<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 19:53:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 19:53:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران، امریکا جنگ بندی میں توسیع پر مذاکرات نہیں کر رہے، ایرانی عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی ذرائع نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، کیونکہ تہران کے نقطۂ نظر سے معاہدے کے نفاذ کی کوئی تاریخ مقرر ہی نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس میں توسیع کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن نے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں ’’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو کہا تھا کہ معاہدہ ’’ختم‘‘ ہوچکا ہے، جبکہ ایک ہفتے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے اسے ’’معطل‘‘ قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، ’’جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کیونکہ ایران کے نقطۂ نظر سے ایسا کوئی عرصہ شروع ہی نہیں ہوا جس میں توسیع کی جاسکے۔ امریکا نے عبوری معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹے بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد اس سے دستبردار ہوگیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں 60 روزہ مدت سے مراد ایک قابلِ توسیع مدت تھی، جس کے دوران ایران اور امریکا کو تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور ایران پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جنگ بندی کے ساتھ متعدد شرائط پوری کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا تھا، جن میں لبنان میں جنگ بندی، خلیج میں آزادانہ آمدورفت اور ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ دینا شامل تھا۔ ان شرائط کو مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخلے کے لیے ضروری سمجھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ذریعے نے مزید کہا، ’’ثالثوں کے ذریعے زیرِ بحث معاملات میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا عبوری معاہدے میں دوبارہ شامل ہو اور اس کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے ایک مدت کا تعین کرے۔ اس معاملے پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی ذرائع نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، کیونکہ تہران کے نقطۂ نظر سے معاہدے کے نفاذ کی کوئی تاریخ مقرر ہی نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس میں توسیع کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن نے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا ہے۔</p>
<p>معاہدے میں ’’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو کہا تھا کہ معاہدہ ’’ختم‘‘ ہوچکا ہے، جبکہ ایک ہفتے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے اسے ’’معطل‘‘ قرار دے دیا تھا۔</p>
<p>ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، ’’جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کیونکہ ایران کے نقطۂ نظر سے ایسا کوئی عرصہ شروع ہی نہیں ہوا جس میں توسیع کی جاسکے۔ امریکا نے عبوری معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹے بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد اس سے دستبردار ہوگیا۔‘‘</p>
<p>معاہدے میں 60 روزہ مدت سے مراد ایک قابلِ توسیع مدت تھی، جس کے دوران ایران اور امریکا کو تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور ایران پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل جنگ بندی کے ساتھ متعدد شرائط پوری کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا تھا، جن میں لبنان میں جنگ بندی، خلیج میں آزادانہ آمدورفت اور ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ دینا شامل تھا۔ ان شرائط کو مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخلے کے لیے ضروری سمجھا گیا تھا۔</p>
<p>ایرانی ذریعے نے مزید کہا، ’’ثالثوں کے ذریعے زیرِ بحث معاملات میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا عبوری معاہدے میں دوبارہ شامل ہو اور اس کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے ایک مدت کا تعین کرے۔ اس معاملے پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289900</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 18:57:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/12184952e3e9b3b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/12184952e3e9b3b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
