<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:08:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:08:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عبوری معاہدے کی خلاف ورزی جاری رہی تو امریکا سے مذاکرات نہیں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289758/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور تہران اس وقت تک بات چیت شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے ایران کے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تہران اور مسقط کے درمیان ایک معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، تاہم اس کے نتیجے میں اہم بحری گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے میں ان نئے بحری راستوں کی وضاحت کی جائے گی جنہیں اس وقت استعمال کیا جائے گا جب امریکا دیگر شرائط پوری کر دے گا اور آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور تہران اس وقت تک بات چیت شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی بند نہیں کرتا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کا امریکی تاوان اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملے شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اسلامی جمہوریہ جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور نہ ہی میزائلوں یا اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے کو دھمکا سکے۔ امریکہ نے جون میں ایران کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن جولائی میں خلیج میں ایرانی جہاز رانی پر دوبارہ ناکابندی عائد کر دی، جسے تہران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جو پہلے ہی ناکام ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا ایک بار جب کسی رکاوٹ کے بغیر تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے معاہدے کا اعلان ہو جائے گا تو امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کر دے گا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی بیانات سے ایک ایسے معاہدے کی طرف نازک قدموں کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے بارے میں ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس کے تحت تہران کو آبنائے کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر کنٹرول ملنے کا امکان ہے، جسے شپنگ کمپنیوں نے عملی طور پر مشکل قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کی تازہ ترین صورتحال واضح نہیں تھی اور ایران کے ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقچی نے کہا کہ آبنائے کو دوبارہ کھولنا امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے وسیع حملوں کے تاوان (تلافی) سمیت دیگر شرائط پر منحصر ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کے ادارے کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر نے بھی ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کے خاتمے، ایران اور اس کے لبنانی، فلسطینی، یمنی اور عراقی اتحادیوں کے خلاف جارحیت کی روک تھام، ایران پر سے ناکابندی اور پابندیاں ہٹانے اور ایرانی اثاثے بحال کرنے کی شرائط عائد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران نے اس کی ریاستی آئل کمپنی سے منسلک ایک جہاز پر حملہ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حوثیوں کا سعودی ریفائنری پر حملہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے ساتھ ساتھ یمن میں مقیم اس کے اتحادی حوثیوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن کے درمیان جزیرہ نما عرب کے دوسرے کونے پر واقع تیل کے ایک اور اہم بحری راستے پر جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے یمن میں سعودی محاصرے کا دعویٰ کرتے ہوئے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکابندی کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم ریاض نے اس الزام کی تردید کی ہے جو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے اتوار کو سعودی آرامکو کی جیزان ریفائنری پر حملہ کیا، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کی شیعہ ایران کے ساتھ جنگ سے پیدا ہونے والی علاقائی عدم استحکام کے جواب میں سعودی عرب کی جانب سے اپنے سنی مسلم اتحادیوں ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کے دو دن بعد ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ ریفائنری میں آگ لگ گئی تھی جسے بعد میں بغیر کسی جانی نقصان کے بجھا دیا گیا اور حکام واقعے سے نمٹ رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کے ملٹری ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ حوثیوں نے ریفائنری کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا۔ وہ اس سے قبل بھی جنوبی مغربی سعودی عرب میں جیزان (جو روزانہ 4 لاکھ بیرل خام تیل صاف کرتی ہے) اور بحیرہ احمر پر واقع ينبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ عدن میں قائم حکومت کے تین ذرائع کے مطابق، انہوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا  پر بھی حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ پاکستان یا ترکیہ تازہ ترین حملوں پر کسی بھی سعودی ردِعمل میں کیسے یا کس طرح شامل ہوں گے۔ترک وزیرِ خارجہ ہاقان فیدان نے کہا کہ نیا اتحاد ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ سلامتی کے لیے باہمی تعاون کا ایک عام عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کی صورت میں اتحادی باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گے کہ کس حد، شکل اور طریقہ کار کے تحت مدد کی درخواست کی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور تہران اس وقت تک بات چیت شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔</strong></p>
<p>عباس عراقچی نے ایران کے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تہران اور مسقط کے درمیان ایک معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، تاہم اس کے نتیجے میں اہم بحری گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے میں ان نئے بحری راستوں کی وضاحت کی جائے گی جنہیں اس وقت استعمال کیا جائے گا جب امریکا دیگر شرائط پوری کر دے گا اور آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔</p>
<p>ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور تہران اس وقت تک بات چیت شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی بند نہیں کرتا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔</p>
<p><strong>ایران کا امریکی تاوان اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ</strong></p>
<p>امریکہ نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملے شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اسلامی جمہوریہ جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور نہ ہی میزائلوں یا اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے کو دھمکا سکے۔ امریکہ نے جون میں ایران کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن جولائی میں خلیج میں ایرانی جہاز رانی پر دوبارہ ناکابندی عائد کر دی، جسے تہران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جو پہلے ہی ناکام ہو چکی تھی۔</p>
<p>ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا ایک بار جب کسی رکاوٹ کے بغیر تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے معاہدے کا اعلان ہو جائے گا تو امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کر دے گا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گے۔</p>
<p>امریکی بیانات سے ایک ایسے معاہدے کی طرف نازک قدموں کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے بارے میں ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس کے تحت تہران کو آبنائے کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر کنٹرول ملنے کا امکان ہے، جسے شپنگ کمپنیوں نے عملی طور پر مشکل قرار دیا تھا۔</p>
<p>معاہدے کی تازہ ترین صورتحال واضح نہیں تھی اور ایران کے ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوں گے۔</p>
<p>عراقچی نے کہا کہ آبنائے کو دوبارہ کھولنا امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے وسیع حملوں کے تاوان (تلافی) سمیت دیگر شرائط پر منحصر ہو گا۔</p>
<p>ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کے ادارے کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر نے بھی ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کے خاتمے، ایران اور اس کے لبنانی، فلسطینی، یمنی اور عراقی اتحادیوں کے خلاف جارحیت کی روک تھام، ایران پر سے ناکابندی اور پابندیاں ہٹانے اور ایرانی اثاثے بحال کرنے کی شرائط عائد کیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران نے اس کی ریاستی آئل کمپنی سے منسلک ایک جہاز پر حملہ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔</p>
<p><strong>حوثیوں کا سعودی ریفائنری پر حملہ</strong></p>
<p>آبنائے ہرمز کی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے ساتھ ساتھ یمن میں مقیم اس کے اتحادی حوثیوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن کے درمیان جزیرہ نما عرب کے دوسرے کونے پر واقع تیل کے ایک اور اہم بحری راستے پر جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے یمن میں سعودی محاصرے کا دعویٰ کرتے ہوئے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکابندی کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم ریاض نے اس الزام کی تردید کی ہے جو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے اتوار کو سعودی آرامکو کی جیزان ریفائنری پر حملہ کیا، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کی شیعہ ایران کے ساتھ جنگ سے پیدا ہونے والی علاقائی عدم استحکام کے جواب میں سعودی عرب کی جانب سے اپنے سنی مسلم اتحادیوں ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کے دو دن بعد ہوا ہے۔</p>
<p>سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ ریفائنری میں آگ لگ گئی تھی جسے بعد میں بغیر کسی جانی نقصان کے بجھا دیا گیا اور حکام واقعے سے نمٹ رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی۔</p>
<p>حوثیوں کے ملٹری ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ حوثیوں نے ریفائنری کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا۔ وہ اس سے قبل بھی جنوبی مغربی سعودی عرب میں جیزان (جو روزانہ 4 لاکھ بیرل خام تیل صاف کرتی ہے) اور بحیرہ احمر پر واقع ينبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ عدن میں قائم حکومت کے تین ذرائع کے مطابق، انہوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا  پر بھی حملے کیے ہیں۔</p>
<p>یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ پاکستان یا ترکیہ تازہ ترین حملوں پر کسی بھی سعودی ردِعمل میں کیسے یا کس طرح شامل ہوں گے۔ترک وزیرِ خارجہ ہاقان فیدان نے کہا کہ نیا اتحاد ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ سلامتی کے لیے باہمی تعاون کا ایک عام عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کی صورت میں اتحادی باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گے کہ کس حد، شکل اور طریقہ کار کے تحت مدد کی درخواست کی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289758</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 19:28:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/09174953f449cc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/09174953f449cc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
