<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:23:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 23:23:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران مذاکرات میں تعطل کے مقابلے میں کم طلب کے خدشات غالب آنے سے تیل کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289857/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے شکار کاروبار میں تقریباً مستحکم رہیں۔ اس سے قبل قیمتوں میں ایک ڈالر تک اضافہ ہوا تھا، تاہم 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب کے تخمینوں میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث قیمتوں میں تیزی برقرار نہ رہ سکی، جبکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر 12:10 بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق (1610 جی ایم ٹی) برینٹ فیوچرز 3 سینٹ کمی کے ساتھ 88.88 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 11 سینٹ یا 0.13 فیصد اضافے سے 83.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک نے اپنی ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ کم کرکے 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی توانائی ایجنسی آئی ای اے نے بھی 2026 کے لیے طلب کے اپنے تخمینے میں نمایاں کمی کردی ہے اور اب اسے رواں سال 16 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی توقع ہے۔ تاہم پیرس میں قائم ادارے نے رواں سال تیل کی رسد میں 43 لاکھ بیرل یومیہ کمی اور 2026 میں مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ کے خسارے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انرجی آؤٹ لک ایڈوائزرز کے مینیجنگ پارٹنر انس الحاجی نے ایک نوٹ میں کہا، ’’اہم بات یہ ہے کہ طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ طلب کے اعداد و شمار میں ذخائر میں ہونے والی تبدیلیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے یہ کسی بھی وقت حقیقی کھپت سے مختلف ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں توقعات کے برخلاف اضافہ ہوا اور جنوری 2023 کے بعد ہفتہ وار بنیاد پر سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ برآمدات میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ہفتے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر خام تیل کی غیر معمولی طور پر کم برآمدات اور درآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مشرق-وسطیٰ-میں-دو-بحری-جہازوں-پر-حملے" href="#مشرق-وسطیٰ-میں-دو-بحری-جہازوں-پر-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مشرق وسطیٰ میں دو بحری جہازوں پر حملے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ایک سینئر ذریعے کی جانب سے رائٹرز کو یہ بتائے جانے کے بعد تیل کی قیمتیں پہلے بڑھ گئی تھیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہورہی، کیونکہ تہران کے نقطۂ نظر سے معاہدے کے آغاز کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس میں توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے حامی یمن کے حوثیوں نے منگل کو آبنائے ہرمز اور باب المندب آبنائے میں بحری جہازوں پر الگ الگ حملوں کی اطلاع دی۔ یہ دونوں آبنائے نہر سویز کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی برآمد کے لیے انتہائی اہم بحری راستے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم ہوکر ایک ہفتے کی کم ترین سطح 8 رہ گئی۔ جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے شکار کاروبار میں تقریباً مستحکم رہیں۔ اس سے قبل قیمتوں میں ایک ڈالر تک اضافہ ہوا تھا، تاہم 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب کے تخمینوں میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث قیمتوں میں تیزی برقرار نہ رہ سکی، جبکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>دوپہر 12:10 بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق (1610 جی ایم ٹی) برینٹ فیوچرز 3 سینٹ کمی کے ساتھ 88.88 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 11 سینٹ یا 0.13 فیصد اضافے سے 83.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔</p>
<p>اوپیک نے اپنی ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ کم کرکے 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ کردیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب عالمی توانائی ایجنسی آئی ای اے نے بھی 2026 کے لیے طلب کے اپنے تخمینے میں نمایاں کمی کردی ہے اور اب اسے رواں سال 16 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی توقع ہے۔ تاہم پیرس میں قائم ادارے نے رواں سال تیل کی رسد میں 43 لاکھ بیرل یومیہ کمی اور 2026 میں مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ کے خسارے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>انرجی آؤٹ لک ایڈوائزرز کے مینیجنگ پارٹنر انس الحاجی نے ایک نوٹ میں کہا، ’’اہم بات یہ ہے کہ طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ طلب کے اعداد و شمار میں ذخائر میں ہونے والی تبدیلیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے یہ کسی بھی وقت حقیقی کھپت سے مختلف ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں توقعات کے برخلاف اضافہ ہوا اور جنوری 2023 کے بعد ہفتہ وار بنیاد پر سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ برآمدات میں کمی تھی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ہفتے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر خام تیل کی غیر معمولی طور پر کم برآمدات اور درآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث ہوا۔</p>
<h3><a id="مشرق-وسطیٰ-میں-دو-بحری-جہازوں-پر-حملے" href="#مشرق-وسطیٰ-میں-دو-بحری-جہازوں-پر-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مشرق وسطیٰ میں دو بحری جہازوں پر حملے</h3>
<p>ایران کے ایک سینئر ذریعے کی جانب سے رائٹرز کو یہ بتائے جانے کے بعد تیل کی قیمتیں پہلے بڑھ گئی تھیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہورہی، کیونکہ تہران کے نقطۂ نظر سے معاہدے کے آغاز کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس میں توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے حامی یمن کے حوثیوں نے منگل کو آبنائے ہرمز اور باب المندب آبنائے میں بحری جہازوں پر الگ الگ حملوں کی اطلاع دی۔ یہ دونوں آبنائے نہر سویز کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی برآمد کے لیے انتہائی اہم بحری راستے ہیں۔</p>
<p>بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم ہوکر ایک ہفتے کی کم ترین سطح 8 رہ گئی۔ جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289857</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 22:54:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/12083616ca63bb7.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/12083616ca63bb7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
