<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 14:40:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 14:40:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب بینک پنجاب حکومت کو 30 ارب روپے تک کے عام حصص جاری کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289783/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بینک آف پنجاب نے پنجاب حکومت کو 30 ارب روپے تک کے عام حصص نان رائٹس ایشو کے ذریعے جاری کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ ان حصص کی سبسکرپشن جون 2027 تک 2 مرحلوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسٹڈ بینک نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو جاری کردہ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تجویز دی ہے کہ تمام متعلقہ ریگولیٹری اور کارپوریٹ منظوریوں سے مشروط طور پر پنجاب حکومت کو رائٹس ایشو کے علاوہ عام حصص جاری کیے جائیں۔ اس کے تحت 30 ارب روپے تک کی ایکویٹی سبسکرپشن 2 مرحلوں میں کی جائے گی، جس میں 31 دسمبر 2026 تک 20 ارب روپے تک جبکہ باقی رقم 30 جون 2027 تک حاصل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ حصص کے اجرا کی قیمت 38.20 روپے فی عام شیئر ہوگی، تاہم اگر اجرا کے وقت بینک کے عام حصص کی مارکیٹ قیمت 38.20 روپے فی شیئر سے زیادہ ہوئی تو اس صورت میں قابلِ اطلاق اجرا قیمت موجودہ مارکیٹ قیمت کے علاوہ 5 فیصد پریمیم پر مقرر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب نے کہا کہ مجوزہ حصص کا اجرا بینک کے شیئر ہولڈرز سے غیر معمولی جنرل میٹنگ (ای جی ایم) کے ذریعے تمام مطلوبہ منظوریوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں، بشمول اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے منظوری حاصل کرنے سے مشروط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب 1989 میں قائم کیا گیا تھا اور پاکستان کا ایک نمایاں سرکاری شعبے کا کمرشل بینک ہے۔ بینک نے نمایاں ترقی کی ہے اور اب یہ ملک کا دوسرا سب سے بڑا سرکاری شعبے کا کمرشل بینک بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے بینک آف پنجاب کو بحرین میں اوورسیز ہول سیل بینکنگ یونٹ قائم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اصولی منظوری بھی مل گئی تھی، جو بینک کے بین الاقوامی دائرہ کار کو وسعت دینے کے منصوبوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بینک آف پنجاب نے پنجاب حکومت کو 30 ارب روپے تک کے عام حصص نان رائٹس ایشو کے ذریعے جاری کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ ان حصص کی سبسکرپشن جون 2027 تک 2 مرحلوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔</strong></p>
<p>لسٹڈ بینک نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو جاری کردہ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>بینک آف پنجاب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تجویز دی ہے کہ تمام متعلقہ ریگولیٹری اور کارپوریٹ منظوریوں سے مشروط طور پر پنجاب حکومت کو رائٹس ایشو کے علاوہ عام حصص جاری کیے جائیں۔ اس کے تحت 30 ارب روپے تک کی ایکویٹی سبسکرپشن 2 مرحلوں میں کی جائے گی، جس میں 31 دسمبر 2026 تک 20 ارب روپے تک جبکہ باقی رقم 30 جون 2027 تک حاصل کی جائے گی۔</p>
<p>مجوزہ حصص کے اجرا کی قیمت 38.20 روپے فی عام شیئر ہوگی، تاہم اگر اجرا کے وقت بینک کے عام حصص کی مارکیٹ قیمت 38.20 روپے فی شیئر سے زیادہ ہوئی تو اس صورت میں قابلِ اطلاق اجرا قیمت موجودہ مارکیٹ قیمت کے علاوہ 5 فیصد پریمیم پر مقرر کی جائے گی۔</p>
<p>بینک آف پنجاب نے کہا کہ مجوزہ حصص کا اجرا بینک کے شیئر ہولڈرز سے غیر معمولی جنرل میٹنگ (ای جی ایم) کے ذریعے تمام مطلوبہ منظوریوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں، بشمول اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے منظوری حاصل کرنے سے مشروط ہوگا۔</p>
<p>بینک آف پنجاب 1989 میں قائم کیا گیا تھا اور پاکستان کا ایک نمایاں سرکاری شعبے کا کمرشل بینک ہے۔ بینک نے نمایاں ترقی کی ہے اور اب یہ ملک کا دوسرا سب سے بڑا سرکاری شعبے کا کمرشل بینک بن چکا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے بینک آف پنجاب کو بحرین میں اوورسیز ہول سیل بینکنگ یونٹ قائم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اصولی منظوری بھی مل گئی تھی، جو بینک کے بین الاقوامی دائرہ کار کو وسعت دینے کے منصوبوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289783</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 12:23:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/10122032d7553f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/10122032d7553f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
