<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 00:56:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 00:56:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اردوان کی نظریں علاقائی دفاعی معاہدے کی توسیع پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مزید ممالک گزشتہ ہفتے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہوں گے، جس کا مقصد تنازعات سے دوچار خطے میں استحکام لانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر جمعہ کو دستخط کیے گئے تھے، ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ امریکا اور ایران کی جنگ کے اثرات سے دوچار ہے، جس نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک صدر نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس حوالے سے ہمارا وژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں وسعت آئے اور شاید ایک دن ایسے موزوں حالات پیدا ہوجائیں کہ خطے کے تمام ممالک اس کے سائے تلے جمع ہوسکیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ہفتے کو کہا تھا کہ ترکیہ کو توقع ہے کہ مصر ’’اگلے مرحلے میں‘‘ اس معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔ انہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کو بتایا تھا کہ اس راہ میں صرف ’’چند تکنیکی امور‘‘ حائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر نے تاحال اس معاہدے یا فیدان کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فیدان جمعرات اور جمعہ کو مصر کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاہرہ کے انقرہ کے ساتھ فوجی تعاون کے مضبوط روابط ہیں، تاہم اس نے تاحال ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ نئے سکیورٹی اتحاد میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اتحاد میں نیٹو طرز کی شق شامل ہے جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ ماہ سے جاری امریکا، ایران جنگ نے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو یکسر بدل دیا ہے اور امریکی فوجی برتری پر مبنی کئی دہائیوں پر محیط روایتی سوچ پر نظرثانی پر مجبور کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ’’نئے حالات‘‘ کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے، جہاں علاقائی ممالک اپنی سکیورٹی اور استحکام کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’علاقائی مسائل علاقائی فریقوں کو ہی حل کرنے چاہئیں اور اس اقدام کے ذریعے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اس مقصد کے حصول کی جانب پہلا قدم اٹھا چکے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سعودی ملکیت کے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’علاقائی مسائل کا حل بیرونی طور پر مسلط کیے گئے فارمولوں سے ہٹ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے حل صرف تباہی لاتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ تین بڑے امریکی اتحادیوں کو ایک ایسے متبادل سکیورٹی ڈھانچے میں یکجا کرتا ہے جو اسرائیل کی بالادستی کو مسترد کرتا ہے۔ اس کا مقصد سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے، جبکہ ’’دفاعی صنعتوں میں مشترکہ منصوبے تیار کرنے‘‘ کی راہ بھی ہموار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب کے ترکیہ کے ساتھ تعلقات مزید قریبی ہوئے ہیں، حالانکہ اس سے قبل دونوں ممالک کے روابط کشیدہ رہے تھے۔ اردوان نے کہا کہ انقرہ اور ریاض ’’دونوں ممالک کے تعلقات کو کہیں زیادہ بلند سطح پر لے جانے کے لیے اقدامات کریں گے‘‘، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مزید ممالک گزشتہ ہفتے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہوں گے، جس کا مقصد تنازعات سے دوچار خطے میں استحکام لانا ہے۔</strong></p>
<p>مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر جمعہ کو دستخط کیے گئے تھے، ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ امریکا اور ایران کی جنگ کے اثرات سے دوچار ہے، جس نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ترک صدر نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس حوالے سے ہمارا وژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں وسعت آئے اور شاید ایک دن ایسے موزوں حالات پیدا ہوجائیں کہ خطے کے تمام ممالک اس کے سائے تلے جمع ہوسکیں۔‘‘</p>
<p>ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ہفتے کو کہا تھا کہ ترکیہ کو توقع ہے کہ مصر ’’اگلے مرحلے میں‘‘ اس معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔ انہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کو بتایا تھا کہ اس راہ میں صرف ’’چند تکنیکی امور‘‘ حائل ہیں۔</p>
<p>مصر نے تاحال اس معاہدے یا فیدان کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فیدان جمعرات اور جمعہ کو مصر کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>قاہرہ کے انقرہ کے ساتھ فوجی تعاون کے مضبوط روابط ہیں، تاہم اس نے تاحال ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ نئے سکیورٹی اتحاد میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اتحاد میں نیٹو طرز کی شق شامل ہے جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>پانچ ماہ سے جاری امریکا، ایران جنگ نے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو یکسر بدل دیا ہے اور امریکی فوجی برتری پر مبنی کئی دہائیوں پر محیط روایتی سوچ پر نظرثانی پر مجبور کردیا ہے۔</p>
<p>اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ’’نئے حالات‘‘ کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے، جہاں علاقائی ممالک اپنی سکیورٹی اور استحکام کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’علاقائی مسائل علاقائی فریقوں کو ہی حل کرنے چاہئیں اور اس اقدام کے ذریعے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اس مقصد کے حصول کی جانب پہلا قدم اٹھا چکے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے سعودی ملکیت کے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’علاقائی مسائل کا حل بیرونی طور پر مسلط کیے گئے فارمولوں سے ہٹ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے حل صرف تباہی لاتے ہیں۔‘‘</p>
<p>اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ تین بڑے امریکی اتحادیوں کو ایک ایسے متبادل سکیورٹی ڈھانچے میں یکجا کرتا ہے جو اسرائیل کی بالادستی کو مسترد کرتا ہے۔ اس کا مقصد سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے، جبکہ ’’دفاعی صنعتوں میں مشترکہ منصوبے تیار کرنے‘‘ کی راہ بھی ہموار کرنا ہے۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب کے ترکیہ کے ساتھ تعلقات مزید قریبی ہوئے ہیں، حالانکہ اس سے قبل دونوں ممالک کے روابط کشیدہ رہے تھے۔ اردوان نے کہا کہ انقرہ اور ریاض ’’دونوں ممالک کے تعلقات کو کہیں زیادہ بلند سطح پر لے جانے کے لیے اقدامات کریں گے‘‘، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289909</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 00:02:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/12235354e27a6a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/12235354e27a6a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
