<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 17:41:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 17:41:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی مالیاتی نظام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289833/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ بینک نے حال ہی میں ’’پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کے استحکام‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر بحث جاری ہے۔ ایک مخصوص رائے یہ سامنے آئی ہے کہ زیادہ مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے پاکستان میں صوبوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ضروری ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی رپورٹ میں 2010 کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے، تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوسکا، بالخصوص 2010 ہی میں منظور کی گئی 18ویں آئینی ترمیم پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی ناکامی 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی مکمل منتقلی نہ ہونا ہے، جو دو مراحل میں ہونا تھی۔ پہلے مرحلے میں وفاقی قانون ساز فہرست کے تحت متعدد امور صوبائی حکومتوں کو منتقل کیے جانے تھے، تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے مرحلے میں آئین کے آرٹیکل 32 اور 140 اے کے تحت صوبائی حکومتوں سے مقامی حکومتوں کو بھی اختیارات کی منتقلی کا ایک مزید عمل ہونا چاہیے تھا، جس میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کو مناسب نمائندگی دی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی جانب سے نشاندہی کی گئی دوسری ناکامی یہ ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں سے صوبائی حکومتوں کو 57.5 فیصد کا بہت بڑا حصہ دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں دو ’’منفی‘‘ ترغیبی اثرات پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول : اتنی بڑی منتقلی کے باعث صوبائی حکومتوں کی اپنی ممکنہ طور پر بڑے حجم کی آمدنی کے ذرائع کو ترقی دینے کی ترغیب کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم : وفاقی حکومت کے لیے وسائل متحرک کرنے کی سیاسی قیمت برداشت کرنے کی آمادگی کم ہوگئی، کیونکہ اضافی حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی رپورٹ میں اجاگر کی گئی ایک اور خامی یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 کے باوجود مقامی حکومتیں بدستور عارضی نوعیت کی حامل، مالی طور پر محتاج، ادارہ جاتی اعتبار سے غیر مستحکم اور مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی صوابدید کی تابع ہیں۔ صوبائی مالیاتی کمیشن شاذونادر ہی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں سے مقامی حکومتوں کو رقوم کی منتقلی بھی انتہائی غیر مستقل اور عارضی نوعیت کی ہے۔ یوں عملاً 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت تصور کیا گیا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل صوبائی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی رپورٹ ایک ایسے مسئلے کی بھی نشاندہی کرتی ہے جس پر ماضی میں زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ ٹیکس نظام میں تقسیم اور بکھراؤ کا مسئلہ ہے، جو اس حقیقت کا نتیجہ ہے کہ اشیا پر سیلز ٹیکس وفاقی مالیاتی اختیارات میں شامل ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس 2015 میں صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلز ٹیکس کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیوں پر اس کا اثر بلا تفریق اور غیر جانبدارانہ رہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے درست نظام کے لیے ضروری ہے کہ پیدا کنندہ کی جانب سے کی جانے والی فروخت کی کل مالیت پر لگنے والے سیلز ٹیکس میں سے صنعتی اور سروسز (خدمات) دونوں کے ان پٹ اخراجات (لاگت) کو منہا (ایڈجسٹ) کیا جائے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کی آخری بڑی کمی یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا افقی فارمولا تمام صوبوں میں مالی مساوات کو یقینی نہیں بناتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ غربت، پسماندگی اور کثافتِ آبادی کے الٹ تناسب (یعنی کم گنجان آباد لیکن بڑے رقبے والے علاقوں) کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کل آبادی کے تناسب کو دی جانے والی ترجیح اور وزن میں نمایاں کمی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی رپورٹ نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق آئین کی مختلف شقوں کا مناسب طور پر لحاظ رکھا ہے۔ تاہم رپورٹ پاکستان میں حکومتوں کے درمیان ہونے والے مالیاتی لین دین کی نوعیت اور حجم کو مکمل طور پر تسلیم کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3A) کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا، جس کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے ہر ایوارڈ میں صوبائی حکومتوں کا مجموعی حصہ سابقہ ایوارڈ میں دیے گئے حصے سے کم نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 2014-15 کے بعد قائم کیے گئے این ایف سی کمیشنز کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی پانچ سالہ مدت کے اختتام کا سال تھا۔ اس وقت گیارہواں  این ایف سی موجود ہے، تاہم بظاہر اس نے بھی زیادہ پیش رفت نہیں کی۔ یہ کمیشن اگست 2025 میں تشکیل دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وفاقی حکومت نے ’’بیک ڈور‘‘ طریقے اختیار کیے ہیں، جس کے نتیجے میں عملی طور پر خالص بنیادوں پر صوبائی حکومتوں کو منتقل ہونے والے وسائل میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بہترین عکاسی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے 2026-27 کے بجٹ میں شامل اقدامات اور اہداف سے ہوتی ہے، جو درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(i)چاروں صوبائی حکومتوں کےلیے 8,635 ارب روپے کی منتقلی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی قابلِ تقسیم محاصل کا حجم ایف بی آر کے انتظامی اخراجات کی مد میں ایک فیصد کٹوتی کے بعد تقریباً 15,264 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ صوبوں کا حصہ تقریباً 57.5 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(ii) صوبائی حکومتوں سے توقع ہے کہ وہ 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا نقد سرپلس پیدا کریں گی اور مجموعی بجٹ خسارے میں کمی لانے میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ یہ دراصل صوبوں کو منتقل کیے جانے والے وسائل کی جزوی واپسی کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(iii) پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو پٹرولیم لیوی میں تبدیل کرکے قابلِ تقسیم محاصل کے حجم کو کم کردیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں 2026-27 میں قابلِ تقسیم محاصل میں 1,677 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(iv) پہلی مرتبہ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وفاقی حکومت کو 1,035 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا عملی طور پر صوبائی حکومتوں کا حصہ 57.5 فیصد سے کہیں کم رہ جائے گا۔ مؤثر منتقلی 5,806 ارب روپے ہوگی، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل کا حقیقی حجم 16,941 ارب روپے بنتا ہے۔ یوں صوبائی حکومتوں کا مؤثر حصہ کم ہوکر صرف 34.3 فیصد رہ جائے گا، جبکہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت مقررہ حصہ 57.5 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عارضی نوعیت کی تبدیلیوں کے باعث وفاقی حکومت نے 2026-27 میں ترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ صوبائی حکومتیں اپنے ترقیاتی اخراجات کم کریں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان عارضی انتظامات کو ایک نئے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے باقاعدہ قانونی شکل دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مؤثر مقامی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے ورلڈ بینک کی تجویز قابلِ تحسین ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ صوبائی حکومتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ منتخب اور حقیقی نمائندہ مقامی حکومتوں کا قیام ہے۔ اس سے نہ صرف بنیادی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی بلکہ عوام کو خدمات کی فراہمی کے معاملے میں زیادہ جواب دہی بھی یقینی بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا پر عائد وفاقی سیلز ٹیکس کو خدمات پر عائد صوبائی سیلز ٹیکس کے ساتھ مربوط کرنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ ایک مؤثر ویلیو ایڈڈ ٹیکس نظام تشکیل دیا جاسکے۔ ہمارے بڑے ہمسایہ ملک میں یونین کی سطح پر خدمات پر سیلز ٹیکس جبکہ ریاستی سطح پر اشیا پر سیلز ٹیکس نافذ ہے۔ قومی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے قیام کے لیے طویل عرصے تک جاری رہنے والے اصلاحاتی عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ شاید ورلڈ بینک اس اصلاحاتی عمل کی تفصیلات حاصل کرکے پاکستان میں ان اقدامات کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ورلڈ بینک نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو منتقل کیے جانے والے مالی وسائل کی صوبوں کے درمیان افقی تقسیم کے فارمولے میں موجود خامیوں کی بجا طور پر نشاندہی کی ہے۔ واضح طور پر اس امر کی گنجائش موجود ہے کہ آبادی کے عنصر کا حصہ، جو 82 فیصد سے زائد ہے، کم کیا جائے اور بالخصوص کم آبادی والے وسیع رقبے کے علاقوں کے لیے زیادہ وزن مقرر کیا جائے، تاکہ خدمات کی فراہمی پر آنے والی اضافی لاگت کا ازالہ ہوسکے۔ اسی طرح صوبائی ٹیکسوں سے زیادہ آمدنی وصول کرنے کے لیے اصلاحات کو فروغ دینے کی غرض سے ترغیبی نظام بھی وضع کیا جاسکتا ہے۔ 1996 کے ایوارڈ میں بھی ایسی ترغیب شامل کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لیے یہ موزوں وقت ہے۔ اس حوالے سے بنیادی سمت آئین کے آرٹیکل 140A کے مطابق مؤثر اور باقاعدہ طور پر منتخب مقامی حکومتوں کا قیام ہونی چاہیے، نہ کہ صوبائی حکومتوں کی تعداد میں اضافہ۔ اس سے زیادہ جواب دہی یقینی بنے گی اور نتیجتاً ملک میں عوام کو خدمات کی فراہمی مزید مؤثر ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ بینک نے حال ہی میں ’’پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کے استحکام‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر بحث جاری ہے۔ ایک مخصوص رائے یہ سامنے آئی ہے کہ زیادہ مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے پاکستان میں صوبوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ضروری ہوگا۔</strong></p>
<p>ورلڈ بینک کی رپورٹ میں 2010 کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے، تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوسکا، بالخصوص 2010 ہی میں منظور کی گئی 18ویں آئینی ترمیم پر۔</p>
<p>پہلی ناکامی 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی مکمل منتقلی نہ ہونا ہے، جو دو مراحل میں ہونا تھی۔ پہلے مرحلے میں وفاقی قانون ساز فہرست کے تحت متعدد امور صوبائی حکومتوں کو منتقل کیے جانے تھے، تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔</p>
<p>دوسرے مرحلے میں آئین کے آرٹیکل 32 اور 140 اے کے تحت صوبائی حکومتوں سے مقامی حکومتوں کو بھی اختیارات کی منتقلی کا ایک مزید عمل ہونا چاہیے تھا، جس میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کو مناسب نمائندگی دی جاتی۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی جانب سے نشاندہی کی گئی دوسری ناکامی یہ ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں سے صوبائی حکومتوں کو 57.5 فیصد کا بہت بڑا حصہ دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں دو ’’منفی‘‘ ترغیبی اثرات پیدا ہوئے۔</p>
<p>اول : اتنی بڑی منتقلی کے باعث صوبائی حکومتوں کی اپنی ممکنہ طور پر بڑے حجم کی آمدنی کے ذرائع کو ترقی دینے کی ترغیب کم ہوگئی۔</p>
<p>دوم : وفاقی حکومت کے لیے وسائل متحرک کرنے کی سیاسی قیمت برداشت کرنے کی آمادگی کم ہوگئی، کیونکہ اضافی حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیا جاتا تھا۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی رپورٹ میں اجاگر کی گئی ایک اور خامی یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 کے باوجود مقامی حکومتیں بدستور عارضی نوعیت کی حامل، مالی طور پر محتاج، ادارہ جاتی اعتبار سے غیر مستحکم اور مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی صوابدید کی تابع ہیں۔ صوبائی مالیاتی کمیشن شاذونادر ہی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں سے مقامی حکومتوں کو رقوم کی منتقلی بھی انتہائی غیر مستقل اور عارضی نوعیت کی ہے۔ یوں عملاً 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت تصور کیا گیا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل صوبائی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکا۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی رپورٹ ایک ایسے مسئلے کی بھی نشاندہی کرتی ہے جس پر ماضی میں زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ ٹیکس نظام میں تقسیم اور بکھراؤ کا مسئلہ ہے، جو اس حقیقت کا نتیجہ ہے کہ اشیا پر سیلز ٹیکس وفاقی مالیاتی اختیارات میں شامل ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس 2015 میں صوبائی حکومتوں کو منتقل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>سیلز ٹیکس کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیوں پر اس کا اثر بلا تفریق اور غیر جانبدارانہ رہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے درست نظام کے لیے ضروری ہے کہ پیدا کنندہ کی جانب سے کی جانے والی فروخت کی کل مالیت پر لگنے والے سیلز ٹیکس میں سے صنعتی اور سروسز (خدمات) دونوں کے ان پٹ اخراجات (لاگت) کو منہا (ایڈجسٹ) کیا جائے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کی آخری بڑی کمی یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا افقی فارمولا تمام صوبوں میں مالی مساوات کو یقینی نہیں بناتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ غربت، پسماندگی اور کثافتِ آبادی کے الٹ تناسب (یعنی کم گنجان آباد لیکن بڑے رقبے والے علاقوں) کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کل آبادی کے تناسب کو دی جانے والی ترجیح اور وزن میں نمایاں کمی کی جائے۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی رپورٹ نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق آئین کی مختلف شقوں کا مناسب طور پر لحاظ رکھا ہے۔ تاہم رپورٹ پاکستان میں حکومتوں کے درمیان ہونے والے مالیاتی لین دین کی نوعیت اور حجم کو مکمل طور پر تسلیم کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔</p>
<p>رپورٹ میں آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3A) کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا، جس کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے ہر ایوارڈ میں صوبائی حکومتوں کا مجموعی حصہ سابقہ ایوارڈ میں دیے گئے حصے سے کم نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ 2014-15 کے بعد قائم کیے گئے این ایف سی کمیشنز کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی پانچ سالہ مدت کے اختتام کا سال تھا۔ اس وقت گیارہواں  این ایف سی موجود ہے، تاہم بظاہر اس نے بھی زیادہ پیش رفت نہیں کی۔ یہ کمیشن اگست 2025 میں تشکیل دیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم وفاقی حکومت نے ’’بیک ڈور‘‘ طریقے اختیار کیے ہیں، جس کے نتیجے میں عملی طور پر خالص بنیادوں پر صوبائی حکومتوں کو منتقل ہونے والے وسائل میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>اس کی بہترین عکاسی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے 2026-27 کے بجٹ میں شامل اقدامات اور اہداف سے ہوتی ہے، جو درج ذیل ہیں:</p>
<p>(i)چاروں صوبائی حکومتوں کےلیے 8,635 ارب روپے کی منتقلی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی قابلِ تقسیم محاصل کا حجم ایف بی آر کے انتظامی اخراجات کی مد میں ایک فیصد کٹوتی کے بعد تقریباً 15,264 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ صوبوں کا حصہ تقریباً 57.5 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>(ii) صوبائی حکومتوں سے توقع ہے کہ وہ 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا نقد سرپلس پیدا کریں گی اور مجموعی بجٹ خسارے میں کمی لانے میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ یہ دراصل صوبوں کو منتقل کیے جانے والے وسائل کی جزوی واپسی کے مترادف ہے۔</p>
<p>(iii) پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو پٹرولیم لیوی میں تبدیل کرکے قابلِ تقسیم محاصل کے حجم کو کم کردیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں 2026-27 میں قابلِ تقسیم محاصل میں 1,677 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی۔</p>
<p>(iv) پہلی مرتبہ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وفاقی حکومت کو 1,035 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کریں۔</p>
<p>لہٰذا عملی طور پر صوبائی حکومتوں کا حصہ 57.5 فیصد سے کہیں کم رہ جائے گا۔ مؤثر منتقلی 5,806 ارب روپے ہوگی، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل کا حقیقی حجم 16,941 ارب روپے بنتا ہے۔ یوں صوبائی حکومتوں کا مؤثر حصہ کم ہوکر صرف 34.3 فیصد رہ جائے گا، جبکہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت مقررہ حصہ 57.5 فیصد تھا۔</p>
<p>ان عارضی نوعیت کی تبدیلیوں کے باعث وفاقی حکومت نے 2026-27 میں ترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ صوبائی حکومتیں اپنے ترقیاتی اخراجات کم کریں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان عارضی انتظامات کو ایک نئے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے باقاعدہ قانونی شکل دی جائے۔</p>
<p>مؤثر مقامی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے ورلڈ بینک کی تجویز قابلِ تحسین ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ صوبائی حکومتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ منتخب اور حقیقی نمائندہ مقامی حکومتوں کا قیام ہے۔ اس سے نہ صرف بنیادی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی بلکہ عوام کو خدمات کی فراہمی کے معاملے میں زیادہ جواب دہی بھی یقینی بنے گی۔</p>
<p>اشیا پر عائد وفاقی سیلز ٹیکس کو خدمات پر عائد صوبائی سیلز ٹیکس کے ساتھ مربوط کرنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ ایک مؤثر ویلیو ایڈڈ ٹیکس نظام تشکیل دیا جاسکے۔ ہمارے بڑے ہمسایہ ملک میں یونین کی سطح پر خدمات پر سیلز ٹیکس جبکہ ریاستی سطح پر اشیا پر سیلز ٹیکس نافذ ہے۔ قومی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے قیام کے لیے طویل عرصے تک جاری رہنے والے اصلاحاتی عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ شاید ورلڈ بینک اس اصلاحاتی عمل کی تفصیلات حاصل کرکے پاکستان میں ان اقدامات کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لے سکتا ہے۔</p>
<p>آخر میں ورلڈ بینک نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو منتقل کیے جانے والے مالی وسائل کی صوبوں کے درمیان افقی تقسیم کے فارمولے میں موجود خامیوں کی بجا طور پر نشاندہی کی ہے۔ واضح طور پر اس امر کی گنجائش موجود ہے کہ آبادی کے عنصر کا حصہ، جو 82 فیصد سے زائد ہے، کم کیا جائے اور بالخصوص کم آبادی والے وسیع رقبے کے علاقوں کے لیے زیادہ وزن مقرر کیا جائے، تاکہ خدمات کی فراہمی پر آنے والی اضافی لاگت کا ازالہ ہوسکے۔ اسی طرح صوبائی ٹیکسوں سے زیادہ آمدنی وصول کرنے کے لیے اصلاحات کو فروغ دینے کی غرض سے ترغیبی نظام بھی وضع کیا جاسکتا ہے۔ 1996 کے ایوارڈ میں بھی ایسی ترغیب شامل کی گئی تھی۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لیے یہ موزوں وقت ہے۔ اس حوالے سے بنیادی سمت آئین کے آرٹیکل 140A کے مطابق مؤثر اور باقاعدہ طور پر منتخب مقامی حکومتوں کا قیام ہونی چاہیے، نہ کہ صوبائی حکومتوں کی تعداد میں اضافہ۔ اس سے زیادہ جواب دہی یقینی بنے گی اور نتیجتاً ملک میں عوام کو خدمات کی فراہمی مزید مؤثر ہوسکے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289833</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 13:44:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/111312064753a1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/111312064753a1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
