<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 15:13:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 15:13:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس اینڈ پی نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کا طریقہ بتادیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289965/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے سوورین کریڈٹ ریٹنگز کے ڈائریکٹر یی فارن فوا کے مطابق اگر پاکستان مالی استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی مالی پوزیشن مضبوط بنانے میں کامیاب رہا تو ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری آسکتی ہے۔ اس سلسلے میں جی ڈی پی کے 3 فیصد سے کم مالی خسارo اور حکومتی قرضے کو جی ڈی پی کے 60 فیصد سے نیچے لانا اہم اہداف میں شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوا نے کہا کہ پاکستان میں بہتر سیاسی استحکام ملک کی حالیہ کریڈٹ ریٹنگ کو بی تک اپ گریڈ کیے جانے کی ایک اہم وجہ رہا ہے۔ اس سے حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت اہم اصلاحات نافذ کرنے، مالیاتی انتظام بہتر بنانے اور ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوا نے سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافے کا فیصلہ نسبتاً زیادہ مستحکم سیاسی صورتحال، آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات میں پیش رفت اور ملک کی مالی و بیرونی پوزیشن میں بہتری کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے 22 جولائی کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مائنس بی سے بڑھا کر بی کردی تھی جبکہ آؤٹ لک مستحکم رکھا گیا جس کے بعد ریٹنگ 2016 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ فوا نے کہا  کہ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ ہم پاکستان کی سیاسی صورتحال کو نسبتاً زیادہ مستحکم سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زیادہ سیاسی استحکام نے حکومت کو معاشی استحکام کی بحالی کے لیے اہم سمجھی جانے والی اصلاحات نافذ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اس سے ملک کو آئی ایم ایف کی انتہائی اہم اصلاحات پر عمل درآمد میں مدد ملی جن کے نتیجے میں مالی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوا نے نسبتاً مستحکم سیاسی ماحول کو ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ مستحکم سیاسی صورتحال کے باعث ادارہ جاتی صلاحیت میں بھی بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے سوورین کریڈٹ ریٹنگز کے ڈائریکٹر یی فارن فوا کے مطابق اگر پاکستان مالی استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی مالی پوزیشن مضبوط بنانے میں کامیاب رہا تو ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری آسکتی ہے۔ اس سلسلے میں جی ڈی پی کے 3 فیصد سے کم مالی خسارo اور حکومتی قرضے کو جی ڈی پی کے 60 فیصد سے نیچے لانا اہم اہداف میں شامل ہیں۔</strong></p>
<p>فوا نے کہا کہ پاکستان میں بہتر سیاسی استحکام ملک کی حالیہ کریڈٹ ریٹنگ کو بی تک اپ گریڈ کیے جانے کی ایک اہم وجہ رہا ہے۔ اس سے حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت اہم اصلاحات نافذ کرنے، مالیاتی انتظام بہتر بنانے اور ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔</p>
<p>فوا نے سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافے کا فیصلہ نسبتاً زیادہ مستحکم سیاسی صورتحال، آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات میں پیش رفت اور ملک کی مالی و بیرونی پوزیشن میں بہتری کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے 22 جولائی کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مائنس بی سے بڑھا کر بی کردی تھی جبکہ آؤٹ لک مستحکم رکھا گیا جس کے بعد ریٹنگ 2016 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ فوا نے کہا  کہ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ ہم پاکستان کی سیاسی صورتحال کو نسبتاً زیادہ مستحکم سمجھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ زیادہ سیاسی استحکام نے حکومت کو معاشی استحکام کی بحالی کے لیے اہم سمجھی جانے والی اصلاحات نافذ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اس سے ملک کو آئی ایم ایف کی انتہائی اہم اصلاحات پر عمل درآمد میں مدد ملی جن کے نتیجے میں مالی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔</p>
<p>فوا نے نسبتاً مستحکم سیاسی ماحول کو ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ مستحکم سیاسی صورتحال کے باعث ادارہ جاتی صلاحیت میں بھی بہتری آئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289965</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 12:05:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/141157443817860.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/141157443817860.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
