<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:24:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:24:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر کی مثبت رفتار برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئے مالی سال میں بھی کارکنوں کی ترسیلات زر میں مثبت رفتار برقرار ہے، حالانکہ حکومت نے بیرون ملک سے رقوم کی آمد کو رسمی شعبے کی جانب راغب کرنے کے لیے بینکوں کو پہلے دی جانے والی رعایت واپس لے لی ہے۔ ایران امریکا جنگ کے بعد اقتصادی سست روی کے باوجود خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آنے والی رقوم پر بھی کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آ رہا۔ جولائی میں خلیجی ممالک کا حصہ 55 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ 54 فیصد تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں آنے والی ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد زیادہ ہیں۔ اس رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے معمول کے موسمی اتار چڑھاؤ کو شامل کرنے کے بعد مالی سال 2027 میں ترسیلاتِ زر 43 سے 45 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ سکتی ہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، دونوں سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں سالانہ دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک کوئی رکاوٹ نظر نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1106054467cf98f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1106054467cf98f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور دلچسپ پہلو متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد ہے۔ جنوری تا جولائی 2026 کے دوران تقریباً 50 ہزار کارکن ورک ویزوں پر متحدہ عرب امارات گئے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 52 ہزار اور 2024 میں 64 ہزار تھی۔ یہ تعداد 2023 میں ریکارڈ کیے گئے 2 لاکھ 30 ہزار کارکنوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ کمی کا رجحان پہلے ہی شروع ہو چکا تھا اور اب یہ رجحان بظاہر کہیں کم سطح پر مستحکم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی عرب جانے والے کارکنوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے۔ دریں اثنا، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند کارکنوں کے بیرونِ ملک جانے کا رجحان بھی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک خلیج تعاون کونسل کے خطے، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور دبئی میں کسی ممکنہ اقتصادی سست روی کا ترسیلات زر پر کوئی نمایاں منفی اثر نظر نہیں آیا۔ مارکیٹ کے شرکا کا قیاس ہے کہ لوگ اب بھی وہ رقوم واپس بھیج رہے ہیں جو گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک سے باہر منتقل کی گئی تھیں، جبکہ بعض اشیا کی برآمدات بھی ٹیکس سے بچنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے راستے منتقل کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/110605445a63323.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/110605445a63323.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحانات کتنے پائیدار ہیں اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ تاہم فی الحال صورتحال اطمینان بخش دکھائی دیتی ہے۔ درمیانی مدت میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافے کو لاحق خطرات بڑھ رہے ہیں، لیکن قلیل مدت میں برآمدات کے جمود کے باوجود مالی سال 2027 میں بیرونی کھاتے کا استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سوال یہ ہے کہ بینکوں کے لیے رسمی شعبے کے ذریعے رقوم کی آمد کو راغب کرنے کے لیے مراعات فراہم کرنا کب تک پائیدار رہے گا۔ گزشتہ برسوں میں حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے بینکوں کو رعایت فراہم کرتی رہی تاکہ وہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کو رعایتیں دے سکیں، جبکہ اضافی رقوم کی آمد کو مارکیٹنگ مراعات کے ذریعے بھی سہارا دیا جاتا رہا۔ گزشتہ سال مارکیٹنگ کا جزو ختم کر دیا گیا اور جولائی سے رعایت بھی ختم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بینک اوسطاً فی ڈالر تقریباً 2 روپے کی مراعات فراہم کر رہے ہیں۔ موجودہ حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رقم سالانہ تقریباً 80 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مراعات کو برقرار رکھنے کے لیے بینک ہر ماہ 6 سے 7 ارب روپے کی ادائیگی کب تک برداشت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ معیشت کا ہوم ریمیٹنسز یعنی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار سوال طلب ہے۔ مالی سال 2005 میں ترسیلاتِ زر تقریباً 4 ارب ڈالر تھیں جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 42 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ اشیا کی برآمدات 15 ارب ڈالر سے بڑھ کر صرف 31 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ یعنی ترسیلاتِ زر میں 10 گنا اضافہ ہوا، جبکہ برآمدات بمشکل دوگنی ہوئیں۔ اسی عرصے کے دوران درآمدات 19 ارب ڈالر سے بڑھ کر 64 ارب ڈالر ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان ہمیشہ جاری رہنے کا امکان نہیں۔ جیسے جیسے درآمدات بڑھتی رہیں گی، ان کی مالی ضروریات پوری کرنے کا بوجھ غیر متناسب طور پر ترسیلاتِ زر پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ معیشت کو بیرونی کھاتے کے دیگر اجزا، بالخصوص اشیا اور خدمات کی برآمدات سے زیادہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ملک موجودہ معمولی رفتار سے بھی معاشی ترقی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو حکومت کو اقتصادی ماڈل پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ تاہم پاکستان میں بظاہر کوئی حکومت اتنی دور تک سوچتی دکھائی نہیں دیتی۔ حکومتیں ایک دن سے دوسرے دن تک معاملات چلانے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہیں اور توجہ زیادہ تر جاری مالی سال تک محدود رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال کم از کم ترسیلاتِ زر نے مالی سال 2027 کا آغاز مضبوط بنیادوں پر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئے مالی سال میں بھی کارکنوں کی ترسیلات زر میں مثبت رفتار برقرار ہے، حالانکہ حکومت نے بیرون ملک سے رقوم کی آمد کو رسمی شعبے کی جانب راغب کرنے کے لیے بینکوں کو پہلے دی جانے والی رعایت واپس لے لی ہے۔ ایران امریکا جنگ کے بعد اقتصادی سست روی کے باوجود خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آنے والی رقوم پر بھی کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آ رہا۔ جولائی میں خلیجی ممالک کا حصہ 55 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ 54 فیصد تھا۔</strong></p>
<p>ملک میں آنے والی ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد زیادہ ہیں۔ اس رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے معمول کے موسمی اتار چڑھاؤ کو شامل کرنے کے بعد مالی سال 2027 میں ترسیلاتِ زر 43 سے 45 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ سکتی ہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، دونوں سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں سالانہ دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک کوئی رکاوٹ نظر نہیں آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1106054467cf98f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/1106054467cf98f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور دلچسپ پہلو متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد ہے۔ جنوری تا جولائی 2026 کے دوران تقریباً 50 ہزار کارکن ورک ویزوں پر متحدہ عرب امارات گئے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 52 ہزار اور 2024 میں 64 ہزار تھی۔ یہ تعداد 2023 میں ریکارڈ کیے گئے 2 لاکھ 30 ہزار کارکنوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ کمی کا رجحان پہلے ہی شروع ہو چکا تھا اور اب یہ رجحان بظاہر کہیں کم سطح پر مستحکم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی عرب جانے والے کارکنوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے۔ دریں اثنا، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند کارکنوں کے بیرونِ ملک جانے کا رجحان بھی برقرار ہے۔</p>
<p>اب تک خلیج تعاون کونسل کے خطے، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور دبئی میں کسی ممکنہ اقتصادی سست روی کا ترسیلات زر پر کوئی نمایاں منفی اثر نظر نہیں آیا۔ مارکیٹ کے شرکا کا قیاس ہے کہ لوگ اب بھی وہ رقوم واپس بھیج رہے ہیں جو گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک سے باہر منتقل کی گئی تھیں، جبکہ بعض اشیا کی برآمدات بھی ٹیکس سے بچنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے راستے منتقل کی جا سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/110605445a63323.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/110605445a63323.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ رجحانات کتنے پائیدار ہیں اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ تاہم فی الحال صورتحال اطمینان بخش دکھائی دیتی ہے۔ درمیانی مدت میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافے کو لاحق خطرات بڑھ رہے ہیں، لیکن قلیل مدت میں برآمدات کے جمود کے باوجود مالی سال 2027 میں بیرونی کھاتے کا استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم سوال یہ ہے کہ بینکوں کے لیے رسمی شعبے کے ذریعے رقوم کی آمد کو راغب کرنے کے لیے مراعات فراہم کرنا کب تک پائیدار رہے گا۔ گزشتہ برسوں میں حکومت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے بینکوں کو رعایت فراہم کرتی رہی تاکہ وہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کو رعایتیں دے سکیں، جبکہ اضافی رقوم کی آمد کو مارکیٹنگ مراعات کے ذریعے بھی سہارا دیا جاتا رہا۔ گزشتہ سال مارکیٹنگ کا جزو ختم کر دیا گیا اور جولائی سے رعایت بھی ختم ہو گئی ہے۔</p>
<p>اب بینک اوسطاً فی ڈالر تقریباً 2 روپے کی مراعات فراہم کر رہے ہیں۔ موجودہ حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رقم سالانہ تقریباً 80 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مراعات کو برقرار رکھنے کے لیے بینک ہر ماہ 6 سے 7 ارب روپے کی ادائیگی کب تک برداشت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ معیشت کا ہوم ریمیٹنسز یعنی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار سوال طلب ہے۔ مالی سال 2005 میں ترسیلاتِ زر تقریباً 4 ارب ڈالر تھیں جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 42 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ اشیا کی برآمدات 15 ارب ڈالر سے بڑھ کر صرف 31 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ یعنی ترسیلاتِ زر میں 10 گنا اضافہ ہوا، جبکہ برآمدات بمشکل دوگنی ہوئیں۔ اسی عرصے کے دوران درآمدات 19 ارب ڈالر سے بڑھ کر 64 ارب ڈالر ہوگئیں۔</p>
<p>یہ رجحان ہمیشہ جاری رہنے کا امکان نہیں۔ جیسے جیسے درآمدات بڑھتی رہیں گی، ان کی مالی ضروریات پوری کرنے کا بوجھ غیر متناسب طور پر ترسیلاتِ زر پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ معیشت کو بیرونی کھاتے کے دیگر اجزا، بالخصوص اشیا اور خدمات کی برآمدات سے زیادہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اگر ملک موجودہ معمولی رفتار سے بھی معاشی ترقی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو حکومت کو اقتصادی ماڈل پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ تاہم پاکستان میں بظاہر کوئی حکومت اتنی دور تک سوچتی دکھائی نہیں دیتی۔ حکومتیں ایک دن سے دوسرے دن تک معاملات چلانے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہیں اور توجہ زیادہ تر جاری مالی سال تک محدود رہتی ہے۔</p>
<p>فی الحال کم از کم ترسیلاتِ زر نے مالی سال 2027 کا آغاز مضبوط بنیادوں پر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289818</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 10:12:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/11100900130de03.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/11100900130de03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
