء کی شرحِ مبادلہ سے حتمی روپے کی لاگت کو تقسیم کرنا بھی اصل بوجھ کو کم ظاہر کرتا ہے، کیونکہ زیادہ تر اخراجات اس وقت ہوئے جب روپے کی قدر نسبتاً مضبوط تھی۔ ہر سال کی اوسط سرکاری شرحِ مبادلہ پر تعمیراتی اخراجات کا تخمینہ ڈالر میں تبدیل کیا جائے تو مجموعی لاگت تقریباً 5.1 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 53 لاکھ ڈالر فی میگاواٹ بنتی ہے۔</p>
<p>منصوبہ بندی کمیشن کی اپنی تھرڈ پارٹی توثیق کی شرائط میں فی میگاواٹ تعمیراتی لاگت 42.3 لاکھ ڈالر بتائی گئی اور اس کا موازنہ داسو سے 22.5 لاکھ ڈالر، بونجی سے 18.7 لاکھ ڈالر، دیامر بھاشا سے 24.8 لاکھ ڈالر اور لوئر پالاس سے 16.6 لاکھ ڈالر فی میگاواٹ کے ساتھ کیا گیا۔ ایک اخبار نے نیلم جہلم کی لاگت 52.3 کروڑ روپے فی میگاواٹ رپورٹ کی، جو مقامی اور عالمی معیار کے لحاظ سے سب سے زیادہ تھی۔</p>
<p>کسی بھی منصفانہ معیار پر یہ منصوبہ اسی نوعیت اور تقریباً مساوی حجم کے سرنگوں پر زیادہ انحصار رکھنے والے دریائی بہاؤ کے پن بجلی منصوبوں میں سب سے مہنگے منصوبوں میں شامل ہوگیا۔ اگر اس نوعیت کی اس سے بھی زیادہ مہنگی کوئی مثال موجود ہے تو عوام کو آج تک اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ایک وسیع تر عالمی تقابل بہانے کی آخری گنجائش بھی ختم کردیتا ہے۔ مناسب موازنہ کسی عام ڈیم یا تھرمل بجلی گھر سے نہیں بلکہ پانی کا رخ موڑنے والے، سرنگوں پر زیادہ انحصار رکھنے والے یا دریائی بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے والے دیگر پن بجلی منصوبوں سے ہونا چاہیے۔ تصویر خاصی تشویش ناک ہے:</p>
<table>
<thead>
<tr>
<th>منصوبہ</th>
<th>نوعیت / موازنہ</th>
<th>صلاحیت (میگاواٹ)</th>
<th>تخمینی لاگت</th>
<th>فی میگاواٹ لاگت (ملین ڈالر)</th>
</tr>
</thead>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">نیلم جہلم (پاکستان)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">سرنگوں پر زیادہ انحصار رکھنے والا دریائی بہاؤ/پانی کا رخ موڑنے والا منصوبہ</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">969</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">5.1 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">5.3</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">بوجاگالی (یوگنڈا)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">پن بجلی/پونڈیج کا معیاری منصوبہ</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">250</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">0.80 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">3.2</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">زائیابوری (لاؤس)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">دریائے میکونگ پر دریائی بہاؤ کا منصوبہ</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">1,285</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">3.8 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">3.0</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">کشن گنگا</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">زیادہ ہیڈ والا دریائی بہاؤ/پانی کا رخ موڑنے والا منصوبہ</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">330</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">0.86 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">2.6</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">کروٹ (پاکستان/دریائے جہلم)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">علاقائی سطح پر دریائی بہاؤ کے منصوبے کا معیار</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">720</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">1.70 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">2.4</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">نام تھون 2 (لاؤس)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">ایک دریائی نظام سے دوسرے میں پانی منتقل کرنے والا پن بجلی منصوبہ</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">1,070</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">1.45 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">1.4</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">تالا (بھوٹان)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">زیادہ ہیڈ والا دریائی بہاؤ، طویل سرنگوں پر مشتمل</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">1,020</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">0.90 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">0.9</p></td></tr></tbody>
</table>
<table dir="auto" style="min-width: 125px;">
<colgroup><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"><col style="min-width: 25px;"></colgroup><tbody><tr dir="auto"><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">جن پنگ-II (چین)</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">بڑے پیمانے پر پانی کا رخ موڑنے والا منصوبہ، 16.6 کلومیٹر کی 4 سرنگیں</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">4,800</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">3.73 ارب ڈالر</p></td><td dir="auto" colspan="1" rowspan="1"><p dir="auto">—</p></td></tr></tbody>
</table>
<p>مختلف جغرافیائی حالات، منصوبے کے آغاز کا سال، دائرۂ کار، ترسیلی نظام کو لاگت میں شامل کرنے کے طریقے اور شرحِ مبادلہ کے فرق کو مدنظر رکھنے کے باوجود نیلم جہلم ایک غیر معمولی مثال نظر آتا ہے۔ اس کی فی میگاواٹ لاگت کشن گنگا، کروٹ، زائیابوری، نام تھون 2، تالا حتیٰ کہ چین کے بڑے جن پنگ-II ڈائیورژن منصوبے سے بھی زیادہ ہے۔ اصل موازنہ یہی ہے: پاکستان نے ایسے منصوبے کے لیے غیر معمولی قیمت ادا کی جو اس کے باوجود غیر معمولی قابلِ اعتماد کارکردگی نہ دے سکا۔</p>
<p>وہ بنیادی سوال کبھی نہیں پوچھا گیا: کیا اضافی صلاحیت، اضافی خطرے کے قابل تھی؟ اگر ایک چھوٹا منصوبہ کم خطرے کے ساتھ زیادہ تر بجلی جلد اور کم لاگت میں فراہم کرسکتا تھا تو بڑے منصوبے کے انتخاب کے لیے ٹھوس معاشی اور انجینئرنگ جواز درکار تھا۔ 2005ء کے زلزلے کے بعد اس جواز کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے تھا، جب خطے کے ارضیاتی اور زلزلہ خیز خطرات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اس کے بجائے منصوبے کے اندرونی نظام میں بڑے ڈیزائن کو ہی نسبتاً آسان راستہ سمجھ کر برقرار رکھا گیا۔</p>
<p>جب تعمیر عملی مرحلے میں داخل ہوئی تو بنیادی فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔ عمل درآمد کرنے والی ٹیموں کو پھر اس کے نتائج بھگتنا پڑے: مشکل سرنگ سازی، چٹانوں کا دباؤ، پانی کے دباؤ سے متعلق مسائل، تاخیر اور بڑھتی ہوئی لاگت۔ بعد میں سرنگوں کی تعمیر کے طریقۂ کار پر اٹھنے والے اعتراضات محض انتظامی کوتاہیاں نہیں تھیں، بلکہ اس ڈیزائن کے ان خطرات کی علامات تھیں جنہیں منصوبہ بندی کے مرحلے میں مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔</p>
<p>ٹَنل بورنگ مشینوں (ٹی بی ایمز) کی کہانی بھی اسی ناکامی کی عکاس ہے۔ کھدائی کا عمل تیز کرنے کے لیے ٹی بی ایمز منگوائی گئیں، لیکن اطلاعات کے مطابق ان کی تنصیب میں ہی سات ماہ لگ گئے اور انہیں نکالنے اور ختم کرنے میں مزید سات ماہ لگنے کی توقع تھی۔ بعد ازاں مزمل حسین نے کابینہ کمیٹی کو بتایا کہ ان مشینوں کا انتخاب ایک غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے ان کے استعمال کو چٹان پھٹنے کے سیکڑوں واقعات اور انسانی جانوں کے ضیاع سے جوڑا، ایک ٹی بی ایم کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کیا اور اس مشکل صورت حال کی نشاندہی بھی کی کہ ایک مشین سرنگ کے اندر ہی پھنس گئی تھی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مشینوں کو ٹھکانے لگانا خود ایک مسئلہ تھا، کیونکہ معاہدے میں ان کی اسکریپ یا دوبارہ فروخت کی مالیت 40 لاکھ 65 ہزار ڈالر مقرر تھی، جبکہ یہ مشینیں خصوصی طور پر نیلم جہلم کے لیے تیار کی گئی تھیں اور پاکستان میں کسی دوسرے منصوبے پر استعمال نہیں کی جاسکتی تھیں۔ منصوبہ بندی کمیشن کی تھرڈ پارٹی توثیق کی شرائط میں بھی ٹی بی ایمز کی لاگت 19.5 ارب روپے درج کی گئی اور مبینہ طور پر خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں کی چھان بین کی ہدایت دی گئی۔ وقت بچانے کے لیے خریدی گئی مشینیں خود اس بات کی ایک اور مثال بن گئیں کہ عجلت، کمزور ارضیاتی جائزے، ناقص معاہدہ بندی اور کمزور احتساب مل کر انجینئرنگ کے آلات کو بھی بے کار سرمایہ بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے واپڈا کے چیئرمین مزمل حسین کے بعد کے بیانات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے نیلم جہلم کو ابتدا ہی سے ناقص ڈیزائن اور غلط تصور پر مبنی قرار دیا تھا اور کمزور سروے، غیر واضح تخمینوں، چٹان پھٹنے، پانی کے رساؤ اور دورانِ منصوبہ بندی تبدیلیوں کی نشاندہی کی تھی۔ یہ کوئی معمولی تنقید نہیں تھی بلکہ اس ادارے کی طرف سے اس امر کا اعتراف تھا کہ منصوبہ فعال ہونے سے پہلے ہی ساختی خامیوں کا شکار تھا۔</p>
<p>اس کے باوجود پاکستان نے اس وارننگ کو بھی ریکارڈ کا ایک اور حصہ سمجھ کر نظرانداز کردیا۔ کوئی قومی سطح کا جامع احتساب نہیں ہوا۔ نہ صارفین، ٹیکس دہندگان یا پارلیمنٹ کے سامنے یہ مکمل تفصیل رکھی گئی کہ بڑے ڈیزائن کا انتخاب کیوں کیا گیا، ارضیاتی خطرات کا جائزہ کس نے لیا، کون سے متبادل مسترد کیے گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ منصوبے کے لاگت و فوائد کے جواز میں کیا تبدیلی آئی۔</p>
<p>بجلی گھر کے فعال ہونے سے پہلے ہی نیلم جہلم پاکستان کے بڑے منصوبوں کی ناکامی کی کلاسیکی علامات ظاہر کرچکا تھا: حد سے بڑھی ہوئی بلندپروازی، کمزور جانچ پڑتال، تزویراتی نعروں کی بھرمار، عمل درآمد میں تاخیر اور غیر واضح احتساب۔ منصوبہ اتنا اہم تھا کہ اس پر سوال اٹھانا مشکل تھا، اتنا مہنگا ہوچکا تھا کہ اسے روکنا مشکل تھا اور سیاسی طور پر اتنا مفید تھا کہ اس کا دیانت دارانہ جائزہ لینا مزید مشکل ہوگیا تھا۔</p>
<p>بعد میں منصوبے کا فعال ہونا محض ایک تصویر فراہم کرگیا، فیصلہ نہیں۔ اصل فیصلہ تو اس کے ڈیزائن میں پہلے ہی لکھا جاچکا تھا۔ پاکستان نے زیادہ بڑے اور سرنگوں پر بھاری انحصار رکھنے والے منصوبے کا انتخاب کیا، مگر اس کے شایانِ شان انتظامی اور احتسابی نظم و ضبط پیدا نہ کرسکا۔</p>
<p>چنانچہ نیلم جہلم کا پہلا المیہ سرنگ کا منہدم ہونا نہیں تھا۔ پہلا المیہ یہ تھا کہ بجلی کی پیداوار شروع ہونے سے پہلے ہی ڈیزائن کے خطرات نمایاں ہوچکے تھے، لیکن ریاست اس طرح آگے بڑھتی رہی جیسے محض بلندپروازی ہی انجینئرنگ کا متبادل ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289990</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 22:55:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد ستار)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/14223623fb90e2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/14223623fb90e2d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
