<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 22:51:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 22:51:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئر انڈیا کے کپتان کا چرس ٹیسٹ مثبت آگیا، بھارتی میڈیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی نیوز ٹی وی چینلز نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ ایئر انڈیا کے پھوکیت سے نئی دہلی جانے والی پرواز کے کپتان کا تصدیقی ڈرگ ٹیسٹ چرس کے استعمال کے حوالے سے مثبت آیا ہے۔ مذکورہ پرواز گزشتہ ہفتے اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز فوری طور پر ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔ ایئر انڈیا نے بھی تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ شہری ہوابازی نے منگل کو اس واقعے کے حوالے سے ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو کیمبل ولسن کو طلب کیا۔ اس واقعے میں ایئربس اے 320 نیو طیارہ شامل تھا۔ وزارت نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طلبی بھارتی حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت نے پہلے بتایا تھا کہ تھائی سیاحتی شہر پھوکیت سے آنے والی پرواز کو مشرقی بھارتی ریاست اڑیسہ کے اوپر سے گزرتے ہوئے ’’عارضی طور پر بلندی میں تبدیلی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;137 مسافروں اور عملے کے 8 ارکان کو لے جانے والا طیارہ بحفاظت نئی دہلی میں اتر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ شہری ہوابازی نے اتوار کو بتایا تھا کہ کپتان کے نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادوں کے حوالے سے کیے گئے ابتدائی ٹیسٹ میں ایسا نتیجہ سامنے آیا، جس کی تصدیق کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر انڈیا نے کہا تھا کہ اسے ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ایئر انڈیا کی اکثریتی ملکیت ٹاٹا گروپ کے پاس ہے، جبکہ سنگاپور ایئرلائنز کے پاس کمپنی کے تقریباً 25 فیصد حصص ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی نیوز ٹی وی چینلز نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ ایئر انڈیا کے پھوکیت سے نئی دہلی جانے والی پرواز کے کپتان کا تصدیقی ڈرگ ٹیسٹ چرس کے استعمال کے حوالے سے مثبت آیا ہے۔ مذکورہ پرواز گزشتہ ہفتے اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے تھے۔</strong></p>
<p>رائٹرز فوری طور پر ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔ ایئر انڈیا نے بھی تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<p>بھارت کی وزارتِ شہری ہوابازی نے منگل کو اس واقعے کے حوالے سے ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو کیمبل ولسن کو طلب کیا۔ اس واقعے میں ایئربس اے 320 نیو طیارہ شامل تھا۔ وزارت نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>یہ طلبی بھارتی حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>بھارتی حکومت نے پہلے بتایا تھا کہ تھائی سیاحتی شہر پھوکیت سے آنے والی پرواز کو مشرقی بھارتی ریاست اڑیسہ کے اوپر سے گزرتے ہوئے ’’عارضی طور پر بلندی میں تبدیلی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>137 مسافروں اور عملے کے 8 ارکان کو لے جانے والا طیارہ بحفاظت نئی دہلی میں اتر گیا تھا۔</p>
<p>وزارتِ شہری ہوابازی نے اتوار کو بتایا تھا کہ کپتان کے نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادوں کے حوالے سے کیے گئے ابتدائی ٹیسٹ میں ایسا نتیجہ سامنے آیا، جس کی تصدیق کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ ضروری تھا۔</p>
<p>ایئر انڈیا نے کہا تھا کہ اسے ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ایئر انڈیا کی اکثریتی ملکیت ٹاٹا گروپ کے پاس ہے، جبکہ سنگاپور ایئرلائنز کے پاس کمپنی کے تقریباً 25 فیصد حصص ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289853</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 20:49:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/11202729d4f0aeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/11202729d4f0aeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
