<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 11:32:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 11:32:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معتبر میزائل خطرے کے باعث ٹرمپ کا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289919/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ کے دورے کے دوران کندھے سے داغے جانے والے میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے خطرے کے پیش نظر خفیہ طور پر ایئر فورس ون سے ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے بدھ کو بتایا کہ یہ خطرہ ٹرمپ کے نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ کے دورے کے آخری روز سامنے آیا، جب ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی۔ امریکی سیکرٹ سروس نے خطرے کو قابلِ اعتبار اور فوری قرار دیا، جس کے بعد امریکی صدر کی نقل و حرکت خفیہ رکھنے کے لیے غیرمعمولی آپریشن کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کے چند معاونین نے 8 جولائی کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے بڑی نیلی اور سفید صدارتی طیارے سے خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے C-32A طیارے میں منتقلی کی۔ ایئر فورس ون الگ روانہ ہوا، جس میں اعلیٰ امریکی حکام، وائٹ ہاؤس کا عملہ اور صحافی سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ سیکرٹ سروس کی ہدایت پر انہوں نے طیارہ تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طیارے میں وہ سفر کر رہے تھے، وہ شاید زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ حملہ آوروں کے لیے ممکنہ طور پر وہی زیادہ قابلِ ہدف ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ خطرے کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا تھا بلکہ مخالف عناصر کی جانب سے صرف حملے کا ارادہ معلوم ہوا تھا۔ اسی وجہ سے دونوں طیاروں کو پرواز کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ممکنہ خطرہ جدید حرارت کا سراغ لگانے والے میزائل سے متعلق ہو سکتا ہے، جو طیارے کے گرم انجن کو نشانہ بناتے ہیں اور روایتی ریڈار سے چلنے والے ہتھیاروں کے مقابلے میں ان کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق امریکی حکام کو یہ جان کر بھی تشویش ہوئی کہ ایرانی عناصر کو انقرہ میں ٹرمپ کی رہائش گاہ اور ہوٹل کی منزل تک کا علم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے حکام نے واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ کے دورے کے دوران کندھے سے داغے جانے والے میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے خطرے کے پیش نظر خفیہ طور پر ایئر فورس ون سے ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے بدھ کو بتایا کہ یہ خطرہ ٹرمپ کے نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ کے دورے کے آخری روز سامنے آیا، جب ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی۔ امریکی سیکرٹ سروس نے خطرے کو قابلِ اعتبار اور فوری قرار دیا، جس کے بعد امریکی صدر کی نقل و حرکت خفیہ رکھنے کے لیے غیرمعمولی آپریشن کیا گیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کے چند معاونین نے 8 جولائی کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے بڑی نیلی اور سفید صدارتی طیارے سے خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے C-32A طیارے میں منتقلی کی۔ ایئر فورس ون الگ روانہ ہوا، جس میں اعلیٰ امریکی حکام، وائٹ ہاؤس کا عملہ اور صحافی سوار تھے۔</p>
<p>ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ سیکرٹ سروس کی ہدایت پر انہوں نے طیارہ تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طیارے میں وہ سفر کر رہے تھے، وہ شاید زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ حملہ آوروں کے لیے ممکنہ طور پر وہی زیادہ قابلِ ہدف ہوتا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ خطرے کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا تھا بلکہ مخالف عناصر کی جانب سے صرف حملے کا ارادہ معلوم ہوا تھا۔ اسی وجہ سے دونوں طیاروں کو پرواز کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ممکنہ خطرہ جدید حرارت کا سراغ لگانے والے میزائل سے متعلق ہو سکتا ہے، جو طیارے کے گرم انجن کو نشانہ بناتے ہیں اور روایتی ریڈار سے چلنے والے ہتھیاروں کے مقابلے میں ان کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق امریکی حکام کو یہ جان کر بھی تشویش ہوئی کہ ایرانی عناصر کو انقرہ میں ٹرمپ کی رہائش گاہ اور ہوٹل کی منزل تک کا علم تھا۔</p>
<p>ترکیہ کے حکام نے واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289919</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 10:02:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1309594038451e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="452" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1309594038451e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
