<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 21:27:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 21:27:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹائل سیکٹر کا انتباہ، گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال سے برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289803/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ ملک گیر گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے ٹیکسٹائل کی پیداوار اور برآمدی کھیپوں کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ شعبے نے وزیراعظم شہباز شریف سے معاملے کے فوری حل کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کو الگ الگ خطوط میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹ کی مسلسل بندش سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی سپلائی چین اور برآمدی کھیپیں متاثر ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکر آپریٹرز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اپنی خدمات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، جبکہ حالیہ ٹول ٹیکس میں اضافہ بھی واپس لے کر نرخ 30 جون 2024 کی سطح پر لائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹرز کے دیگر مطالبات میں ودہولڈنگ ٹیکس 7 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کرنا بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے اپنے بیان میں کہا، ’’ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ہڑتال کے باعث برآمدی کنٹینرز، درآمدی روئی کے کنٹینرز اور مقامی روئی کی ترسیل کے لیے ٹرک دستیاب نہیں ہیں۔ اس صورتحال سے برآمدی کھیپوں کی روانگی، بندرگاہوں سے درآمدی روئی کی منتقلی اور منڈیوں سے مقامی روئی اٹھا کر ملوں تک پہنچانے کا عمل براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/APTMAofficial/status/2086749392669945988'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/APTMAofficial/status/2086749392669945988"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس نے مزید کہا کہ سیزن کے اختتام پر ٹیکسٹائل ملوں کے پاس روئی کا ذخیرہ پہلے ہی کم ہوتا ہے۔ اگر درآمدی اور مقامی روئی بروقت ملوں تک نہ پہنچ سکی تو پیداوار متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں برآمدات، روزگار اور زرمبادلہ کی آمدنی کو نقصان پہنچے گا۔ کارگو کی نقل و حرکت میں خلل صنعت اور برآمدات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی رکاوٹوں کے باعث برآمدی کھیپوں کی ترسیل میں تاخیر، مالی نقصانات اور ملوں کے آپریشنز میں تعطل پیدا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ 8 اگست سے جاری ملک گیر ہڑتال کے باعث ملک بھر میں خام مال اور برآمدی کھیپوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کا انحصار بلاتعطل ٹرانسپورٹ پر ہے تاکہ درآمدی اور مقامی سطح پر حاصل کیے جانے والے خام مال کو پیداواری یونٹس تک پہنچایا جا سکے اور تیار شدہ برآمدی کھیپیں بروقت بندرگاہوں تک پہنچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط کے مطابق برآمدی کنٹینرز معمول کے مطابق نقل و حرکت نہیں کر پا رہے، درآمدی خام مال بندرگاہوں پر پھنس گیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر خریدی گئی روئی اور دیگر ضروری خام مال کو بھی ٹیکسٹائل ملوں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی نے تسلیم کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات ایسے معاملات سے متعلق ہیں جن کے حل کے لیے حکومت کی مختلف سطحوں اور محکموں کے درمیان رابطہ کاری درکار ہے۔ تاہم، کونسل نے خبردار کیا کہ تعطل برقرار رہنے سے معیشت کو پہنچنے والا نقصان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے اعلیٰ ترین سطح پر فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کی کہ متعلقہ حکومتی حکام اور ٹرانسپورٹ شعبے کے نمائندوں کو ایک میز پر لایا جائے تاکہ ہڑتال کا جلد از جلد حل نکالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں جولائی تا جون پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 0.26 فیصد کے معمولی اضافے سے 17.93 ارب ڈالر رہیں، جو مالی سال 2024-25 میں 17.88 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ ملک گیر گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے ٹیکسٹائل کی پیداوار اور برآمدی کھیپوں کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ شعبے نے وزیراعظم شہباز شریف سے معاملے کے فوری حل کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کو الگ الگ خطوط میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) اور پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹ کی مسلسل بندش سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی سپلائی چین اور برآمدی کھیپیں متاثر ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکر آپریٹرز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اپنی خدمات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، جبکہ حالیہ ٹول ٹیکس میں اضافہ بھی واپس لے کر نرخ 30 جون 2024 کی سطح پر لائے جائیں۔</p>
<p>ٹرانسپورٹرز کے دیگر مطالبات میں ودہولڈنگ ٹیکس 7 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کرنا بھی شامل تھا۔</p>
<p>اپٹما نے اپنے بیان میں کہا، ’’ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ہڑتال کے باعث برآمدی کنٹینرز، درآمدی روئی کے کنٹینرز اور مقامی روئی کی ترسیل کے لیے ٹرک دستیاب نہیں ہیں۔ اس صورتحال سے برآمدی کھیپوں کی روانگی، بندرگاہوں سے درآمدی روئی کی منتقلی اور منڈیوں سے مقامی روئی اٹھا کر ملوں تک پہنچانے کا عمل براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/APTMAofficial/status/2086749392669945988'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/APTMAofficial/status/2086749392669945988"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس نے مزید کہا کہ سیزن کے اختتام پر ٹیکسٹائل ملوں کے پاس روئی کا ذخیرہ پہلے ہی کم ہوتا ہے۔ اگر درآمدی اور مقامی روئی بروقت ملوں تک نہ پہنچ سکی تو پیداوار متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں برآمدات، روزگار اور زرمبادلہ کی آمدنی کو نقصان پہنچے گا۔ کارگو کی نقل و حرکت میں خلل صنعت اور برآمدات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی رکاوٹوں کے باعث برآمدی کھیپوں کی ترسیل میں تاخیر، مالی نقصانات اور ملوں کے آپریشنز میں تعطل پیدا ہوا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا، پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ 8 اگست سے جاری ملک گیر ہڑتال کے باعث ملک بھر میں خام مال اور برآمدی کھیپوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>کونسل نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کا انحصار بلاتعطل ٹرانسپورٹ پر ہے تاکہ درآمدی اور مقامی سطح پر حاصل کیے جانے والے خام مال کو پیداواری یونٹس تک پہنچایا جا سکے اور تیار شدہ برآمدی کھیپیں بروقت بندرگاہوں تک پہنچ سکیں۔</p>
<p>خط کے مطابق برآمدی کنٹینرز معمول کے مطابق نقل و حرکت نہیں کر پا رہے، درآمدی خام مال بندرگاہوں پر پھنس گیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر خریدی گئی روئی اور دیگر ضروری خام مال کو بھی ٹیکسٹائل ملوں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>پی ٹی سی نے تسلیم کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات ایسے معاملات سے متعلق ہیں جن کے حل کے لیے حکومت کی مختلف سطحوں اور محکموں کے درمیان رابطہ کاری درکار ہے۔ تاہم، کونسل نے خبردار کیا کہ تعطل برقرار رہنے سے معیشت کو پہنچنے والا نقصان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔</p>
<p>کونسل نے اعلیٰ ترین سطح پر فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کی کہ متعلقہ حکومتی حکام اور ٹرانسپورٹ شعبے کے نمائندوں کو ایک میز پر لایا جائے تاکہ ہڑتال کا جلد از جلد حل نکالا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں جولائی تا جون پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 0.26 فیصد کے معمولی اضافے سے 17.93 ارب ڈالر رہیں، جو مالی سال 2024-25 میں 17.88 ارب ڈالر تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289803</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 19:00:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/10185433ac483c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/10185433ac483c5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
