<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 10:51:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 10:51:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گزشتہ مالی سال وفاقی حکومت کے قرضوں میں 5.7 کھرب روپے کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289859/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ مالی سال (مالی سال26) کے دوران پاکستان کے وفاقی حکومت کے قرضوں کے مجموعی حجم میں 5.7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ملکی اور غیرملکی ذرائع سے بڑے پیمانے پر قرضوں کا حصول تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے مجموعی قرضوں، جن میں اندرونی اور بیرونی واجبات شامل ہیں، میں 7.4 فیصد یا 5.754 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے بعد وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے جون 2026 کے اختتام پر بڑھ کر 83.642 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو یکم جولائی 2025 کو مالی سال کے آغاز پر 77.888 کھرب روپے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ مالی خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی قرض گیری کی عکاسی کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی اور بیرونی دونوں ذرائع سے لیے گئے قرضوں نے مجموعی قرضوں میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم اندرونی قرضوں میں اضافہ نسبتاً کہیں زیادہ نمایاں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی قرضوں کا حجم 9 فیصد یا 4.969 کھرب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 59.94 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں بیرونی قرضوں میں 3 فیصد یا 471 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا حجم 24.2 کھرب روپے ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 13 کھرب روپے کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل کر لیا، تاہم یہ محصولات حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی رہیں، جس کے باعث حکومت کو مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری بیلنس) مسلسل تیسرے سال بھی سرپلس میں رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ مجموعی مالی خسارہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال (مالی سال 27) میں بھی مالیاتی استحکام کی پالیسی جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے تحت بنیادی سرپلس کا ہدف مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2 فیصد جبکہ مجموعی مالی خسارے کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے غیر یقینی ملکی اور عالمی معاشی ماحول میں محصولات بڑھانے اور اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایک بار پھر مالیاتی اصلاحات، بالخصوص ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور سرکاری اداروں (پی ایس ایز) کے نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بلند اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ مالی سال (مالی سال26) کے دوران پاکستان کے وفاقی حکومت کے قرضوں کے مجموعی حجم میں 5.7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ملکی اور غیرملکی ذرائع سے بڑے پیمانے پر قرضوں کا حصول تھا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے مجموعی قرضوں، جن میں اندرونی اور بیرونی واجبات شامل ہیں، میں 7.4 فیصد یا 5.754 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے بعد وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے جون 2026 کے اختتام پر بڑھ کر 83.642 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو یکم جولائی 2025 کو مالی سال کے آغاز پر 77.888 کھرب روپے تھے۔</p>
<p>یہ اضافہ مالی خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی قرض گیری کی عکاسی کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی اور بیرونی دونوں ذرائع سے لیے گئے قرضوں نے مجموعی قرضوں میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم اندرونی قرضوں میں اضافہ نسبتاً کہیں زیادہ نمایاں رہا۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی قرضوں کا حجم 9 فیصد یا 4.969 کھرب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 59.94 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں بیرونی قرضوں میں 3 فیصد یا 471 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا حجم 24.2 کھرب روپے ہو گیا۔</p>
<p>اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 13 کھرب روپے کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل کر لیا، تاہم یہ محصولات حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی رہیں، جس کے باعث حکومت کو مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری بیلنس) مسلسل تیسرے سال بھی سرپلس میں رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ مجموعی مالی خسارہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا۔</p>
<p>آئندہ مالی سال (مالی سال 27) میں بھی مالیاتی استحکام کی پالیسی جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے تحت بنیادی سرپلس کا ہدف مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2 فیصد جبکہ مجموعی مالی خسارے کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے غیر یقینی ملکی اور عالمی معاشی ماحول میں محصولات بڑھانے اور اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایک بار پھر مالیاتی اصلاحات، بالخصوص ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور سرکاری اداروں (پی ایس ایز) کے نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بلند اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289859</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 08:56:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/12085500126b0a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/12085500126b0a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
