<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 04:29:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 04:29:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے کان کنی پر ریاستی حکومتوں کے نئے ٹیکس روکنے کے لیے قانون منظور کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289958/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت ریاستی حکومتیں وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کے تحت اجازت کے بغیر معدنی حقوق اور معدنی ذخائر رکھنے والی اراضی پر نئے ٹیکس، سیس یا دیگر محصولات عائد نہیں کرسکیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کا مقصد کان کنی کے شعبے کے لیے یکساں ٹیکس نظام وضع کرنا اور وفاقی حکومت کے مطابق مختلف ریاستوں میں کان کنی کرنے والی کمپنیوں پر عائد غیر معمولی اور غیر یکساں مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے کہا کہ موجودہ نظام کے باعث مختلف نوعیت کے ٹیکس اور محصولات عائد ہوتے تھے، ریاستوں میں ٹیکس کی شرحیں مختلف تھیں اور ماضی سے لاگو کیے جانے والے ٹیکس مطالبات سامنے آتے تھے، جس سے کان کنی کی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے تحت وفاقی حکومت کو معدنی وسائل سے مالا مال اراضی کی نگرانی کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا، جس سے کان کنی کے ضابطے اور معدنی ترقی پر موجودہ اختیار سے آگے اس کا کردار مزید وسیع ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے نفاذ سے قبل ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد کیے گئے لیکن وصول نہ کیے جانے والے یا زیرِ التوا تمام محصولات بھی کالعدم قرار دے دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت ریاستی حکومتیں وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کے تحت اجازت کے بغیر معدنی حقوق اور معدنی ذخائر رکھنے والی اراضی پر نئے ٹیکس، سیس یا دیگر محصولات عائد نہیں کرسکیں گی۔</strong></p>
<p>بل کا مقصد کان کنی کے شعبے کے لیے یکساں ٹیکس نظام وضع کرنا اور وفاقی حکومت کے مطابق مختلف ریاستوں میں کان کنی کرنے والی کمپنیوں پر عائد غیر معمولی اور غیر یکساں مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے کہا کہ موجودہ نظام کے باعث مختلف نوعیت کے ٹیکس اور محصولات عائد ہوتے تھے، ریاستوں میں ٹیکس کی شرحیں مختلف تھیں اور ماضی سے لاگو کیے جانے والے ٹیکس مطالبات سامنے آتے تھے، جس سے کان کنی کی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی تھی۔</p>
<p>قانون کے تحت وفاقی حکومت کو معدنی وسائل سے مالا مال اراضی کی نگرانی کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا، جس سے کان کنی کے ضابطے اور معدنی ترقی پر موجودہ اختیار سے آگے اس کا کردار مزید وسیع ہوجائے گا۔</p>
<p>قانون کے نفاذ سے قبل ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد کیے گئے لیکن وصول نہ کیے جانے والے یا زیرِ التوا تمام محصولات بھی کالعدم قرار دے دیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289958</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 01:23:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/140119475b86e30.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/140119475b86e30.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
