<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 11:32:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 11:32:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر کے بعد بیٹری اسٹوریج کا انقلاب دستک دینے لگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289918/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں شمسی توانائی کا سفر گرڈ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے ایک بار پھر قدرے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ نیٹ میٹرنگ غیرمعمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے، حالانکہ اس اضافے کو تقویت دینے والا ریگولیٹری فریم ورک ازسرنو تشکیل دیا جا رہا ہے اور بیٹریاں اگلی بڑی تبدیلی کے طور پر سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین اعداد و شمار میں اس حوالے سے ابہام کی کوئی خاص گنجائش نہیں۔ جون 2026 میں نیٹ میٹرنگ والے صارفین سے بجلی کی خریداری تقریباً 270 گیگاواٹ گھنٹہ (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئی، جبکہ جون 2023 میں یہ بمشکل 20 جی ڈبلیو ایچ تھی۔ یعنی صرف 3 سال میں اس میں 13 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ غیرمعمولی حد تک مسلسل رہا ہے۔ کیلنڈر سال کے بیشتر عرصے میں ہر سال نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2026 کی سطح پہلے ہی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اپریل میں آنے والی بلند ترین سطح خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اپریل 2026 میں نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی خریداری تقریباً 390 جی ڈبلیو ایچ تک پہنچ گئی، جبکہ ایک سال قبل یہ تقریباً 310 جی ڈبلیو ایچ اور 2024 میں صرف 100 جی ڈبلیو ایچ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سولر پینلز کی درآمد کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سولر پینلز کی مجموعی درآمد اب مبینہ طور پر 55,000  میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم سرکاری طور پر نیٹ میٹرنگ کے تحت نصب شمسی صلاحیت اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ یہ فرق اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا شمسی انقلاب کبھی بھی صرف گرڈ سے منسلک گھریلو چھتوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کا ایک بڑا حصہ ذاتی استعمال، کمرشل اور صنعتی نظام، ہائبرڈ تنصیبات اور بڑھتے ہوئے اسٹوریج سے منسلک نظاموں میں استعمال ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/08/13022749c2066ee.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/08/13022749c2066ee.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم گرڈ کے لیے نیٹ میٹرنگ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں مظہر ہے۔ پرانے فریم ورک کے تحت جڑنے والا ہر اضافی میگاواٹ صارفین اور تقسیم کار نظام کے درمیان تعلق کو تبدیل کرتا ہے۔ دن کے وقت بجلی کی طلب کم ہوتی ہے۔ اضافی بجلی گرڈ میں واپس آتی ہے۔ اور بجلی کی فروخت کے حجم کے ذریعے نیٹ ورک کے اخراجات پورے کرنے کا روایتی ماڈل بڑھتے ہوئے دباؤ میں آ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس ماڈل کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے کنکشنز کے لیے سابقہ نیٹ میٹرنگ فریم ورک کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف ہونے کے بعد گرڈ سے منسلک نئی سولر تنصیبات کی غیرمعمولی رفتار میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کی معاشی کشش کم ہو جائے گی۔ صارفین کو اس بات کی زیادہ ترغیب ملے گی کہ وہ اپنی پیدا کردہ بجلی خود استعمال کریں، بجائے اس کے کہ اسے گرڈ میں واپس بھیجیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہی اگلے مرحلے کا آغاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹریاں اب کوئی دور کا امکان نہیں رہیں۔ جولائی میں لیتھیم بیٹریوں کی درآمد ریکارڈ 88 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو کسی ایک ماہ کی اب تک کی سب سے زیادہ مالیت ہے۔ صرف 2 سال قبل پاکستان ہر 80 سے 85 ڈالر مالیت کے سولر پینلز کی درآمد کے مقابلے میں تقریباً 1 ڈالر کی لیتھیم بیٹریاں درآمد کرتا تھا۔ جولائی میں یہ فرق کم ہو کر صرف 2.5 ڈالر رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں رجحانات ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی رفتار میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ شمسی انقلاب ختم ہو رہا ہے۔ اسی طرح بیٹریوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سولر پینلز کا دور ختم ہو چکا ہے۔ درحقیقت زیادہ ممکنہ صورتِ حال یہ ہے کہ سولر اور اسٹوریج ایک ساتھ تیزی سے بڑھیں گے، کیونکہ بیٹریاں صارفین کو اپنے سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی زیادہ قدر حاصل کرنے کی اجازت دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرڈ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے یہ ایک زیادہ مشکل مسئلہ پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر کا پرانا چیلنج واضح تھا۔ چھتوں پر بجلی کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی تھی اور نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت کو ریکارڈ کیا جا سکتا تھا۔ اس کا ردعمل بڑی حد تک ردعمل پر مبنی تھا۔ پاکستان نے کئی سال تقسیم شدہ شمسی توانائی کے اثرات پر بحث میں گزار دیے، جبکہ مارکیٹ اس سے کہیں آگے بڑھ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹوریج ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ بجلی کے استعمال کے وقت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ سولر اور بیٹری رکھنے والا گھرانہ صرف دن کے وقت بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ اس پیداوار کو شام کے وقت تک منتقل بھی کر سکتا ہے، جب گرڈ کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور ٹیرف بھی عموماً زیادہ ہوتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ایسا ہونے کی صورت میں بجلی کی طلب کی مجموعی شکل بنیادی طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ عین اس وقت جب ریگولیٹری تبدیلیوں کے باعث نیٹ میٹرنگ کی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا امکان ہے، تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار کو اگلے مرحلے تک لے جانے والی ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرتبہ منصوبہ بندی میں سستی کی گنجائش نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی سولر انقلاب کو دیر سے سمجھنے کی قیمت ادا کر چکا ہے۔ اسٹوریج انقلاب کو سمجھنے میں اسی طرح کی تاخیر موجودہ بجلی کے نظام اور اس نظام کے درمیان ایک اور عدم مطابقت پیدا کر سکتی ہے جو صارفین درحقیقت چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کام تقسیم شدہ توانائی کو روکنا نہیں بلکہ اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ گرڈ میں سرمایہ کاری، ٹیرف کا ڈیزائن، بجلی کی طلب کی پیش گوئی، نیٹ ورک چارجز، یوٹیلیٹیز کی مالی صورتحال اور بجلی کے نظام میں طلب و رسد کا توازن، سب کا جائزہ ایسے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے لینا ہوگا جس میں صارفین تیزی سے اپنی بجلی خود پیدا، ذخیرہ اور منظم کر رہے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر انقلاب نے ایک مرتبہ نظام کو حیران کر دیا۔ پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ اسٹوریج انقلاب بھی اسے اسی طرح حیران کر دے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں شمسی توانائی کا سفر گرڈ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے ایک بار پھر قدرے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ نیٹ میٹرنگ غیرمعمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے، حالانکہ اس اضافے کو تقویت دینے والا ریگولیٹری فریم ورک ازسرنو تشکیل دیا جا رہا ہے اور بیٹریاں اگلی بڑی تبدیلی کے طور پر سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔</strong></p>
<p>تازہ ترین اعداد و شمار میں اس حوالے سے ابہام کی کوئی خاص گنجائش نہیں۔ جون 2026 میں نیٹ میٹرنگ والے صارفین سے بجلی کی خریداری تقریباً 270 گیگاواٹ گھنٹہ (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئی، جبکہ جون 2023 میں یہ بمشکل 20 جی ڈبلیو ایچ تھی۔ یعنی صرف 3 سال میں اس میں 13 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>یہ اضافہ غیرمعمولی حد تک مسلسل رہا ہے۔ کیلنڈر سال کے بیشتر عرصے میں ہر سال نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2026 کی سطح پہلے ہی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اپریل میں آنے والی بلند ترین سطح خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اپریل 2026 میں نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی خریداری تقریباً 390 جی ڈبلیو ایچ تک پہنچ گئی، جبکہ ایک سال قبل یہ تقریباً 310 جی ڈبلیو ایچ اور 2024 میں صرف 100 جی ڈبلیو ایچ تھی۔</p>
<p>یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سولر پینلز کی درآمد کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں سولر پینلز کی مجموعی درآمد اب مبینہ طور پر 55,000  میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم سرکاری طور پر نیٹ میٹرنگ کے تحت نصب شمسی صلاحیت اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ یہ فرق اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا شمسی انقلاب کبھی بھی صرف گرڈ سے منسلک گھریلو چھتوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کا ایک بڑا حصہ ذاتی استعمال، کمرشل اور صنعتی نظام، ہائبرڈ تنصیبات اور بڑھتے ہوئے اسٹوریج سے منسلک نظاموں میں استعمال ہوا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/08/13022749c2066ee.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/08/13022749c2066ee.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم گرڈ کے لیے نیٹ میٹرنگ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں مظہر ہے۔ پرانے فریم ورک کے تحت جڑنے والا ہر اضافی میگاواٹ صارفین اور تقسیم کار نظام کے درمیان تعلق کو تبدیل کرتا ہے۔ دن کے وقت بجلی کی طلب کم ہوتی ہے۔ اضافی بجلی گرڈ میں واپس آتی ہے۔ اور بجلی کی فروخت کے حجم کے ذریعے نیٹ ورک کے اخراجات پورے کرنے کا روایتی ماڈل بڑھتے ہوئے دباؤ میں آ جاتا ہے۔</p>
<p>اب اس ماڈل کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>نئے کنکشنز کے لیے سابقہ نیٹ میٹرنگ فریم ورک کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف ہونے کے بعد گرڈ سے منسلک نئی سولر تنصیبات کی غیرمعمولی رفتار میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کی معاشی کشش کم ہو جائے گی۔ صارفین کو اس بات کی زیادہ ترغیب ملے گی کہ وہ اپنی پیدا کردہ بجلی خود استعمال کریں، بجائے اس کے کہ اسے گرڈ میں واپس بھیجیں۔</p>
<p>اور یہی اگلے مرحلے کا آغاز ہے۔</p>
<p>بیٹریاں اب کوئی دور کا امکان نہیں رہیں۔ جولائی میں لیتھیم بیٹریوں کی درآمد ریکارڈ 88 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو کسی ایک ماہ کی اب تک کی سب سے زیادہ مالیت ہے۔ صرف 2 سال قبل پاکستان ہر 80 سے 85 ڈالر مالیت کے سولر پینلز کی درآمد کے مقابلے میں تقریباً 1 ڈالر کی لیتھیم بیٹریاں درآمد کرتا تھا۔ جولائی میں یہ فرق کم ہو کر صرف 2.5 ڈالر رہ گیا۔</p>
<p>یہ دونوں رجحانات ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی رفتار میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ شمسی انقلاب ختم ہو رہا ہے۔ اسی طرح بیٹریوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سولر پینلز کا دور ختم ہو چکا ہے۔ درحقیقت زیادہ ممکنہ صورتِ حال یہ ہے کہ سولر اور اسٹوریج ایک ساتھ تیزی سے بڑھیں گے، کیونکہ بیٹریاں صارفین کو اپنے سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کی زیادہ قدر حاصل کرنے کی اجازت دیں گی۔</p>
<p>گرڈ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے یہ ایک زیادہ مشکل مسئلہ پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>سولر کا پرانا چیلنج واضح تھا۔ چھتوں پر بجلی کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی تھی اور نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت کو ریکارڈ کیا جا سکتا تھا۔ اس کا ردعمل بڑی حد تک ردعمل پر مبنی تھا۔ پاکستان نے کئی سال تقسیم شدہ شمسی توانائی کے اثرات پر بحث میں گزار دیے، جبکہ مارکیٹ اس سے کہیں آگے بڑھ چکی تھی۔</p>
<p>اسٹوریج ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ بجلی کے استعمال کے وقت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ سولر اور بیٹری رکھنے والا گھرانہ صرف دن کے وقت بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ اس پیداوار کو شام کے وقت تک منتقل بھی کر سکتا ہے، جب گرڈ کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور ٹیرف بھی عموماً زیادہ ہوتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ایسا ہونے کی صورت میں بجلی کی طلب کی مجموعی شکل بنیادی طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ عین اس وقت جب ریگولیٹری تبدیلیوں کے باعث نیٹ میٹرنگ کی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا امکان ہے، تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار کو اگلے مرحلے تک لے جانے والی ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اس مرتبہ منصوبہ بندی میں سستی کی گنجائش نہیں۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی سولر انقلاب کو دیر سے سمجھنے کی قیمت ادا کر چکا ہے۔ اسٹوریج انقلاب کو سمجھنے میں اسی طرح کی تاخیر موجودہ بجلی کے نظام اور اس نظام کے درمیان ایک اور عدم مطابقت پیدا کر سکتی ہے جو صارفین درحقیقت چاہتے ہیں۔</p>
<p>اب کام تقسیم شدہ توانائی کو روکنا نہیں بلکہ اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ گرڈ میں سرمایہ کاری، ٹیرف کا ڈیزائن، بجلی کی طلب کی پیش گوئی، نیٹ ورک چارجز، یوٹیلیٹیز کی مالی صورتحال اور بجلی کے نظام میں طلب و رسد کا توازن، سب کا جائزہ ایسے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے لینا ہوگا جس میں صارفین تیزی سے اپنی بجلی خود پیدا، ذخیرہ اور منظم کر رہے ہوں گے۔</p>
<p>سولر انقلاب نے ایک مرتبہ نظام کو حیران کر دیا۔ پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ اسٹوریج انقلاب بھی اسے اسی طرح حیران کر دے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289918</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 09:54:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/13095212db401df.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/13095212db401df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
