<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:21:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:21:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زیر حراست تشدد کا خاتمہ ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289817/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے اپنی تشدد کے خلاف مہم کے تحت منعقدہ ایک گول میز اجلاس میں یہ مشاہدہ کہ 2022 کے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریونشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ کے نفاذ کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے، ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ قانون سازی، خواہ کتنی ہی ترقی پسند کیوں نہ ہو، اپنے طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ قانون کے نفاذ کو 4 سال گزرنے کے باوجود زیرِ حراست تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جو قانونی وعدوں اور انتظامی حقیقت کے درمیان ایک تشویشناک خلا کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد کی ممانعت آئینی تقاضا ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اتنی ہی اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ فوجداری انصاف کے نظام کے اعتبار اور ساکھ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی ریاست جو تشدد کی اجازت دیتی ہے، خواہ براہِ راست تشدد کے ذریعے یا اسے روکنے میں ناکامی کے ذریعے، اپنے اداروں پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ تحقیقاتی ادارے جو پیشہ ورانہ شواہد اکٹھے کرنے کے بجائے جبر پر انحصار کرتے ہیں، انصاف اور عدالتی عمل کی دیانت دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ناقابلِ اعتماد اعترافات سامنے آتے ہیں، جبکہ مناسب تفتیش اور مؤثر پولیسنگ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایچ آر سی پی کی مشاورت کے دوران اٹھائے گئے خدشات فوری توجہ کے مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ معروف انسانی حقوق کی کارکن حنا جیلانی نے بجا طور پر نشاندہی کی، تشدد صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں ہے۔ نفسیاتی اذیت، طویل عرصے تک تنہائی میں رکھنا، دھمکانا اور ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کی دیگر صورتیں بھی اسی قدر دیرپا نقصان پہنچا سکتی ہیں اور قانون کے نفاذ کے نظام میں انہیں بھی اسی حیثیت سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنا ہی سنگین مسئلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح عملی طریقہ کار کا فقدان ہے۔ تشدد کو جرم قرار دینے والا قانون اس وقت تک مؤثر طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا جب تک پولیس افسران، جیل حکام اور تفتیش کاروں کو ایسے عملی رہنما اصول فراہم نہ کیے جائیں جو تشدد اور بدسلوکی کی روک تھام، دستاویز بندی، تحقیقات اور ایسے واقعات پر ردعمل کے لیے ضروری ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کے دوران جواب دہی کے زیادہ بنیادی مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا۔ جہاں سزا ملنے کا امکان بہت کم یا بالکل نہ ہو، وہاں تشدد پنپتا ہے۔ زیرِ حراست بدسلوکی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات، مجرموں کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور قابلِ اعتماد نگرانی کے طریقہ کار ناگزیر ہیں تاکہ قانون حقیقی معنوں میں روک تھام کا ذریعہ بن سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرین کو بھی اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر بدسلوکی کی شکایت کر سکیں، جبکہ من مانی گرفتاری اور حراست کے خلاف عدالتی تحفظات پر کہیں زیادہ سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کی جانب سے تقریباً ایک دہائی قبل اجاگر کیے گئے خدشات پاکستان کے حالیہ جائزے میں بھی موجود ہیں۔ ان خدشات کا برقرار رہنا ان ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں اب تک تقریباً مکمل طور پر دور نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا مشاورت کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہیں۔ جیلوں کے قواعد کو آئینی ضمانتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، جبکہ حراستی مراکز یا تو ختم کیے جائیں یا انہیں آزادانہ نگرانی کے تحت سویلین جیلوں کے نظام میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد کے خلاف کنونشن کے اختیاری پروٹوکول (او پی سی اے ٹی) کی توثیق شفافیت کو مزید مضبوط کرے گی، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک آزاد احتیاطی طریقہ کار قائم ہوگا جسے تمام حراستی مقامات کا باقاعدگی سے معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل چیلنج قانون سازی کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ کا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چ   کا ہے، پاکستان کا انسدادِ تشدد کا قانونی ڈھانچہ اب قانون سازی کے اعتبار سے کمزور نہیں؛ اصل کمی عملدرآمد، سیاسی عزم اور ادارہ جاتی جواب دہی میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ان خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، زیرِ حراست تشدد نظامِ انصاف پر ایک مستقل بدنما داغ بنا رہے گا۔ اگرچہ بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، تاہم سول سوسائٹی، قانونی برادری، میڈیا اور تعلیمی اداروں کا بھی ایک اہم کردار ہے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دیں جو ہر شکل میں تشدد کو مسترد کرے اور جہاں بھی تشدد کا واقعہ پیش آئے وہاں جواب دہی کا مطالبہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے اپنی تشدد کے خلاف مہم کے تحت منعقدہ ایک گول میز اجلاس میں یہ مشاہدہ کہ 2022 کے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریونشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ کے نفاذ کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے، ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ قانون سازی، خواہ کتنی ہی ترقی پسند کیوں نہ ہو، اپنے طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ قانون کے نفاذ کو 4 سال گزرنے کے باوجود زیرِ حراست تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جو قانونی وعدوں اور انتظامی حقیقت کے درمیان ایک تشویشناک خلا کو ظاہر کرتی ہیں۔</strong></p>
<p>تشدد کی ممانعت آئینی تقاضا ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اتنی ہی اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ فوجداری انصاف کے نظام کے اعتبار اور ساکھ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی ریاست جو تشدد کی اجازت دیتی ہے، خواہ براہِ راست تشدد کے ذریعے یا اسے روکنے میں ناکامی کے ذریعے، اپنے اداروں پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔</p>
<p>وہ تحقیقاتی ادارے جو پیشہ ورانہ شواہد اکٹھے کرنے کے بجائے جبر پر انحصار کرتے ہیں، انصاف اور عدالتی عمل کی دیانت دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ناقابلِ اعتماد اعترافات سامنے آتے ہیں، جبکہ مناسب تفتیش اور مؤثر پولیسنگ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایچ آر سی پی کی مشاورت کے دوران اٹھائے گئے خدشات فوری توجہ کے مستحق ہیں۔</p>
<p>جیسا کہ معروف انسانی حقوق کی کارکن حنا جیلانی نے بجا طور پر نشاندہی کی، تشدد صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں ہے۔ نفسیاتی اذیت، طویل عرصے تک تنہائی میں رکھنا، دھمکانا اور ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کی دیگر صورتیں بھی اسی قدر دیرپا نقصان پہنچا سکتی ہیں اور قانون کے نفاذ کے نظام میں انہیں بھی اسی حیثیت سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اتنا ہی سنگین مسئلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح عملی طریقہ کار کا فقدان ہے۔ تشدد کو جرم قرار دینے والا قانون اس وقت تک مؤثر طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا جب تک پولیس افسران، جیل حکام اور تفتیش کاروں کو ایسے عملی رہنما اصول فراہم نہ کیے جائیں جو تشدد اور بدسلوکی کی روک تھام، دستاویز بندی، تحقیقات اور ایسے واقعات پر ردعمل کے لیے ضروری ہوں۔</p>
<p>بحث کے دوران جواب دہی کے زیادہ بنیادی مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا۔ جہاں سزا ملنے کا امکان بہت کم یا بالکل نہ ہو، وہاں تشدد پنپتا ہے۔ زیرِ حراست بدسلوکی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات، مجرموں کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور قابلِ اعتماد نگرانی کے طریقہ کار ناگزیر ہیں تاکہ قانون حقیقی معنوں میں روک تھام کا ذریعہ بن سکے۔</p>
<p>متاثرین کو بھی اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر بدسلوکی کی شکایت کر سکیں، جبکہ من مانی گرفتاری اور حراست کے خلاف عدالتی تحفظات پر کہیں زیادہ سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کی جانب سے تقریباً ایک دہائی قبل اجاگر کیے گئے خدشات پاکستان کے حالیہ جائزے میں بھی موجود ہیں۔ ان خدشات کا برقرار رہنا ان ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں اب تک تقریباً مکمل طور پر دور نہیں کیا گیا۔</p>
<p>لہٰذا مشاورت کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہیں۔ جیلوں کے قواعد کو آئینی ضمانتوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، جبکہ حراستی مراکز یا تو ختم کیے جائیں یا انہیں آزادانہ نگرانی کے تحت سویلین جیلوں کے نظام میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>تشدد کے خلاف کنونشن کے اختیاری پروٹوکول (او پی سی اے ٹی) کی توثیق شفافیت کو مزید مضبوط کرے گی، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک آزاد احتیاطی طریقہ کار قائم ہوگا جسے تمام حراستی مقامات کا باقاعدگی سے معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔</p>
<p>لہٰذا اصل چیلنج قانون سازی کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ کا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چ   کا ہے، پاکستان کا انسدادِ تشدد کا قانونی ڈھانچہ اب قانون سازی کے اعتبار سے کمزور نہیں؛ اصل کمی عملدرآمد، سیاسی عزم اور ادارہ جاتی جواب دہی میں ہے۔</p>
<p>جب تک ان خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، زیرِ حراست تشدد نظامِ انصاف پر ایک مستقل بدنما داغ بنا رہے گا۔ اگرچہ بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، تاہم سول سوسائٹی، قانونی برادری، میڈیا اور تعلیمی اداروں کا بھی ایک اہم کردار ہے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دیں جو ہر شکل میں تشدد کو مسترد کرے اور جہاں بھی تشدد کا واقعہ پیش آئے وہاں جواب دہی کا مطالبہ کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289817</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 10:02:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/111000588ad1f28.webp" type="image/webp" medium="image" height="387" width="516">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/111000588ad1f28.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
