<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 15:13:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 15:13:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنشن فنڈ اسکیم، وزارتِ خزانہ کی عملدرآمد کیلئے ہدایات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے اپنی ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن (ڈی سی) پینشن فنڈ اسکیم-2024 کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں جس کے تحت تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل ملازمین کی نشاندہی، ان کا ریکارڈ اپ ڈیٹ اور اسکیم پر عمل درآمد کے لیے فوکل پرسنز نامزد کرنے کا عمل 15 روز کے اندر مکمل کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے ایک دفتری یادداشت (آفس میمورنڈم) میں بتایا کہ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پینشن فنڈ اسکیم یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل ہو کر عملی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو کہا گیا ہے کہ وہ بی ایس 17 یا اس سے اوپر کے گریڈ کے ایک فوکل پرسن کو نامزد کریں جو اسکیم پر عمل درآمد سے متعلق امور میں رابطہ کاری کرے گا جبکہ مذکورہ افسر کی تفصیلات وزارتِ خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ساتھ شیئر کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتوں اور ڈویژنز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے دفاتر یا شعبہ جات نامزد کریں جو پنشن اسکیم پر عمل درآمد کے لیے مطلوب ملازمین کے ڈیٹا کی تصدیق، توثیق اور اسے برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم ہدایت کے تحت وزارتوں اور ڈویژنز کو ایسے ملازمین کی فہرستیں تیار اور تصدیق کرنے کا کہا گیا ہے جن کی یکم جولائی 2024 سے باقاعدہ تقرری ہوئی اور جو ڈی سی پنشن اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی تفصیلات اور کوائف وزارتِ خزانہ کی یادداشت موصول ہونے کے 15 روز کے اندر اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ریکارڈ میں باقاعدہ اپ ڈیٹ کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے مزید ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں اور ڈویژنز اپنے انتظامی کنٹرول میں آنے والے تمام محکموں، ماتحت دفاتر اور دیگر اداروں میں بھی یہی عمل مکمل کرائیں، جہاں کے ملازمین اس اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ ونگ کو الگ سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکموں، ماتحت دفاتر اور دیگر اداروں کے لیے ان تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یادداشت میں کہا گیا ہے کہ اسکیم کے قواعد کے تحت اس پر عمل درآمد اکاؤنٹنٹ جنرل، وزارتِ خزانہ، وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں، ڈویژنز، محکموں اور ماتحت دفاتر کے ذریعے کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد کے تحت متعلقہ تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو اسکیم پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو اور وزارتِ خزانہ کو مکمل تعاون اور معاونت فراہم کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کو ڈی سی پنشن فنڈ اسکیم رولز کے رول 6 کے تحت قواعد کے مقاصد پر عمل درآمد کے لیے رہنما اصول اور ہدایات جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ڈی سی پنشن فنڈ اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ملازمین کی تازہ ترین جامع فہرست وزارتِ خزانہ کو پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامع فہرست میں متعلقہ وزارت، ڈویژن اور محکمے کے لحاظ سے ملازمین کی تفصیلات بنیادی پے اسکیل سمیت شامل ہوں گی جبکہ ملازمین کے ڈیٹا کی تصدیق متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کی جانب سے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے زور دیا کہ پنشن اسکیم کو مؤثر انداز میں فعال بنانے کے لیے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے اپنی ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن (ڈی سی) پینشن فنڈ اسکیم-2024 کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں جس کے تحت تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل ملازمین کی نشاندہی، ان کا ریکارڈ اپ ڈیٹ اور اسکیم پر عمل درآمد کے لیے فوکل پرسنز نامزد کرنے کا عمل 15 روز کے اندر مکمل کریں۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے ایک دفتری یادداشت (آفس میمورنڈم) میں بتایا کہ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پینشن فنڈ اسکیم یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل ہو کر عملی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔</p>
<p>تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو کہا گیا ہے کہ وہ بی ایس 17 یا اس سے اوپر کے گریڈ کے ایک فوکل پرسن کو نامزد کریں جو اسکیم پر عمل درآمد سے متعلق امور میں رابطہ کاری کرے گا جبکہ مذکورہ افسر کی تفصیلات وزارتِ خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ساتھ شیئر کرنا ہوں گی۔</p>
<p>وزارتوں اور ڈویژنز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے دفاتر یا شعبہ جات نامزد کریں جو پنشن اسکیم پر عمل درآمد کے لیے مطلوب ملازمین کے ڈیٹا کی تصدیق، توثیق اور اسے برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔</p>
<p>ایک اہم ہدایت کے تحت وزارتوں اور ڈویژنز کو ایسے ملازمین کی فہرستیں تیار اور تصدیق کرنے کا کہا گیا ہے جن کی یکم جولائی 2024 سے باقاعدہ تقرری ہوئی اور جو ڈی سی پنشن اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔</p>
<p>ان کی تفصیلات اور کوائف وزارتِ خزانہ کی یادداشت موصول ہونے کے 15 روز کے اندر اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ریکارڈ میں باقاعدہ اپ ڈیٹ کیے جائیں گے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے مزید ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں اور ڈویژنز اپنے انتظامی کنٹرول میں آنے والے تمام محکموں، ماتحت دفاتر اور دیگر اداروں میں بھی یہی عمل مکمل کرائیں، جہاں کے ملازمین اس اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ ونگ کو الگ سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکموں، ماتحت دفاتر اور دیگر اداروں کے لیے ان تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔</p>
<p>یادداشت میں کہا گیا ہے کہ اسکیم کے قواعد کے تحت اس پر عمل درآمد اکاؤنٹنٹ جنرل، وزارتِ خزانہ، وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں، ڈویژنز، محکموں اور ماتحت دفاتر کے ذریعے کیا جانا ہے۔</p>
<p>قواعد کے تحت متعلقہ تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو اسکیم پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو اور وزارتِ خزانہ کو مکمل تعاون اور معاونت فراہم کرنا ہوگی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کو ڈی سی پنشن فنڈ اسکیم رولز کے رول 6 کے تحت قواعد کے مقاصد پر عمل درآمد کے لیے رہنما اصول اور ہدایات جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔</p>
<p>کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ڈی سی پنشن فنڈ اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ملازمین کی تازہ ترین جامع فہرست وزارتِ خزانہ کو پیش کرے۔</p>
<p>جامع فہرست میں متعلقہ وزارت، ڈویژن اور محکمے کے لحاظ سے ملازمین کی تفصیلات بنیادی پے اسکیل سمیت شامل ہوں گی جبکہ ملازمین کے ڈیٹا کی تصدیق متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کی جانب سے کی جائے گی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے زور دیا کہ پنشن اسکیم کو مؤثر انداز میں فعال بنانے کے لیے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289968</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 12:34:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/14122637a3ed984.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/14122637a3ed984.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
