<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 19:00:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 19:00:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں گورننس کا ڈھانچہ—II</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289882/</link>
      <description>&lt;h3&gt;&lt;a id="دیگر-ممالک-کی-صورتِ-حال" href="#دیگر-ممالک-کی-صورتِ-حال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دیگر ممالک کی صورتِ حال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مزید آگے بڑھنے سے پہلے مختلف ہم پلہ ممالک میں انتظامی اکائیوں کا جائزہ لینا مفید ہوگا:&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/12065344fd66c07.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/12065344fd66c07.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام دیگر ممالک مسلسل تبدیلیوں کے ذریعے اپنے نظامِ حکمرانی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں 1969 سے انتظامی ڈھانچہ تقریباً جوں کا توں چلا آرہا ہے۔1969 میں پاکستان کی آبادی 5 کروڑ 85 لاکھ تھی، جبکہ 2026 میں اس کے تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں جاری انتظامی ازسرِنو تشکیل اس حوالے سے ایک قابلِ مطالعہ مثال ہے مگر  پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل پر کسی بھی بحث کو مفاد پرست عناصر کی جانب سے ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی اشرافیہ کا یہ طرزِ عمل مجرمانہ ہے۔ بھارت اس بات کی بہترین مثال اور عملی تجربہ پیش کرتا ہے کہ یہ کام کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ جب برطانوی ہندوستان سے رخصت ہوئے تو ہندوستان میں متعلقہ صوبے یہ تھے:&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1206534471f8efb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1206534471f8efb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں انتظامی ڈھانچے کی پوری تشکیل لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ نسبتاً چھوٹی ریاست آسام کو پانچ ریاستوں میں تقسیم کیا گیا جبکہ اتر پردیش کو صرف دو حصوں میں بانٹا کیا گیا ہے۔ موجودہ اتر پردیش کی آبادی اب بھی تقریباً 25 کروڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آگرہ اور اودھ پر مشتمل علاقوں کی زبان اور ثقافت ایک جیسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یکم مئی 1960 کو دو لسانی ریاست بمبئی کو لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر الگ الگ ریاستوں گجرات اور مہاراشٹر میں تقسیم کردیا گیا۔ یہ فیصلہ مراٹھی اور گجراتی زبان بولنے والی برادریوں کی جانب سے ہونے والے شدید عوامی احتجاج کے بعد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی معاملہ تمل ناڈو میں بھی رہا۔ اس کے برعکس اتر پردیش (یوپی)، جو آگرہ اور اودھ پر مشتمل سابقہ یونائیٹڈ پروونسز کا نیا نام ہے، اب بھی ایک ہی انتظامی اکائی ہے، کیونکہ یہاں زبان اور ثقافت یکساں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اتر پردیش کے معاملے میں صرف اتر آنچل (جسے اب اتراکھنڈ کہا جاتا ہے) کو اس سے الگ کرکے نئی ریاست بنایا گیا، جو ہمالیہ کے پہاڑی علاقے کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے پر مشتمل ہے۔ یہ تقسیم انتظامی وجوہات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ مگر اتر پردیش آج بھی بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تقسیم-کی-بنیاد" href="#تقسیم-کی-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تقسیم کی بنیاد&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں دنیا بھر میں انتظامی اکائیوں کی تقسیم بالعموم تاریخ، ثقافت، زبان اور جغرافیہ سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر کی جاتی رہی ہے۔ آج بھی یہ بنیادی عوامل میں شامل ہیں۔تاہم اگرچہ ان اکائیوں میں ایسی مماثلتیں موجود ہوں، لیکن انتظامی وجوہات کی بنا پر آبادی اور رقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی تقسیم کی جاتی ہے۔ پنجاب اور بلوچستان کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر حالیہ عرصے میں بھارت میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔ اب انتظامی اکائیاں یکساں معاشی استعداد کی بنیاد پر بھی تشکیل دی جارہی ہیں۔ اسی نوعیت کے عوامل کے تحت مہاراشٹر گجرات سے الگ ہوا۔ آج کل ’’معاشی کلسٹرز‘‘ بھی الگ انتظامی اکائیوں کے طور پر سامنے آرہے ہیں، کیونکہ کسی علاقے کے لوگ اپنے معاشی فوائد اور مراعات دوسرے علاقوں کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی ریاست کرناٹک اور دیگر جنوبی ریاستوں میں وفاقی حکومت کے خلاف پائی جانے والی نرم نوعیت کی بے چینی کی ایک بنیاد معاشی مفادات کا یہی معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اگر معاشی کلسٹرز کو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ تشکیل دیا جائے تو اس کے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثمرات سامنے آسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، سیالکوٹ اور نارووال پر مشتمل معاشی کلسٹر اب صوبے کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بالکل مختلف معاشی، سماجی اور سیاسی منظرنامہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان تاریخی بہاولپور ڈویژن کا حصہ ہیں اور ان میں بہت سی مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح سکھر، شکارپور، لاڑکانہ اور خیرپور بھی ایک اہم معاشی کلسٹر تشکیل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی بہت سی مشترک خصوصیات موجود ہیں، تاہم لورالائی اور ژوب کے درمیان ایسی کوئی خاص مماثلت نہیں پائی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تجاویز-اور-نتیجہ" href="#تجاویز-اور-نتیجہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تجاویز اور نتیجہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حل یہ ہے کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دیا جائے، جس کی سربراہی پاکستان کے کسی سابق چیف جسٹس کو سونپی جائے اور اس میں تمام متعلقہ فریقوں کو مساوی نمائندگی دی جائے۔ اس کمیشن کو پاکستان میں انتظامی اکائیوں کی ازسرِنو تشکیل کے حوالے سے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنی چاہیے۔ کمیشن کو مستقل بنیادوں پر کام کرنا چاہیے، تاکہ ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً انتظامی اکائیوں کی ازسرِنو تشکیل کی جاسکے۔ مصنف کی رائے میں جسٹس رانا بھگوان داس اس ذمہ داری کے لیے موزوں شخصیت تھے، تاہم وہ انتقال کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کمیشن (ایس آر سی) 1953 میں جسٹس فضل علی، کے۔ ایم۔ پنیکر اور ایچ۔ این۔ کنزرو کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے ریاستوں کی سرحدوں کی ازسرِنو تشکیل کی سفارش لسانی بنیادوں پر کی، جس کے نتیجے میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کا ایکٹ 1956 نافذ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں بھی دھر کمیشن (1948) نے لسانی بنیادوں پر ریاستوں کے قیام کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لیا تھا اور زبان کو ریاستوں کی تشکیل کے بنیادی معیار کے طور پر اختیار کرنے کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے وی پی کمیٹی (1948)، جس میں جواہر لال نہرو، ولبھ بھائی پٹیل اور پٹابھی سیتارامیا شامل تھے، نے ریاستوں کی ازسرِنو تشکیل کے لیے زبان کو بنیاد بنانے کی تجویز مسترد کردی تھی۔ تاہم پانچ سال کے اندر اس مؤقف میں تبدیلی آئی اور سب نے 1953 کے ریاستوں کی تنظیمِ نو کمیشن (ایس آر سی) کی سفارشات کو قبول کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے بھی اسی نوعیت کے اقدام کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ سیاسی و معاشی نوعیت کا ہے۔ اگر موجودہ نظام اسی طرح جاری رہا تو عوام کو خدمات کی فراہمی کا نظام مزید خراب ہوجائے گا۔ اس سلسلے کے آئندہ مضمون میں اس معاملے کے مالیاتی پہلو کی وضاحت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(جاری ہے)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h3><a id="دیگر-ممالک-کی-صورتِ-حال" href="#دیگر-ممالک-کی-صورتِ-حال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دیگر ممالک کی صورتِ حال</h3>
<p>مزید آگے بڑھنے سے پہلے مختلف ہم پلہ ممالک میں انتظامی اکائیوں کا جائزہ لینا مفید ہوگا:</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/12065344fd66c07.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/12065344fd66c07.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ تمام دیگر ممالک مسلسل تبدیلیوں کے ذریعے اپنے نظامِ حکمرانی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں 1969 سے انتظامی ڈھانچہ تقریباً جوں کا توں چلا آرہا ہے۔1969 میں پاکستان کی آبادی 5 کروڑ 85 لاکھ تھی، جبکہ 2026 میں اس کے تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>بھارت میں جاری انتظامی ازسرِنو تشکیل اس حوالے سے ایک قابلِ مطالعہ مثال ہے مگر  پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل پر کسی بھی بحث کو مفاد پرست عناصر کی جانب سے ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی اشرافیہ کا یہ طرزِ عمل مجرمانہ ہے۔ بھارت اس بات کی بہترین مثال اور عملی تجربہ پیش کرتا ہے کہ یہ کام کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ جب برطانوی ہندوستان سے رخصت ہوئے تو ہندوستان میں متعلقہ صوبے یہ تھے:</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1206534471f8efb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1206534471f8efb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>بھارت میں انتظامی ڈھانچے کی پوری تشکیل لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ نسبتاً چھوٹی ریاست آسام کو پانچ ریاستوں میں تقسیم کیا گیا جبکہ اتر پردیش کو صرف دو حصوں میں بانٹا کیا گیا ہے۔ موجودہ اتر پردیش کی آبادی اب بھی تقریباً 25 کروڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آگرہ اور اودھ پر مشتمل علاقوں کی زبان اور ثقافت ایک جیسی ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یکم مئی 1960 کو دو لسانی ریاست بمبئی کو لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر الگ الگ ریاستوں گجرات اور مہاراشٹر میں تقسیم کردیا گیا۔ یہ فیصلہ مراٹھی اور گجراتی زبان بولنے والی برادریوں کی جانب سے ہونے والے شدید عوامی احتجاج کے بعد کیا گیا تھا۔</p>
<p>یہی معاملہ تمل ناڈو میں بھی رہا۔ اس کے برعکس اتر پردیش (یوپی)، جو آگرہ اور اودھ پر مشتمل سابقہ یونائیٹڈ پروونسز کا نیا نام ہے، اب بھی ایک ہی انتظامی اکائی ہے، کیونکہ یہاں زبان اور ثقافت یکساں ہیں۔</p>
<p>تاہم اتر پردیش کے معاملے میں صرف اتر آنچل (جسے اب اتراکھنڈ کہا جاتا ہے) کو اس سے الگ کرکے نئی ریاست بنایا گیا، جو ہمالیہ کے پہاڑی علاقے کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے پر مشتمل ہے۔ یہ تقسیم انتظامی وجوہات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ مگر اتر پردیش آج بھی بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔</p>
<h3><a id="تقسیم-کی-بنیاد" href="#تقسیم-کی-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تقسیم کی بنیاد</h3>
<p>ماضی میں دنیا بھر میں انتظامی اکائیوں کی تقسیم بالعموم تاریخ، ثقافت، زبان اور جغرافیہ سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر کی جاتی رہی ہے۔ آج بھی یہ بنیادی عوامل میں شامل ہیں۔تاہم اگرچہ ان اکائیوں میں ایسی مماثلتیں موجود ہوں، لیکن انتظامی وجوہات کی بنا پر آبادی اور رقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی تقسیم کی جاتی ہے۔ پنجاب اور بلوچستان کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔</p>
<p>مگر حالیہ عرصے میں بھارت میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔ اب انتظامی اکائیاں یکساں معاشی استعداد کی بنیاد پر بھی تشکیل دی جارہی ہیں۔ اسی نوعیت کے عوامل کے تحت مہاراشٹر گجرات سے الگ ہوا۔ آج کل ’’معاشی کلسٹرز‘‘ بھی الگ انتظامی اکائیوں کے طور پر سامنے آرہے ہیں، کیونکہ کسی علاقے کے لوگ اپنے معاشی فوائد اور مراعات دوسرے علاقوں کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی ریاست کرناٹک اور دیگر جنوبی ریاستوں میں وفاقی حکومت کے خلاف پائی جانے والی نرم نوعیت کی بے چینی کی ایک بنیاد معاشی مفادات کا یہی معاملہ ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اگر معاشی کلسٹرز کو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ تشکیل دیا جائے تو اس کے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثمرات سامنے آسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، سیالکوٹ اور نارووال پر مشتمل معاشی کلسٹر اب صوبے کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بالکل مختلف معاشی، سماجی اور سیاسی منظرنامہ رکھتا ہے۔</p>
<p>بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان تاریخی بہاولپور ڈویژن کا حصہ ہیں اور ان میں بہت سی مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح سکھر، شکارپور، لاڑکانہ اور خیرپور بھی ایک اہم معاشی کلسٹر تشکیل دیتے ہیں۔</p>
<p>بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی بہت سی مشترک خصوصیات موجود ہیں، تاہم لورالائی اور ژوب کے درمیان ایسی کوئی خاص مماثلت نہیں پائی جاتی۔</p>
<h3><a id="تجاویز-اور-نتیجہ" href="#تجاویز-اور-نتیجہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تجاویز اور نتیجہ</h3>
<p>حل یہ ہے کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دیا جائے، جس کی سربراہی پاکستان کے کسی سابق چیف جسٹس کو سونپی جائے اور اس میں تمام متعلقہ فریقوں کو مساوی نمائندگی دی جائے۔ اس کمیشن کو پاکستان میں انتظامی اکائیوں کی ازسرِنو تشکیل کے حوالے سے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنی چاہیے۔ کمیشن کو مستقل بنیادوں پر کام کرنا چاہیے، تاکہ ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً انتظامی اکائیوں کی ازسرِنو تشکیل کی جاسکے۔ مصنف کی رائے میں جسٹس رانا بھگوان داس اس ذمہ داری کے لیے موزوں شخصیت تھے، تاہم وہ انتقال کرچکے ہیں۔</p>
<p>بھارت میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کمیشن (ایس آر سی) 1953 میں جسٹس فضل علی، کے۔ ایم۔ پنیکر اور ایچ۔ این۔ کنزرو کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے ریاستوں کی سرحدوں کی ازسرِنو تشکیل کی سفارش لسانی بنیادوں پر کی، جس کے نتیجے میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کا ایکٹ 1956 نافذ ہوا۔</p>
<p>یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں بھی دھر کمیشن (1948) نے لسانی بنیادوں پر ریاستوں کے قیام کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لیا تھا اور زبان کو ریاستوں کی تشکیل کے بنیادی معیار کے طور پر اختیار کرنے کی مخالفت کی تھی۔</p>
<p>جے وی پی کمیٹی (1948)، جس میں جواہر لال نہرو، ولبھ بھائی پٹیل اور پٹابھی سیتارامیا شامل تھے، نے ریاستوں کی ازسرِنو تشکیل کے لیے زبان کو بنیاد بنانے کی تجویز مسترد کردی تھی۔ تاہم پانچ سال کے اندر اس مؤقف میں تبدیلی آئی اور سب نے 1953 کے ریاستوں کی تنظیمِ نو کمیشن (ایس آر سی) کی سفارشات کو قبول کرلیا۔</p>
<p>پاکستان کے لیے بھی اسی نوعیت کے اقدام کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ سیاسی و معاشی نوعیت کا ہے۔ اگر موجودہ نظام اسی طرح جاری رہا تو عوام کو خدمات کی فراہمی کا نظام مزید خراب ہوجائے گا۔ اس سلسلے کے آئندہ مضمون میں اس معاملے کے مالیاتی پہلو کی وضاحت کی جائے گی۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289882</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 13:53:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید شبر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1213320132d1ad9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1213320132d1ad9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
