<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 20:40:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 20:40:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میاں زاہد کا گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پر تشویش کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289979/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، صنعتوں، تاجروں اور عام صارفین کے لیے ایک بڑے معاشی مسئلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ 8 اگست سے جاری ہڑتال کے باعث چار لاکھ سے زائد مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹرز ودہولڈنگ ٹیکس، ٹول ٹیکس، ایکسل لوڈ، کسٹمز سے متعلق شکایات اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر تبدیلی جیسے مسائل اٹھا رہے ہیں۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کو فوری اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے قابل عمل حل نکالنا چاہیے کیونکہ ہڑتال کا ہر اضافی دن پوری معیشت کے نقصانات میں اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ درآمد کنندگان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں کیونکہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر آنے والے کنٹینرز کی معمول کے مطابق کلیئرنس اور نقل و حمل ممکن نہیں رہی۔ درآمدی خام مال فیکٹریوں تک نہیں پہنچ پا رہا جبکہ بندرگاہوں پر موجود کنٹینرز پر ڈیمرج، ڈیٹینشن، اسٹوریج اور ہینڈلنگ چارجز بڑھتے جا رہے ہیں، حالانکہ اس صورتحال پر درآمد کنندگان کا کوئی اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ جولائی 2026 میں پاکستان نے تقریباً 6.89 ارب ڈالر کی اشیائ درآمد کیں جبکہ مالی سال 26-2025 میں مجموعی درآمدات 69.597 ارب ڈالر رہیں۔ پاکستان میں درآمدات کی ترسیل تقریبا 64 ارب روپے روزانہ ہے ایسے میں بندرگاہوں سے اندرون ملک ٹرانسپورٹ کی ترسیل میں طویل بندش کاروباری لاگت میں بھاری اضافہ کر رہی ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو مہنگائی کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، صنعتوں، تاجروں اور عام صارفین کے لیے ایک بڑے معاشی مسئلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ 8 اگست سے جاری ہڑتال کے باعث چار لاکھ سے زائد مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ٹرانسپورٹرز ودہولڈنگ ٹیکس، ٹول ٹیکس، ایکسل لوڈ، کسٹمز سے متعلق شکایات اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر تبدیلی جیسے مسائل اٹھا رہے ہیں۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کو فوری اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے قابل عمل حل نکالنا چاہیے کیونکہ ہڑتال کا ہر اضافی دن پوری معیشت کے نقصانات میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ درآمد کنندگان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں کیونکہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر آنے والے کنٹینرز کی معمول کے مطابق کلیئرنس اور نقل و حمل ممکن نہیں رہی۔ درآمدی خام مال فیکٹریوں تک نہیں پہنچ پا رہا جبکہ بندرگاہوں پر موجود کنٹینرز پر ڈیمرج، ڈیٹینشن، اسٹوریج اور ہینڈلنگ چارجز بڑھتے جا رہے ہیں، حالانکہ اس صورتحال پر درآمد کنندگان کا کوئی اختیار نہیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ جولائی 2026 میں پاکستان نے تقریباً 6.89 ارب ڈالر کی اشیائ درآمد کیں جبکہ مالی سال 26-2025 میں مجموعی درآمدات 69.597 ارب ڈالر رہیں۔ پاکستان میں درآمدات کی ترسیل تقریبا 64 ارب روپے روزانہ ہے ایسے میں بندرگاہوں سے اندرون ملک ٹرانسپورٹ کی ترسیل میں طویل بندش کاروباری لاگت میں بھاری اضافہ کر رہی ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو مہنگائی کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289979</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 15:02:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/141501508ef0647.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/141501508ef0647.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
